کورونا سے مزید 7اموات،645نئے مریض رپورٹ،درجنوں طلبہ وائرس زدہ نکلنے پر پنجاب،بلوچستان میں مزید 16سکول،ایک یونیورسٹی سیل

کورونا سے مزید 7اموات،645نئے مریض رپورٹ،درجنوں طلبہ وائرس زدہ نکلنے پر ...

  

 اسلام آباد،لاہور،وزیر آباد، سوہدرہ(سٹاف رپورٹر، جنرل رپورٹر،نا مہ نگاران،نمائندہ خصوصی، نیوز ایجنسیاں) کورونا وائرس سے ملک بھر میں مزید 7 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار 415 ہوگئی، جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید 645نئے مریض سامنے آنے سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھ کر3 لاکھ 5 ہزار 31 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپر یشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد6 ہزار 572 ہوگئی،اب تک کورونا وائرس میں مبتلا 2 لاکھ 92 ہزار 044 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار 362، پنجاب میں 98 ہزار 272 خیبرپختونخوا 37 ہزار 270، اسلام آباد میں 16 ہزار 86، بلوچستان میں 14 ہزار 138، آزاد کشمیر 2 ہزار 491 اورگلگت بلتستان میں 3 ہزار 412 تعداد ہوگئی ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے بعد بلوچستان میں بھی کورونا کیسز سامنے آنے پر 16 سکول اور ایک یونیورسٹی بند کر دی گئی۔کورونا کے خطرات کم نہ ہوئے، تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد کیسز سامنے آگئے، طلبہ اور سٹاف کے متاثر ہونے پر چاروں صوبوں میں کئی تعلیمی ادارے بند کرا دئیے گئے۔پنجاب میں سکول کھلنے کے بعد 32 بچے اور 2 ملازمین کورونا کا شکار ہوگئے۔ سندھ میں تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد 89 بچوں اور ملازمین میں کورونا کی تصدیق ہو چکی۔بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آگئے۔ کوئٹہ، ژوب، گوادر اور ڈیرہ بگٹی میں 10 سکول اور ایک یونیورسٹی بند کر دی گئی۔خیبرپختونخوا میں 13 اساتذہ میں مہلک وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ٹانک اور مالاکنڈ کے دو سکولوں میں ایک، ایک کلاس روم بند کر دیا گیا، دیر بالا کے نجی سکول سے بھی دو کیس سامنے آگئے۔ ادھر وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ میں محکمہ صحت نے مختلف سکولوں میں 200کے قریب طلبہ میں کورونا کی تشخیص کیلئے رینڈم ٹیسٹنگ کی،جن میں سے 24بچوں کی  رپورٹس مثبت آنے پر2 سکولوں کو دوبارہ غیر معینہ مدت کیلئے سیل کردیا گیا۔ جن بچوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ان میں 12کا تعلق تحصیل وزیر آباد کے سکولوں سے ہے جبکہ دیگر کا تعلق مختلف علاقوں سے ہے۔ متاثرہ بچوں کو گھروں میں ہی قرنطینہ کردیا گیا ہے جبکہ تحصیل بھر میں وزیر آباد،گکھڑ، گورنمنٹ پبلک ہائی سکول اور نجی سکولوں نت کلاں روڈ گکھڑ، عادل گڑھ، ورپال چٹھہ، کے سکولوں میں بھی طلبہ کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے۔دوسری جانب دوبارہ سے کورونا وائرس کے سر اٹھانے پر بازاروں میں رش کے معاملہ کیساتھ شادی ہالز اور ہوٹلوں میں کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑائے جانے کے معاملہ پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ادھر ننکانہ صاحب میں بھی 7طلبہ میں کورونا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جس پر  دو سکول سیل کردیے گئے۔بھکر، لود ھر اں میں ایک ایک بچہ جبکہ 2سکولوں کے 2ملازمین کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے، ننکانہ صاحب میں ایک سرکاری اور ایک نجی سکول سیل کردیا گیا۔ کورونا ٹیسٹنگ کیلئے 14746 سرکا ری، 1566 پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ کے نمونے لیے جاچکے ہیں، 2سے زائد بچوں میں کورونا وائرس کی تصدیق پرسکول 5دن سیل کردیا جائیگا۔صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا تھا کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے تمام ضروری انتظامات کیے جارہے ہیں، 50فیصد بچے ایک دن اور50فیصد اگلے روز سکول آیا کریں گے۔ پنجاب بھر میں جس بھی سکول سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شکایات ہوں گی انہیں فوری طور پر سیل کردیا جائیگا۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا یہ بھی کہنا تھا مڈل اور پرائمری سکول کھولنے کے شیڈول میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا،کورونا وائرس کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹرپراپنے ٹویٹ میں انکامزید کہنا تھا کورونا کی لہر میں تیزی اور سکولوں کے طلبہ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے باوجود حکومت کا مڈل کلاسیں شیڈول کے مطابق کھولنے پر اصرار ہے۔طلبہ، اساتذہ اور ان کی فیملیز کی صحت ہر حال میں یقینی بنائیں گے۔ادھر صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے اچانک حیدرآباد کے سکولوں اور کالجز کا دورہ کیا، ایس او پیزپر عمل نہ کرنیوالے استاد اور سٹاف کی سرزنش کی، وہیں سکول میں طالبات کی حاضری کی کمی کا نوٹس لیا، تدریسی عمل کا جائزہ لیا، اساتذہ اور سٹاف کے ماسک نہ پہنے پر نوٹس لیا، ایس او پیز پر عمل مکمل درآمد کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے۔دوسری طرف وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ طلبہ کی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے، کوئی بھی فیصلہ وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق ہی کیا جائے گا، 6 ماہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کو بری طرح متاثر کیا۔

کورونا،سکول،طلبہ 

مزید :

صفحہ اول -