آج اے پی سی،اپوزیشن حکومتی کارکردگی کا جائزہ،آئندہ کا لائحہ عمل پیش کرے گی،حکومت مخالف قراردادوں کی منظوری متوقع،نواز شریف کے بعد آصف زرداری کی شکرت کی بھی تصدیق،قائد مسلم لیگ (ن)مجرم،خطاب کیا تو قانون حرکت میں آئیگا:حکومت

آج اے پی سی،اپوزیشن حکومتی کارکردگی کا جائزہ،آئندہ کا لائحہ عمل پیش کرے ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اپوزیشن جماعتوں کی کثیر الجماعتی کانفرنس (اے پی سی)آج بروزاتوار دن بارہ بجے اسلام آباد کے ایک جی فائیو ہوٹل میں منعقد ہوگی۔ اے پی سی پہلے کلب روڈ پر ایک ہوٹل میں ہونا تھی تاہم شرکاء کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اے پی سی کا مقام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اے پی سی میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائیگاجبکہ اپوزیشن جماعتیں اپنے آئندہ کا لائحہ عمل بھی مرتب کریں گی۔کا نفرنس میں حکومت مخالف قراردادوں کی بھی منظوری دی جائیگی اور اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سمیت پریس کانفرنس بھی ہوگی۔ کانفرنس میں شرکت کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپنے اپنے وفود کا اعلان کردیا ہے۔جماعت اسلامی اس کا حصہ نہیں ہوگی۔ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کانفرنس میں ویڈ یو لنک کے ذریعے شرکت کریں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج ہونیوالی اے پی سی میں اپنے والد آصف زرداری کی شرکت کی تصدیق کردی ہے۔بلاول نے بتایا آصف زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہوں گے۔  ترجمان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اے پی سی میں شرکت کیلئے 11 رکنی وفد کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق لیگی وفد کی قیادت مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کریں گے جبکہ مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز بھی وفد کا حصہ ہوں گی۔اے پی سی میں شرکت کرنیوالے وفد کے دیگر ن لیگی ارکان میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال، ایاز صادق، پرویز رشید، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ، امیر مقام اور مریم اورنگزیب بھی شامل ہوں گے،، قبل ازیں مسلم لیگ (ن) نے آل پارٹیز کانفرنس کیلئے 6 ناموں کااعلان کیا تھا جو بعد ازاں منسوخ کر دیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کیلئے(ن) لیگ نے سفارشات کو حتمی شکل دیدی ہے۔ نواز شریف کا آڈیو خطاب ایجنڈے کی ابتدائی منظوری کے بعد ہو گا۔ ذرائع کے مطابق(ن) لیگ اے پی سی میں مڈ ٹرم الیکشن کی تجویز دے گی، ن اور شین گروپ کا تاثر زائل کرنے کیلئے مریم نواز کو وفد میں شامل کیا گیا۔ ن لیگ حکومت ہٹاؤ مہم چلانے کیلئے نومبر میں عوامی جلسوں کی بھی تجویز دے گی، حکومت مخالف تحریک کیلئے مشترکہ فنڈز قائم کرنے کی بھی سفارش کی جائے گی۔ اسمبلیوں کے باہر ہفتہ وار مشترکہ احتجاج کا شیڈول دینے کی تجویز بھی دی جائیگی۔دریں اثنا پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو ٹیلی فون کیا اور ان کی صحت سے متعلق خیریت دریافت کی، جبکہ اے پی سی میں بی این پی کا وفد بھیجنے کے فیصلے پر اظہار تشکر کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی ٹیلی فون کیا اور انہیں آج ہونیوالی اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جسے ڈاکٹر عبدالمالک نے قبول کرلیااور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری نے بی این پی عوامی کے سربراہ اسرار اللہ زہری سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو بھی ٹیلی فون کیا اور انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی، جسے آفتاب شیرپاؤ نے قبول کرلیا اور شرکت کی یقین دہانی کروائی۔

اے پی سی 

اسلام آباد،لاہور (سٹاف رپورٹر، جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور مشیر برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نواز شریف اورمتحدہ بانی میں زیادہ فرق نہیں، ایک نے لندن رہ کر، ایک نے ملک کے اندر پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،مجرم خطاب کرے گا توقانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ مجرم نے کل کونسی نئی بات کرنی ہے۔اسلام آباد میں مشیر احتساب شہزاد اکبر کیساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کی روشنی میں ہمیں ایسے اقدامات کرنے تھے جن سے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں قانون سازی کرنی تھی اور اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔یہ شرط عائد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ماضی میں ہمارے حکمران منی لانڈرنگ میں ملوث تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اسے روکنے کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی اور نہ ہی ایسے اقدامات کیے کہ ادارے اس بیماری کو روکیں۔سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا ہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں بڑے عرصے سے تھے اور ان کی حکومتوں میں تھے، ہمارے پاس دو چوائس تھیں کہ اس سے نکل جائیں یا بلیک لسٹ میں چلے جائیں اور ہمیں یہ دیکھنا تھا کیا بہتر ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کی کوشش تھی کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کے لیڈرز کیلئے کیا اہم ہے۔وزیر اعظم کے مشیر احتساب اور داخلہ کا کہنا تھا ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کے سلسلے میں مالی معاملات میں ایسی شقیں درکار تھیں جس سے مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ جیسی چیزوں کا سدباب ہو سکے۔ایف اے ٹی ایف کے جائزہ عمل کو بھی سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ کوئی ایک ادارہ نہیں بلکہ اس میں اقوام عالم کے لوگ ہوتے ہیں اور دوسرے ممالک کے لوگ آپ کے ملک کے قوانین کا دوسرے ممالک سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں اور اسی تناظر میں یہ طے کرتے ہیں کہ آپ کے قوانین اتنے سخت یا نرم ہیں کہ جو چیزیں درکار ہیں اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ موثر ہیں یا نہیں۔معاون خصوصی نے کہا ٹرسٹ، وقف، دہشتگردوں کی مالی معاونت سمیت مختلف قوانین میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اصلاحات کا کہا گیا تھا، ہمارا ایف اے ٹی ایف کا سیکریٹریٹ ہے جس میں تمام اداروں کی نمائندگی ہے، سٹیک ہولڈرز اس کا حصہ ہیں۔پاکستان گرے لسٹ چلا گیا تو اب خطرہ تھا ہم بلیک لسٹ میں چلے جائیں گے تو ایسے میں ایک ذمہ دار حکومت کا یہ فرض ہے کہ یہ چیزیں نہ ہوں اور پاکستان گرے لسٹ سے نکل کر دوبارہ وائٹ میں آ جائے۔ اپوزیشن سے مذاکرات کی اندرونی کہانی یہ ہے کہ اپوزیشن کے مدنظر سب سے اہم چیز یہ تھی کہ اس پورے پیکج کے بدلے ہمیں کیا ملے گا اور ان کی ایک ہی ڈیمانڈ تھی نیب کے قانون کی 38 شقوں میں 34 ٹانکے لگا دیے جائیں لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے ان کا یہ مطالبہ ختم ہو گیا۔شہزاد اکبر نے کہا  آخر میں اپوزیشن کی سوئی اینٹی منی لانڈرنگ بل پر آ کر اٹک گئی، اینٹی منی لانڈرنگ پہلے آرڈیننس کی صورت میں 2007 میں لاگو ہوا، 2010 میں پارلیمان سے قانون بنا کسے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کہا گیا، جب اس قانون کا جائزہ لیا گیا تو اس میں کافی خامیاں تھیں جس کی نشاندہی کی گئی اور طے کیا گیا کہ ان خامیوں کو دور کر کے قانون کو بہتر کیا جائے گا کیونکہ اس قانون میں کافی خامیوں کی وجہ سے ہی یہ جعلی اکاؤنٹس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھ کر حکومت نے ایک ڈرافٹ تیار کیا، اسے مذاکرات کیلئے اپوز یشن سے شیئر کیا گیا اور ان تمام مذاکرات کے دوران ان کی نیت واضح ہو گئی کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کا ٹی ٹی والا کیس فوراً بند ہو جائے، آصف زرداری اور ان کے حوار یوں کے جعلی اکاؤنٹس والے کیسز بند ہو جائیں اور اس کے روح رواں شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا اس ڈیل کے چکر میں میرے کیسز بھی بند ہو جائیں۔ادھرپنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے دھمکی دی ہے کہ نوازشریف مفرور، اشتہاری ہیں، سیاسی طور پر ریاستی معاملات پرمداخلت کی تواس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکامزید کہنا تھا شہبازشریف کے معاملات سیٹ ہیں، نوازشریف کی سیاست ختم ہوچکی، شہباز شریف سیاست خطرے میں نہیں ڈالیں گے، اس اے پی سی کا نتیجہ صفرجمع صفر ہے۔ فضل الرحمان کو حلوہ نہیں احتساب اور ڈنڈے کا جلوہ نظرآئے گا، منی لانڈرنگ کوتحفظ دینے کیلئے اپوزیشن کی آج ہونیوالی  اے پی سی الائیڈ پارٹیز فارپروٹیکشن آف کرپشن، ایجنڈا لوٹ مار کو تحفظ دینا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نہ کھاتے ہیں نہ کھانے دیتے ہیں، ان لوگوں کوجگ ہنسائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا، اپوزیشن کولگتا ہے کہ حکومت ایف اے ٹی ایف پرسمجھوتہ کرے گی،اپوزیشن کی کچھ دو اورکچھ لوکی پالیسی ناکام ہوگی۔ نوازشریف، حسن نواز، حسین نواز، علی عمران، اسحاق ڈار، سلیمان شہبازکو بھیج کرجیل بھروتحریک شروع کریں۔فیاض چوہان نے کہا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اہم قانون سازی کے موقع پر اپوزیشن کے جو 31 لوگ نہیں آئے وہ نوازشریف اور آصف زرداری کی مرضی سے نہیں آئے۔ مریم نواز اور نواز شریف کو شکنجے سے باہر رکھنے کیلئے ماحول بنایا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ایک ہی کہانی ہے۔ اگر مریم نواز اے پی سی میں آ گئیں تو اس کا بھی بیڑا غرق ہوجائیگا۔شہباز شریف خود کو اور اپنے بیٹے کو بچانا چاہتے ہیں، مریم نواز ایک گھنٹہ دھوپ میں احتجاج کر کے دکھا دیں، بلاول بھٹو 41 سینٹی گریڈ میں احتجاج کر لیں میں انہیں سیاسی لیڈر مان لوں گا۔دوسری طرف وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹوئیٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اپوزیشن کی اے پی سی کے دوران نواز شریف کا خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر آپشن استعمال ہوں گے، کیسے ممکن ہے مفرور مجرم سیاسی سرگرمیاں کرے اور بھاشن دے۔ شریف خاندان جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا، اتنے جھوٹے ہیں کہ بیماری پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔

حکومت ردعمل

مزید :

صفحہ اول -