ضابطہ فوجداری کے مختلف سیکشنز کی تشریح، اخراجات مقدما ت کے طریقہ کار کا تعین کردیا 

    ضابطہ فوجداری کے مختلف سیکشنز کی تشریح، اخراجات مقدما ت کے طریقہ کار کا ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ضابطہ فوجداری کے مختلف سیکشنز کی تشریح کرتے ہوئے ملزموں کے خلاف مقدمات کے اخراج کے طریقہ کار کا تعین کردیاہے اس سلسلے میں مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن نے تفصیلی فیصلہ جاری کیاہے جس میں ضابطہ فوجداری کے سیکشن 63،169،164، 167اور497کی تشریح کرتے ہوئے قراردیاہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ازخود ملزمان کو مقدمات سے خارج نہیں کرسکتے،ضابطہ فوجداری کے سیکشن 63کامطلب یہ نہیں کہ مجسٹریٹ خود ہی ملزموں کو ڈسچارج کردے،ضابطہ فوجداری کے سیکشن 167کے تحت پولیس کی طرف سے ملزموں کا جسمانی ریمانڈ طلب کرنے کے مرحلہ پر مجسٹریٹ مقدمہ خارج کرنے کا اختیاراستعمال نہیں کرسکتااور نہ ہی وہ تفتیش کے ابتدائی مرحلہ پر ملزموں کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا مجاز ہے،جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 169کے تحت پولیس رپور ٹ پر کارروائی کرے گا،پولیس اگر ڈسچارج رپورٹ یا چالان پیش کرتی ہے تو جوڈیشل مجسٹریٹ اس کا آزادانہ ذہن کے ساتھ جائزہ لے کر حکم جاری کرے گا،اگر پولیس ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتی ہے اور جوڈیشل مجسٹریٹ ملزموں کو ڈسچارج کردیتاہے تویہ نظام عدل کے اصولوں کے منافی ہوگا،مجسٹریٹ کا ایسا کرنا سیکشن 497کی رو ح کے برعکس ہوگا،فاضل جج نے یہ آبزرویشنز ڈسکہ کے شہری افتخاراحمد کی درخواست پر جاری کی ہیں،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے دھوکہ دہی کے الزام میں دو افراد کے خلاف تھانہ موترہ میں مقدمہ درج کروایا،پولیس نے ملزموں کو جسمانی ریمانڈ کے لئے جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول ڈسکہ کی عدالت میں پیش کیا،مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ دینے کی بجائے ملزموں کو مقدمہ سے ہی ڈسچارج کردیا،مجسٹریٹ نے ملزموں کے دستخط شدہ پیسے وصول کرنے کے بیان حلفی کوبھی نظر اندازکیاجوجسمانی ریمانڈ کی درخواست کے ساتھ لف کیا گیاتھا،مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن نے جوڈیشل مجسٹریٹ کا حکم کالعدم کرتے ہوئے متعلقہ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ حکم جاری کیاہے کہ دونوں ملزموں کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے لیے ڈسکہ کے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے جوجسمانی ریمانڈ کے حوالے سے دوبارہ فیصلہ کریں گے،تفتیشی افسر قانون کے مطابق ملزموں کے خلاف گواہوں اور متاثرہ فریقین کا بیان قلمبند کریں، عدالت نے مزید قراردیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ڈسکہ کادونوں ملزموں کو حقائق کے برعکس گرفتار کرنے کافیصلہ درست نہیں،قانون کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزموں کی گرفتاری کے بعد تفتیش مکمل کرنا تھی، ملزموں کی گرفتاری کے فوری بعد اورتحقیقات مکمل کئے بغیر علاقہ مجسٹریٹ کاانہیں رہا کرنا قانون کے برعکس ہے۔ 

فیصلہ جاری 

مزید :

صفحہ آخر -