سوشل میڈیا پرنسل نوکو کنفیوژ، تاریخ پاکستان کو مسخ کرنیکی سازش ہو رہی ہے 

        سوشل میڈیا پرنسل نوکو کنفیوژ، تاریخ پاکستان کو مسخ کرنیکی سازش ہو رہی ...

  

 لاہور(سٹی رپورٹر) پاکستان اور بانی پاکستان کے متعلق نسل نو کے ذہنو ں میں کنفیوژن پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے، سوشل میڈیا کو تاریخ پاکستان کو مسخ کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے، نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کو پاکستان اور قائداعظمؒ کے بارے منفی پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ تاریخ نہ صرف درست بلکہ ہر لحاظ سے مکمل ہونی چاہیے اور ایوانِ قائداعظمؒ میں قائم دستاویزی مرکز کو اس حوالے سے رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار شرکاء نے نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے تحت ایوانِ قائداعظمؒمیں دستاویزی مرکز کے قیام کے سلسلہ میں مشاورتی اجلاس میں کیا۔ میاں فاروق الطاف کی زیر صدارت اجلاس میں ڈاکٹر صفدر محمود، سینیٹر ولید اقبال، بیگم مہناز رفیع، چوہدری نعیم حسین چٹھہ، خوشنود علی خان، پروفیسر احمد سعید، ڈاکٹر مجاہد منصوری،پروفیسر عطاء الرحمن‘ میاں حبیب اللہ‘ رؤف طاہر‘ ڈاکٹر پروین خان‘ بیگم خالدہ جمیل‘ بیگم صفیہ اسحق‘ کاشف ادیب جاودانی‘ شہباز خان‘ احمد تاثیر انور‘ منصور احمد بٹ‘ محمد اسد امیر‘ محمد لطیف انجم اور رانا دلدارنے شرکت کی۔ڈاکٹر صفدر محمود نے کہا کہ پاکستان کی نئی نسل کے ذہن کو انتشار کا شکار بنانے کے لئے قائداعظم محمد علی جناحؒ، قراردادِ پاکستان‘ قراردادِ مقاصد‘ مادرِ ملتؒ کی کتاب ”میرا بھائی“ کے حوالے سے تاریخی لحاظ سے بے بنیاد باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کو اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے اس غلط پراپیگنڈے کا توڑ کرنا چاہیے۔ اس دستاویزی مرکز کو وطن عزیز کا سب سے مستند اور بہترین ریسرچ سنٹر بنایا جانا چاہیے۔ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ ہماری آج کی قیادت قائداعظمؒ ثانی تو بننا چاہتی ہے مگر افکار قائداعظمؒ پر عمل کرنا گوارا نہیں کرتی۔ سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ ایوانِ قائداعظمؒ میں دستاویزی مرکز اساتذہئ کرام‘ طلبا و طالبات‘ محققین‘ اہل علم و ادب اور عام قارئین کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ ہمیں اپنی سوچ کو نئی نسل کی سوچ سے ہم آہنگ کرنا ہوگا‘ تب ہی وہ ہماری باتوں کا اثر قبول کرسکیں گے۔ممتاز محقق پروفیسر احمد سعید نے کہا کہ قابل صد افسوس ہے کہ پاکستان میں تحقیق کا کام نچلی ترین سطح تک جاچکا ہے۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کو اپنے اس دستاویزی مرکز کے لئے کاغذات میں دفن تاریخ کو سکین کروا کر ہمیشہ کے لئے محفوظ بنانے کی کوشش کرنا چاہیے اور باقی ماندہ جناح پیپرز کی بھی اشاعت کی کوشش کرنی چاہیے۔ 

 نظریہئ پاکستان ٹرسٹ

مزید :

صفحہ آخر -