کورونا: متاثرین میں معمولی اضافہ!

کورونا: متاثرین میں معمولی اضافہ!

  

کورونا کنٹرول کی قومی کمیٹی کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران ملک بھر میں 34اور سکول ملازم کورونا سے متاثر ہوئے اور چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا سے 9 اموات ہوئیں اور  752 نئے مریض سامنے آئے۔ یوں کورونا، وبا میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ  ایس او پیز کی خلاف ورزی کے الزام میں مزید 18تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں۔ کراچی اور سندھ میں طلباء، ملازمین اور اساتذہ کے ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے سندھ حکومت نے23 ستمبر سے مڈل سکول کھولنے کا فیصلہ موخر کرنے کی بات کی، جس کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اختلاف کیا اور کہا تعلیمی ادارے کھولنے کی تاریخیں متفقہ طور پر مشاورت سے طے ہوئی تھیں،اِس لئے حکومت سندھ کو موخر کرنے کے لئے بھی مشاورت کرنا چاہئے۔وفاقی سطح پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔یہ درست کہ فروری کے بعد سے تعلیمی ادارے بند رہنے سے طلباء کی تعلیم کا بہت حرج ہوا،تاہم یہ سب مجبوری تھی کہ بچوں کو اس وبا سے بچایا جائے، اب جبکہ کورونا میں کمی ہو گئی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی بحال کر دیئے گئے تو تعلیمی ادارے بھی مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ ہوا،اس کا واضح مقصد یہی تھا کہ کورونا کے پھیلاؤ یا اس سے متاثرین کا جائزہ لیا جائے۔اب اگر پہلے میں مثبت ٹیسٹ والے طلبا، اساتذہ اور ملازم سامنے آئے اور عام لوگوں میں بھی متاثرین کی تعداد بڑھی ہے تو یہ قابل ِ غور معاملہ ہے۔این سی او سی کے مطابق ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں۔یہ اقدام اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے،تاہم حکومت کی طرف سے مسلسل جو یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان کورونا کی وبا سے نکل آیا اس سے لاپروائی بہت زیادہ بڑھ گئی،حالانکہ خود حکومت نے ایس او پیز بنائے اور نافذ کئے،لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ عوام اب کوئی پروا نہیں کر رہے، اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی خدشات ثابت ہونا شروع ہو گئے ہیں،لہٰذا نونہالوں (طلباء و طالبات) کے تحفظ اور کورونا کو دوبارہ نہ بڑھنے دینے کے لئے احتیاط لازم ہے اور پھر سے غور کر لینا غلط نہیں، بہتر یہی ہو گا کہ جہاں تعلیمی اداروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے مزید معلومات حاصل کر کے مشاورت کی جائے، وہاں عوام کو بھی حفاظتی اقدامات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -