اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی

  

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) آج اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ہو رہی ہے،جس میں مسلم لیگ(ن) کا ایک بڑا وفد صدر شہباز شریف کی صدارت میں شریک ہو گا، محترمہ مریم نواز بھی وفد کاحصہ ہوں گی،ڈرامائی طور پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آخری وقت پر ایک اہم سیاسی چال یہ چلی ہے کہ لندن میں مقیم مسلم لیگ(ن) کے رہبر میاں نواز شریف کی ٹیلی  فون پر خیریت دریافت کی اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں وڈیو لنک سے خطاب کی دعوت دے دی ہے،اور امکان ظاہر کیا ہے کہ وہ اس واسطے کے ذریعے اجلاس میں شریک ہو جائیں گے،مریم نواز نے اس رابطے کو  سراہا ہے، تاہم پارٹی کے سینئر ر ہنما اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ نواز شریف اجلاس میں بذریعہ انٹرنیٹ شریک ہوں گے یا نہیں۔

نواز شریف کو چونکہ ایک عدالت نے اشتہاری قرار دے رکھا ہے اور دوسری نے اپیل کیس میں طلب کر رکھا ہے،اِس لئے مخالفین اس پر یوں حاشیہ آرائی کر رہے ہیں کہ جو ”ملزم“ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتا وہ سیاست کر رہا ہے، اُن کی لندن میں چہل قدمی یا کسی ریستوران میں کافی پیتے تصویروں پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں،جب وہ روانہ ہوئے تھے تب بھی کہا گیا تھا کہ وہ بھاگ بھاگ کر ائر ایمبولینس میں سوار ہوئے تھے، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انہیں ایک ویل چیئر پر بٹھا کر لفٹر کے ذریعے سوار کرایا گیا تھا،لیکن تبصرہ نگاروں نے یا تو جان بوجھ کر اس پہلو کو نظر انداز کیا یا پھر یہ سوچ کر ”بھاگ بھاگ کر سوار“ ہونے والی بات اُڑا دی کہ جاتے ہوئے کس کس نے وہ منظر دیکھا ہو گا،جس میں وہ لفٹر کے ذریعے سوار کرائے جا رہے تھے،اب جب تک اے پی سی ہو نہیں جاتی اور یہ معلوم ہو نہیں جاتا کہ وہ اجلاس میں ”شریک“ ہوئے یا نہیں، اُس وقت تک الیکٹرانک میڈیا پر تبصروں کے لئے بڑا وقت ہے اور ایک مفرور ”ملزم“ کی جانب سے ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کو گناہِ کبیرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،وہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے تب بھی اور نہ ہوئے تب بھی تبصروں کی زد میں رہیں گے، کہنے والے کہیں گے کہ انہوں نے اجلاس سے خطاب کر دیا تو اُنہیں سیاسی فائدہ پہنچ جائے گا، نہ کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُن کی اندر خانے کوئی انڈر سٹینڈنگ ہے۔

ابھی اے پی سی کا کوئی ایجنڈا سامنے نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ سیاسی رہنما کن کن امور پر غور کریں گے اور بالآخر کیا فیصلے ہوں گے،لیکن علمِ نجوم کی سیاست کرنے والے سیاست دانوں نے ابھی سے اس کانفرنس کو ناکام قرار دے دیا ہے، حکومت کے بڑے بڑے عہدیدار التزام کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اے پی سی حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، یہ کوئی تحریک تو سرے سے چلا ہی نہیں سکتی، حکومت اتنی مضبوط ہے کہ ایسی کانفرنسیں اس کا بال بیکا نہیں کر سکتیں یہ حکومت نہ صرف اپنے تین سال پورے کرے گی، بلکہ اگلے پانچ سال بھی اسی کی حکومت کے ہوں گے، حکومتی حلقوں کے نزدیک تو اس کانفرنس کی پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہیں ہے،لیکن حیرت ہے کہ جس کانفرنس کی ناکامی حکومت کے نزدیک دیوار پر لکھی ہوئی ہے اور جس کے انعقاد سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا اور جو اتنی مضبوط ہے کہ اگلے آٹھ سال تک بھی اُسے کوئی ہلا نہیں سکتا،اس کا ہر چھوٹا بڑا اسے اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہے کہ روزانہ اس کے بارے میں بیان دینا نہیں بھولتا،مقام کوئی بھی ہو،موقع کیسا بھی ہوا دوسرے فرمودات کے ساتھ ساتھ تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ اے پی سی تو ناکام ہو چکی، اس کا حاصل حصول تو کچھ نہیں، ایسے ہی اپوزیشن جماعتیں اپنا وقف ضائع کر رہی ہیں،یہاں تک کہ خود وزیراعظم نے کہہ دیا کہ اِن جماعتوں کے پاس تو کرنے کے لئے کوئی کام ہی نہیں،اِس لئے وہ ہر چند ماہ بعد اے پی سی کا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں، اب اگر نواز شریف بھی شریک ہو گئے تو پھر گرمی ئ گفتار کا تو کوئی کنارہ ہی نہیں ہو گا، حکومتی بزرجمہر اور اُن کے طنبورے ایسے ایسے تبصرے کریں گے کہ الامان و الحفیظ، بعض چینلوں پر تو الفاظ بھی ایسے استعمال ہوتے ہیں جیسے ایک ہی ٹکسال میں گھڑے گئے ہوں، نواز شریف نے کسی خطاب کی گستاخی کر دی تو پھر باور کرایا جائے گا کہ دیکھو ایک عدالتی ”مفرور“ کیسے خطاب کرتا ہے، عدالتوں میں نہیں آتا لیکن لندن کی سڑکوں پر چہل قدمیاں کر رہا ہے، اور ریستورانوں میں کافی کی چسکیاں لے رہا ہے، اب تو اس نے حد کر دی ہے اور اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں خطاب کر دیا ہے، تبصروں، تجزیوں اور بیانات کی یہ رونق اُس وقت تک لگی رہے گی، جب تک اے پی سی کا انعقاد ہو نہیں جاتا۔ انعقاد کے بعد جو صورتِ حال ہو گی پھر اس پر اظہارِ خیال ہو گا۔

نواز شریف اس اے پی سی سے خطاب کرتے ہیں یا نہیں، اس میں کوئی خاص شخصیات آتی ہیں یا نہیں، لیکن آج کانفرنس کا انعقاد بہرحال ہو جائے گا،اس میں اپوزیشن رہنماؤں کا اظہارِ خیال بھی ہو گا اور وہ سب کچھ کہا جائے گا، جو حکومت کے بارے میں اپوزیشن جماعتیں اکثر کہتی رہتی ہیں، کوئی تحریک چلانے کا اعلان ہوتا ہے یا نہیں، اسمبلیوں سے استعفوں کا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے یا حسب ِ سابق یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ پارلیمانی ایوانوں کے اندر بھی اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور باہر بھی۔اے پی سی میں کتنی جماعتیں آتی ہیں اور کتنی نہیں، یہ ساری باتیں اپنی جگہ، لیکن اس کانفرنس کا مجرد انعقاد ہی ایسا واقعہ ہے جسے حکومت نظر انداز نہیں کر سکتی،اگر یہ سب کچھ لاحاصل ہوتا، اور کانفرنس انتہائی بے وُقعت ایونٹ ہوتا تو اتنے سارے لوگ اپنے باقی کام کاج چھوڑ چھاڑ کر صرف اسی پر اظہارِ خیال نہ کر رہے ہوتے، اور بلا ناغہ بھاشن دینے کو اپنا قومی فریضہ نہ سمجھتے۔ حکومت تو کانفرنس کو کئی ہفتے پہلے ہی ناکام قرار دے چکی ہے، تاہم سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو اِس بات کا انتظار ہے کہ یہ ”ناکام“ کانفرنس کیا فیصلہ کر کے اُٹھتی ہے، ساری نگاہیں اسلام آباد پر مرتکز ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -