نظام کب ٹھیک ہوگا؟

نظام کب ٹھیک ہوگا؟
نظام کب ٹھیک ہوگا؟

  

وزیر اعظم عمران خان نے ابھی دو روز قبل ہی پٹواری کلچر ختم کرنے اور لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کی ہدایت کی۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ وہ جب سے برسر اقتدار آئے الیکٹرونک کی طرف متوجہ ہیں اور مختلف شعبوں کو ای۔ نظام پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے۔ ہمارے برادرم فواد حسین چودھری تو جب وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ہوئے۔ عید کے چاند کے پیچھے پڑ گئے اور ان کو شاید مفتی منیب بھی کچھ اچھے نہیں لگے تھے۔ تاہم گزشتہ دو ڈھائی ماہ چین سے گزر گئے اور چاند کا تنازعہ نہیں ہوا اگرچہ عید الضحیٰ کے حوالے سے پھر بھی دونوں کے درمیان ایک روز کا فرق آ گیا تھا بہر حال اب فواد چودھری کی زیادہ توجہ اپنے شعبہ کی طرف ہو گئی اور وہ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف دیکھنے اور درآمدات کی بجائے ہمیں خود اپنے ملک میں برآمدی ضرورت کا مال تیار کرنا اور درآمدی اشیاء کی بھی یہاں تیاری کرنا چاہئے اس سلسلے میں انہوں نے فی الحال سینی ٹائیزز،ر ماسک اور وینٹی لیٹرز کی طرف ہی توجہ دی ہے۔ اگرچہ بقول خود ملک میں کاریں اور بسیں بھی تیار ہونا چاہئیں۔ اسی حوالے سے انہوں نے الیکٹرک کاروں کی درآمد کے لئے بھی اجازت لے لی ہے۔ بہر حال یہ خیال اچھا ہے اور اگر اب تک ادھر توجہ نہیں تو پھر ان کو صرف بیان ہی نہیں دینا چاہئے آگے بڑھ کر عمل کی دنیا میں قدم رکھنا چاہئے۔

ہم نے بات شروع کی تھی وزیراعظم کی ہدایت سے اور یہ بھی بہتر قدم ہے۔ تاہم اس کے لئے بھی عمل کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق ان کے پاس ہر شعبہ کے بہترین ماہر موجود ہیں تو پھر یہ آن لائن سسٹم کیوں ٹھیک نہیں ہوتا؟ ان کو بار بار ہدایت کیوں کرنا پڑتی ہے۔ اب تک جس جس محکمے کا نظام بھی آن لائن کیا گیا ہے۔ وہ آن لائن کی مکمل سہولت بہم نہیں پہنچا رہا۔ ون ونڈو اور آن لائن کا نظام بھی عوامی مشکلات دور نہیں کر سکا۔ ہمیں بتایا گیا کہ بجلی لگوانے کے لئے بھی آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔ لیکن جب اس کا عملی مظاہرہ دیکھا تو حیرت ہوئی کہ ایک برخوردار نے آن لائن درخواست دی اس کے ساتھ تمام مطلوبہ دستاویزات بھی منسلک کی گئیں، اب وہ منتظر تھا کہ اسے ڈیمانڈ نوٹس یا کوئی اطلاع ملے تو کام آگے بڑھے۔ جب کئی روز گزر گئے تو وہ متعلقہ دفتر پہنچا اور استفسار کیا تو اسے بتایا گیا کہ اس کی درخواست کے مطابق فائل نہیں ہے۔ اس کو فائل کور سمیت درخواست اور تمام متعلقہ دستاویزات خود دفتر میں جمع کرانا تھیں۔ اب وہ حیران ہو گیا کہ یہ کیسا آن لائن نظام ہے کہ اسے پھر بھی چل کر درخواست (فائل) جمع کرانا ہے۔ حالانکہ اصولاً اس کی فائل متعلقہ دفتر کو خود بنا کر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کر کے آن لائن ہی واپس اطلاع دینا چاہئے تھی۔ اگر منظوری ہو تو متعلقہ درخواست دہندہ متعلقہ دستاویزات کے ساتھ دفتر جا کر ڈیمانڈ نوٹس وصول کر لیتا۔ لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہوا اور پھر سے درخواست (فائل بنا کر) جمع کرانا پڑی۔

ایسا ہی اتفاق خود ہمیں ہوا کہ اپنے گھر والے پلاٹ کے لئے ”بلڈنگ پیریڈ“ (تعمیر کے وقت میں) کی توسیع کے لئے آن لائن درخواست جمع کرائی۔ اس کے بعد اطلاع ملی کہ دفتر سے رجوع کریں۔ ایسا کرنا پڑا اور درخواست ایک کاؤنٹر پر جاکر جمع کرائی۔ ایل ڈی اے نے بھی ون ونڈو نظام بھی شروع کیا ہوا ہے۔ تاہم وہاں سائلین کی بھیڑ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ لوگوں کے کام بھی ہوتے ہیں تو لوگ خوار بھی ہوتے ہیں اور یہ خواری ”کلرک بادشاہ“ کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ ہم نے بہر حال درخواست جمع کرائی تو اس پر عمل کے لئے پندرہ روز کا وقفہ کر کے تاریخ دی گئی۔ یہ بھی اپنی جگہ ہم نے سوچا چلیں اگر دو ہفتے بعد بھی چالان مل جائے تو پیسے جمع کرا دیں گے کہ بلڈنگ پیریڈ کی توسیع ہو جائے۔ یہ سلسلہ حکومت نے 2013ء سے ختم کر دیا ہوا ہے۔ ہمارا قصور 2009ء سے 2013ء تک کا تھا۔ بہر حال پندرہ روز بعد جب مقررہ تاریخ پر کھڑکی پر پہنچے تو متعلقہ ”کلرک بادشاہ“ نے تھوڑا انتظار کرایا کہ وہ اپنی سیٹ چھوڑ کر ایک سائل کے ساتھ چلے گئے اور کچھ دیر بعد آئے۔ مقصد ہماری سمجھ میں تو آیا لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے تھے انہوں نے کمپیوٹر کی مدد سے بتایا کہ کیس التوا میں ہے اور ہمیں ایک اور کلرک بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔ ان کے پاس پہنچے تو قطار تھی۔ ایک کھڑکی سینئر سٹیزن والی تھی اور ہم بہر حال اس کیٹیگری میں شمار ہوتے ہیں لیکن یہاں کوئی عمل نہیں تھا اور ہمیں اپنی باری پر ہی پیش ہونا پڑا۔ اس کلرک بادشاہ نے ہمیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا راستہ بتایا اور ساتھ والی بلڈنگ میں جانے کو کہا۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر وہاں پہنچے۔ متعلقہ شعبہ کی خدمت میں رسید پیش کی تو بتایا گیا اے ڈی صاحب چھٹی پر ہیں۔ آپ سوموار کو آئیں۔ ہم نے دریافت کیا کہ اگر وہ چھٹی پر ہیں تو کیا کام بھی بند ہے۔ ان کی جگہ کوئی تو ہوگا جو ہمیں درست راستہ بتا سکے۔ تو وہ چڑ گئے جب ہم بھی اصرار پر اتر آئے تو مجبوراً وہ ہمیں ڈپٹی ڈائریکٹر کے کمرے تک لے گئے ان سے ملاقات ہوئی مدعا بیان کیا تو نیک باپ کے نیک سیرت صاحبزادے نے ہماری رسید سامنے رکھ کر کمپیوٹر سے کھیلنا شروع کیا اور چند ملحوں کے بعد ہی متعلقہ شعبہ کو فون کر کے کہا کہ فائل کیوں پڑی ہوئی ہے؟ ہدایت ہوئی تو صرف دس منٹ بعد جواب بھی آ گیا اور متعلقہ افسر نے ہمیں ہدایت کی کہ متعلقہ کاؤنٹر سے جا کر چالان فارم لے لیں۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور چلے آئے۔

ہمارے اس تجربے نے یہ بتایا کہ کمپیوٹر نے یہ کام دس منٹ میں کیا۔ جبکہ متعلقہ ون ونڈو نے ہمیں پندرہ روز کا وقت دیا تھا۔ پندرہ روز میں بھی یہ کام نہ ہوا، جو ای نظام کے تحت منٹوں کا نہ سہی گھنٹوں کا کام تھا اور اگر ہم متعلقہ مہذب افسر سے نہ ملتے تو یقیناً خوار ہو رہے ہوتے۔اسی حوالے سے ہم وزیر اعظم کی خدمت میں یہ عرض کرتے ہیں وہ خود اور فواد چودھری سمیت ان کے ہنر مند ساتھی ”کرپشن“ کا قلع قمع ضرور کریں اور اب نیب کو اپنا کام کرنے دیں، لیکن یہ جو کرپشن اور رکاوٹ عام آدمی کی سطح پر ہے اسے ٹھیک کرنے پر توجہ دیں کہ عام آدمی کو سہولت ملے نظام ٹھیک کرنے آئے ہیں تو پھر کریں تو سہی۔!

مزید :

رائے -کالم -