بھاگتی تحریریں 

بھاگتی تحریریں 
بھاگتی تحریریں 

  

آپ روز چھوٹا یا بڑا سفر کرتے ہیں۔ ڈیوٹی پر جاتے ہیں، سکول یا کالج جاتے ہیں یا پھر کاروبار کے لئے ایک سے دوسرے شہر سفر کرتے ہیں۔ یہ سفر آپ کی اپنی گاڑی پر یا پبلک ٹرانسپورٹ پر ہو سکتا ہے۔ آپ کبھی بڑی گاڑی پر یا پھر مو ٹر سائیکل پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران آپ مختلف گاڑیوں کو پاس کرتے ہیں یا مختلف گاڑیاں آپ کو کراس کرتی ہیں۔ تو آپ اکثر گاڑیوں کے پیچھے مختلف تحریریں دیکھتے ہیں،جو آپ کومسکرائے بغیر نہیں چھوڑتیں۔ یہ تحریریں دو یا تین لفظوں کی ہو تی ہیں، جبکہ بعض اوقات شعروں کی صورت میں بھی ہوتی ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوا ہو گا کہ آپ کی رفتار سے تیز گاڑی نے آپ کو کراس کیا اس کے پیچھے لکھی ہوئی تحریر پر آپ کی نظر پڑی، مگر اس کو آپ پوری طرح پڑھ نہیں سکے،جس سے آپ کو پوری تحریر پڑھنے کا کھچاؤ لگا، جب بھی آپ کی نظر کسی بھی گاڑی کے پیچھے تحریر پر پڑی تو آپ کو وہ آدھی تحریر یاد آ گئی۔ ایک بات ضرور ہے کہ ان تحریروں میں کشش ہوتی ہے جو پڑھنے والے کو متوجہ کرتی ہیں اور آپ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ چھوٹی تحریریں تیز رفتاری کے باوجود اکثرپڑھی جاتی ہیں،جبکہ شعر اکثر آدھے رہ جاتے ہیں۔ 

مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں گاڑیوں کے پیچھے تحریریں علاقائی زبان میں ہوتی ہیں،جو بہت دلچسپ لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر سرائیکی زبان، پنڈی کی پوٹھو ہاری زبان کی تحریریں بہت کشش رکھتی ہیں۔ وسطی پنجاب کی تحریریں زیادہ تر فلمی ڈائیلاگ یا چھیڑخانی پر مشتمل ہو تی ہیں۔ تاہم یہ تحریریں بے ہودہ نہیں ہوتیں۔ اگرچہ اندرون شہر رکشوں اور چاندگاڑیوں پر لکھی تحریریں کچھ مبہم ہوتی ہیں۔

ملاحظہ ہوں کچھ بھاگتی تحریریں۔ ”ہن آرام ای“  ”محسوس تے نئیں کیتا“  ”نوا ں آیاں ایں سوہنیاں“  ”ہور کوئی خدمت“  ”آ تیرے جن کڈاں“  ”حوصلہ رکھو بادشاہو“  ”ظالما تیرا ای انتظار اے“  ”سڑیا نہ کر برداشت کر یا کر“  ”اسی تے آپ وڈے عاشق آں“”زیادہ جلدی تے نئیں“  ”ساڈے نال نال چلو جی“  ”تینوں لے کے جانا ایں میانوالی“  ”رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے“  ”خرچا ساڈا نخرے لوکاں دے“ ۔ یہ تحریریں وسطی پنجاب کی ہیں۔ اب ملاحظہ ہوں سرائیکی تحریریں  ”ہور کیہ چاہیدا ای“  ”ڈو منٹ دی گل اے“  ”بس اسیں ویہندے پے آں“  ”تینڈیاں اوڈیکاں نیں“  ”شریکا مار گھتیسی“  ”تینڈے نخرے جگ توں وکھرے“ ”کتھے ویہندے پے او“  ”مینڈا سائیں ہوش کر“  ”ول کے آ پوتر“  ”گلاں کریندے آؤ“  ”بھراواں نال مقابلے نئیں تھیندے“ ”اللہ سائیں چنگیاں کریسی“ ”کتھے تک پچھا کریسیں“  ”بس سجن توں چھوڑ ویسیں“  ”تیں کوں یاد ہوسی“  ”کوئی گل نیئں فیر آساں“۔ اب آئیں پوٹھوہاری تحریروں کی طرف ”کداں جُلسو“  ”ہُن گھن تبدیلی دا مزہ“  ”ماڑھی چال زمانے نال“  ”مُنی بدنام ہوئی تمہارے لئے“  ”تُساں نال پیار ہوسی پر ہولے ہولے“  ” گل اکو ای ہونی آ“  ” کے پے تکنے او“  ”ماڑھا خیال کدوں آ سی“  ”کے سوچنے پے او“ ۔ بعض گاڑیوں کے پیچھے شعر لکھے ہوتے ہیں،جو زیادہ تر دکھی ہوتے ہیں بعض شعر مزاحیہ ہوتے ہیں جو شاعر کی اصل تحریر سے ہٹ جانے کی وجہ سے مزاحیہ بن جاتے ہیں۔ دُکھی شعر ملاحظہ ہوں۔”وہ جب بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا۔ یہی تو اک بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی“  ”ان پتھروں پر چل کر اگر آ سکو تو آؤ۔ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے“  ”اس کے ہوتے ہوے آ جاتی تھی ساری دنیا۔ آج تنہا ہوں تو کوئی  نہیں آنے والا“  ”جس کے غم مٹانے کو گیت گا رہا ہوں۔ اسی بیوفا کی خاطر ٹرک چلا رہا ہوں“  ”تجھے اپنا بنانا ہے یہ ضد ہے زمانے سے۔ 

محبت مٹ نہیں سکتی نہ کر کوشش مٹانے کی“  ”کانٹے بکھر رہے تھے بڑی تیز تھی ہوا۔ کانٹوں کے بستر پر ہم سوئے رات بھر“ ۔ اب کچھ مزاحیہ شعر ملاحظہ ہوں۔ احمد فراز کا اصل شعر یہ ہے  تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز۔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔ اب ملاحظہ ہو یہی شعر ڈرائیوروں کی شا عری میں ”تم تکلف کو بھی خلوص سمجھتے ہو فراز۔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا“۔ اصل شعروارث شاہ بناں عملاں نیئں نجات تیری پیا مریں قطب دیا بیٹیا اوے۔ ملاحظہ ہو عوامی انداز میں ”بناں عملاں نیئں نجات تیری پیا ماریں قطب دیا بیٹیا اوے“ محسن نقوی کا اصل شعر پڑھیے، جس کی قسمت میں لکھا ہو رونا محسن۔ وہ مسکرا بھی دیں تو آنسو نکل آتے ہیں۔ اب دیکھیں یہی شعر نیم شاعروں کے ہاتھوں میں ”جس کی قسمت میں لکھا ہو رونا محسن۔ وہ مسکراتے بھی ہیں تو آنسو نکل آتے ہیں“۔اسی طرح بسوں کے اندر مختلف اطراف میں آپ کو شعر لکھے ہوئے ملیں گے،جو کار پینٹروں کی خود ساختہ شاعری کا اعلی نمونہ ہوں گے۔شہروں کے اندر چلنے والے رکشوں اور چاندگاڑیوں پر بھی کچھ ایسی ہی تحریریں آپ کو ملیں گی۔ اگرچہ رکشوں اور چاندگاڑیوں پر تحریریں بعض اوقات تہذیب کے لحاظ سے معقول نہیں ہوتیں مثال کے طور پر ”نی باجی او ہ فیر آ گیا ای“  ”رکھ پیر چل شہر“  ”سوہنیوں اینج نیئں“  وغیرہ ہیں۔ رکشوں اور چاندگاڑیوں کی تحریریں نو جوان ڈرائیوروں کی ناکس تربیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ ہیں بھاگتی ہوئی تحریریں جو گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بھاگتی ہیں، جو پڑھنے والوں سے کبھی پوری پڑھی جاتی ہیں اور کبھی ادھوری۔یہ ہماری رفتار ہے جو ہمارے ذوق کے پیغام شہر شہر لئے پھرتی ہے جیسا کہ ”ہمارا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“۔

مزید :

رائے -کالم -