ٹیکس نہ دینے والے غریب امراء

ٹیکس نہ دینے والے غریب امراء
ٹیکس نہ دینے والے غریب امراء

  

جب سے یہ خبر سنی ہے کہ کئی ارکانِ اسمبلی حتیٰ کہ وفاقی وزراء بھی ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں دماغ سائیں سائیں کر رہا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں معمولی درجے کے کلرک بھی ایف بی آر کے شکنجے میں آ جاتے ہیں وہاں یہ بڑے بڑے ناموں اور گاڑیوں نیز بنگلوں والے کس طرح ٹیکس دیئے بغیر قوم کی نمائندگی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہاں ہیں ایف بی آر کے وہ کرتا دھرتا جو عام آدمی کو ٹیکس نوٹس بھیج دیتے ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے پر جرمانے کرتے ہیں، یہاں ان کی ساری مہارت کیوں زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کے کوائف خود ایف بی آر نے جاری کئے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کے اثاثوں، ان کے نام گاڑیوں اور دیگر تعیشات کی تفصیل ہی وہ جان لیتے تو انہیں اس طرح بے بسی کے ساتھ ان کی فہرست نہ جاری کرنا پڑتی، بلکہ ان کے ساتھ بھی وہ اسی طرح کا سلوک کرتے، جیسا عام آدمی کے ساتھ کرتے ہیں میں سرکار کی ملازمت سے ریٹائر ہونے کے باوجود ہر سال گوشوارے بھرتا ہوں، نہ بھروں تو نوٹس آ جاتا ہے اور یہ دھمکی بھی دی گئی ہوتی ہے کہ بیس ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ چھ لاکھ تک سالانہ آمدنی رکھنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے، مگر جن کی روزانہ آمدن چھ لاکھ روپیہ ہے وہ بغیر ٹیکس دیئے دندناتے پھر رہے ہیں، یہی نہیں، بلکہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر عوام کو ٹیکس دینے کا بھاشن بھی دیتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے پونے تین لاکھ ٹیکس دیا ہے۔ یہ ٹیکس غالباً ان کی اس تنخواہ سے کاٹا گیا ہے جو بطور وزیر اعظم انہیں ملتی ہے۔ اب اگر کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کئی مربعوں پر محیط بنی گالا میں رہنے والا ہمارا پیارا کپتان صرف پونے تین لاکھ سالانہ ٹیکس کیوں دیتا ہے تو انہیں یہ اعتراض کرنے کا حق ہے، کیونکہ انہی کے مقابلے میں ایک سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 24 کروڑ 13 لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے چلیں یہ فرض کر لیتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کا کوئی کاروبار نہیں اس لئے انہوں نے اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس دیا ہے اور شاہد خاقان عباسی چونکہ ایک ایئر لائن سمیت مختلف اداروں کے مالک ہیں، اس لئے انہوں نے زیادہ ٹیکس دیا ہے، مگر اس کی کیا توجیح پیش کی جا سکتی ہے کہ خوشحال زندگی گزارنے والے وزرا اور ارکانِ اسمبلی سرے سے ٹیکس ہی نہ دیں اور خود کو ملک کے ان غریبوں میں شمار کرلیں جو غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بات اس لئے بھی معیوب لگتی ہے کہ آپ ہمیشہ یہ تنقید کریں کہ پچھلے حکمران ملک کو لوٹ کر کھا گئے، انہوں نے محلات بنا لئے، بزنس امپائر کھڑی کر لیں وغیرہ، وغیرہ لیکن خود اپنا حال یہ ہو کہ قومی خزانے میں ایک پیسہ ٹیکس دینے کے روادار نہ ہوں۔ یہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا جن کی ایک موٹر سائیکل ہی لاکھوں روپے کی ہے، ہمیشہ ٹی وی پر آکر یہ رونا روتے ہیں کہ نوازشریف نے ملک کو کنگال کر دیا ہے، اس کے ساتھیوں نے قومی خزانے کو ڈاکوؤں کی طرح لوٹا ہے، مگر حیرت ہے کہ ان کا نام بھی ٹیکس نہ دینے والوں میں شامل ہے۔ اپوزیشن تو انہیں وزیر اعظم عمران خان کی دوسری اے ٹی ایم مشین کہتی ہے۔ عجب مشین ہے  جس میں قومی خزانے میں ڈالنے کے لئے ایک دھیلا بھی موجود نہیں۔ یہی وہ مثالیں ہیں جو پاکستان میں ٹیکس کلچر کو پروان نہیں چڑھنے دیتیں ایک عام آدمی کو آپ کیسے قائل کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے حصے کا ٹیکس دے، جبکہ عمالِ حکومت خود ٹیکس نہ دینے کی روایت پر عمل کر رہے ہوں۔ ہمارے تاجر ہمیشہ ٹیکس دینے کے نام پر چڑ جاتے ہیں۔ ہڑتالیں کرتے ہیں، ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ ان سے فکس ٹیکس لے لیا جائے، انہیں ایف بی آر کے ظالم اہلکاروں کے سپرد نہ کیا جائے، حیرت ہے کہ یہی ظالم اہلکار وزراء اور ارکانِ اسمبلی کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں ان کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے کہ صاحب آپ کی شاہانہ زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ آپ کی آمدنی قابلِ ٹیکس ہے، پھر آپ ٹیکس نیٹ سے باہر کیوں ہیں میرے نزدیک تو ایف بی آر نے یہ بھی ایک بڑا جرأت مندانہ کام کیا ہے کہ ٹیکس نہ دینے والے با اثر افراد کی فہرست عام کر دی وگرنہ تو اتنی بھی جرأت نہیں ہوتی کہ ایسے لوگوں کے نام ہی عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ وہ پہچان لیں کہ انہیں دیانتداری کا سبق دینے والے خود کس طرح بددیانتی کے مرتکب ہو رہے ہیں یہ تضاد ہماری اشرافیہ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

المیہ تو یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ یہ درس دیتے رہے ہیں کہ ہمیں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھانی ہے، ٹیکس چوری روکنی ہے، وہ یہ بھی فرماتے رہے ہیں کہ قوم اگر دیانت داری سے ٹیکس دے اور ایف بی آر میں کرپشن ختم ہو جائے تو ہمیں کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہ رہے۔ ایسے وزیراعظم کے ہوتے ہوئے بھی ان کی کابینہ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی اگر اپنے حصے کا ٹیکس نہیں دیتے تو اس تضاد کو آپ کیا کہیں گے؟ حیرت ہے کہ اس فہرست میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر نور الحق قادری کا نام بھی شامل ہے۔ وہ ایک صاحبِ حیثیت انسان ہیں اور صاحب کردار بھی ہیں، پھر انہوں نے کیسے خود کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھا ہوا ہے انہیں تو پوری کابینہ کے لئے مثال بننا چاہئے تھا کہ اپنے حصے کا ٹیکس مکمل ذمہ داری سے ادا کر رہے ہیں۔ سچی بات ہے مجھے تو ٹیکس نہ دینے والی حکومتی شخصیات کے نام پڑھ کر مایوسی ہوئی ہے، یہ مایوسی اس لئے بھی ہوئی ہے کہ عمران خان ہمیشہ شفافیت کی بات کرتے ہیں جبکہ خود ان کی ناک کے نیچے شفافیت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -