قرآن مجید کے نزول کے پندرہ سو سال بعد 

قرآن مجید کے نزول کے پندرہ سو سال بعد 
قرآن مجید کے نزول کے پندرہ سو سال بعد 

  

اللہ سُبحا ن تعالیٰ نے اپنے احکامات اور ہدایات اہلِ قریش کے درمیان بولی جانے والی عربی زبان میں القران کی شکل میں نبیؐ آخری الزماں پر حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے نازل کیں۔ عربی زبان کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس لئے کیا تھا کہ ہمارے نبی ؐکی یہ ماں بولی تھی، بلکہ اس لئے بھی کہ عربی زبان کی فصاحت، بلاغت، الفاظ کا ذخیرہ اور اُن کی بندش کا مقابلہ دنیا کی کوئی اور زبان نہ اُس وقت کر سکتی تھی اور نہ اَب کر سکتی ہے۔ 27 سالہ سفر گردی کی وجہ سے مجھے دنیا کی بڑی اور زندہ زبانوں کی تھوڑی سوج بوجھ ہے، خاص طور پر جرمن، اطالوی، ترکی، فارسی، سنسکرت زدہ ہندی، عربی اور بنگالی۔ دراصل تمام زبانیں سوائے عربی کے،اَنسانی ذہن کا ہو بہو ترجمہ نہیں کرسکتیں۔ اِن زبانوں میں ذخیرہ ِ الفاظ کی کمی ہے اور گرامر بھی مکمل اِظہار میں مدد نہیں دیتی۔ اس لئے دنیا کی قریباً ہر زبان بولنے والے کے ذہن اور اُس کی منشا کے ہو بہو اِظہار کے لئے گفتگو میں لہجے، جسمانی حرکات (Body language) آنکھوں اور چہرے کے اُتار چڑھاؤ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ زبان سے نکلے ہوئے کوئی بھی الفاظ صرف الفاظ ہوتے ہیں جن کا کوئی مطلب بھی ہوتا ہے، لیکن اُن الفاظ کی اصل تشریح بولنے والے کا، لہجہ کرے گا جس کے ذریعے سامع کو اُن الفاظ کے اصل مطلب کا پتہ چل سکے گا۔ تمام زندہ زبانوں کے بولے ہوئے الفاظ کو تحریر میں ظاہر کرنے کے لئے صر ف و نحو(Grammer)اور Punctuation  کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود تحریر شدہ الفاظ لکھنے والے کے ذہن کا مکمل منشا پڑھنے والے کے ذہن میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب کسی اچھی تحریر کی ہم تعریف کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ لکھنے والے نے تو اپنے خیالات کی تصویر کشی کر دی۔ 

زبان سے نکلا ہوا لفظ جب ضبطِ تحریر میں آتا ہے تو اُس کا اصل مدعا 10 فی صد Dilute ہو جاتا ہے اور اُس لفظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کر کے جب بیان کیا جاتا ہے تو اُس لفظ کا مزید 10 فیصد اصل مدعا تحلیل (Dilute) ہو جاتا ہے۔ قرآن کا نزول لکھے ہوئے لفظ کی طرح نہیں ہوا۔ قرآن کی زبان تو اہل قریش کی فصیح عربی تھی،لیکن اللہ تعالیٰ اپنا پیغام جو رسولؐ اللہ کو حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے پہچانا چاہتا تھا وہ قرأت کی صورت میں پہنچا۔ اِقْرَاْبِاسْمِ رَبَک الّذِي جب حضرت جبرائیل ؑ نے رسولؐ اللہ کو پڑھوایا تو حضرت جبرائیل ؑ کی قرأت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا فرمان مکمل طور پر نبیؐ آخری الزماں تک پہنچ گیا اور یوں قرأت کے ذریعے ہی قرآنی آیات نبی کریم ؐ کے ذریعے صحابہ کرام تک پہنچیں۔ حضرت عثمان  ؓ خلیفہ ِ سوئم کے زمانے میں قرآن مجید کا متن تحریری صورت میں محفوظ ہو گیا۔ قرآن مجید کو ضبطِ تحریر میں لاتے وقت عربی گرائمرکی علامات شامل کی گئیں، تاکہ قرآنی قرأت اور قرآن خوانی کے مطالب میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔ عربی گرائمر میں حرکات (vowels) سکون (full stop) اور عربی زبان کی Phonetics کی خصوصیت کو واضح کرنے کے لئے حروفِ تہجی پر ایک یا دو نقطے ڈال کر عربی کی تحریر کو زیادہ بلاغت اور فصاحت دی گئی۔

 میرے مضمون کا یہ حصہ، کلا سیکی عربی کا لہجہ اور اُس کی Phonetic (صوتی اثر)کی اہمیت پرروشنی ڈالتا ہے،کیونکہ ماضی میں جب اسلام غیر عربی دنیا میں پھیلا تو قرآنی عربی کے ترجمے کئے گئے۔ ترجمہ کرنے والوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کے باطنی اور ظاہری مفہوم کو مکمل طور پرنہیں سمجھا۔ کلاسیکی عربی جو اہل قریش بولتے تھے، اُسکی باریکیوں کو سمجھے بغیر نہ صرف مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے، بلکہ اپنے اپنے دور کے ہمعصری تقاضوں کے مطابق قرآنی الفاظ کی تشریح بھی کردی گئی اور پھر تفسیریں بھی لکھی گئیں۔ ہر نفسیر خوش نیتی سے لکھی گئی،لیکن اِن تفسیروں نے نومسلموں کے ذہنوں میں اِنتشار پیدا کردیا۔ مختلف الخیال تفسیروں کی وجہ سے مسلک بن گئے۔ قرآنی احکامات کی رُوح اور قرآنی ہدایات پر عملی مظاہرہ پسِ پشت ڈال دیا گیا اور مختلف مسالِک کو مقابلے میں کھڑا کر دیا گیا۔ دراصل قرآن کی اوّلین تفسیر رسولؐ اللہ ہی کے ذریعے صحابہ تک پہنچی کیونکہ جُوں ہی کوئی قرآنی آئت رسولؐ اللہ پر نازل ہوتی تھی، آنحضرت اُسی وقت نہ صرف کاتبانِ آیات کو لکھنے کی تلقین کرتے تھے،بلکہ اُس آئت کا وقت نزول، وجہہ نزول اور آئت کے نزول کا پس منظر بھی بتا دیتے تھے، اور یوں قرآن کی مکمل تفسیر رسول اللہ ؐ  کی حدیثوں کی شکل میں ہوتی رہی۔ نبی کریم ؐ کی رحلت کے بعد قریباً سو سال تک کسی تفسیر کی ضرور ت پیش نہیں آئی۔ 

حدیثوں کے بارے میں بھی مسلمان کے بڑے طبقے میں ابہام پیدا ہوگیا۔ کیونکہ بہت زیادہ ضعیف احادیث جو گمراہ کُن ہو سکتی تھیں، وہ بھی نبی کریم ؐ سے منسوب کر دی گئیں۔ اَب ہم 21 ویں صدی میں ہیں۔ قرآنی آیات کے ظاہری معنی تو ترجمے سے بھی سمجھ میں آجاتے ہیں، لیکن مخفی معنی جو اِنسانی فہم میں آسانی سے نہیں آسکتے تو اُن آیات کی تفسیر کوئی ایسا عالم ہی کر سکتا ہے جو کلاسیکی عربی جانتا ہو،بلکہ وہ عربی الفاظ کی ساخت (Morphology) کو بھی سمجھتا ہو۔  وقت گذرنے کے ساتھ مختلف ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی فہم  ِدین مقا می تہذیب سے خلط ملط ہو گئی۔ میَں نے اپنے کسی پچھلے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ کس طرح اور کیونکر دین میں مختلف تہذیبوں کی آمیزش ہوئی۔ سو فی صد خالص اسلام تو اَب دنیا میں نظر ہی نہیں آتا۔ نہ عرب ممالک میں اور نہ غیر عرب ممالک میں۔ اسلام صرف عبادات کا نام تو نہیں ہے۔ اصل اسلام ہے کہ ہمارا عقیدہِ وحدت پختہ رہے یعنی ہم کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلانہ ہوں۔ ہمارے اعمال، ہمارا اخلاق اور معاشرتی روّیہ اگر اسلامی نہیں ہو گا تو کیا فائدہ،اتنی کثیر تعداد میں مسجدوں کی تعمیرکا، عمرے اور حج کی بہتات کا، داڑھیاں اور اُؤنچے ٹخنوں والی شلواریں پہننے کا، تبلیغی طائفے دنیا میں بھیجنے کا، یہ سب کچھ اصل اسلام جو ہمیں قرآن مجید اور صحیح احادیث نے دیا ہے اُس کی ترجمانی نہیں کرتا۔ رسول اللہؐ کی رحلت سے آج تک 1500 سال بیت گئے ہیں ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کو ہمعصری حالات کے مطابق سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ 

اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات جامد رکھنے کے لئے نہیں بنائی تھی۔ وقت کی حرکت کیساتھ ہر لمحہ انسانی سوچ میں بھی حرکت پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ انسانی ذہن 1500 سال قبل کے زمانے میں رہ ہی نہیں سکتا۔اِنسان کے اِردگرد خارجی عوامل جو ایجادوں اور ٹیکنالوجی کی شکل میں پیش آتے ہیں، وہ اتنے زیادہ اور متنوع ہیں کہ پڑھا لکھا متّقی مسلمان بھی ذہنی خلفشار میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ آج کا پڑھا لکھا مسلمان سوال کرنا چاہتا ہے، لیکن مُلاؤں کے خوف سے اپنا منہ بند رکھتا ہے۔ قرآن مجید کی سچائی تو اٹل ہے، لیکن اس سچائی کو جس طور آج کی مسلمان نسل کو بتایا گیاہے، اُس نے متجسس ذہنوں کو انتشار میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید جب سات آسمانوں کا ذکر کرتا ہے اور جب آج کا سائنسی علم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ آسمان محض حدِ نظر ہے۔ سورج،سیارے، ستارے اور چاند ایک بسیط خلا میں اپنے اپنے مقرر شدہ راستوں پر رواں دواں ہیں، تو کیا خدا نہ خواستہ ہم قرآنی  الفاظ کو غلط سمجھ لیں؟ نہیں،بلکہ یہ کہیں کہ ہم نے قرآن مجید کے اصل معنی کو نہیں سمجھا۔ خلا (Space) میں جتنے بھی سیارے ہیں اُن کا اپنا اپنا آسمان ہے (جسے ہم حدِنظر کہتے ہیں)، سائنسدانوں کو یہ تو نہیں معلوم کہ آسمان (Space) میں گھومنے والے کسی اور سیارے میں زندگی ہے یا نہیں، لیکن قرآن مجید کے الفاظ کو عمیق نظر سے پڑھا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شائد اللہ تعالیٰ نے اور دنیائیں بھی بنائی ہیں جہاں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو ہمیں قرآن مجید کے ذریعے ترغیب دیتے ہیں کہ سوچو، غور کرو کہ یہ سب کائنات اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بنائی ہے اسے تسخیر کرو۔ معلوم نہیں ہم مسلمانوں سے قرآن کو سمجھنے میں کہاں غلطی ہو گئی ہے کہ ہم 1000 سال سے ذہنی طور پر بنجر ہو چکے ہیں۔ ہم تو ایک سوئی بھی ایجاد نہیں کر سکے۔ 

مزید :

رائے -کالم -