غیر ملکی ٹیموں کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ!

غیر ملکی ٹیموں کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ!

  

ویلکم …… ویلکم…… ویلکم

 پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے جلد کھلنے والے ہیں،جس کیلئے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے جلد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دروہ پاکستان کی امید ظاہر کردی۔ برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ انگلش کرکٹ ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے۔انھوں نے کہا کہ بہت جلد پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز پاکستان میں ہونے کی امید ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان کا کہنا ہے کہ ملک میں دنیائے کرکٹ کی 4 بڑی ٹیموں کے دورے کا امکان ہے۔ پرامید ہیں کہ اگلے 20 ماہ کے دوران آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی۔سب سے پہلے جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔جنوبی افریقہ جنوری 2021 میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔ جبکہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے حکام بھی یقین دہانی کروا چکے کہ ان کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ جبکہ رواں سال اکتوبر میں زمبابوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور نومبر میں پی ایس ایل کے بقیہ میچز کے سلسلے میں بھی غیر ملکی کرکٹرز پاکستان آئیں گے۔ پی سی بی نے واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی ٹیم کے پاس پاکستان کا دورہ نہ کرنے کا کوائی جواز باقی نہیں بچا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاک زمبابوے سیریز کے لیے کورونا ایس او پیز تیار کر لیے ہیں۔ انگلینڈ سیریز کی طرز پر احتیاطی اقدامات میں کھلاڑیوں کی بائیو سیکیور ببل میں منتقلی اور کورونا ٹیسٹنگ شامل ہیں۔ زمبابوے کے دورہ پاکستان کیلیے پی سی بی کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل دینے کے ساتھ کورونا پروٹوکول بھی بنا لیے گئے ہیں۔بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی بائیو سیکیور ببل میں منتقلی اور کورونا ٹیسٹنگ طے کردہ پروٹوکول میں شامل ہیں۔ پی سی بی آئندہ ایک دو روز میں کورونا ایس او پیز زمبابوے کرکٹ بورڈ کو ارسال کرے گا، زمبابوے کرکٹ بورڈ انتظامات پر نظرثانی کر کے اپنی حکومت سے حتمی اجازت لے گا۔ پی سی بی رواں ہفتے کے آخر میں زمبابوے کرکٹ بورڈ کے تحریری جواب کا متنظر ہے جبکہ زمبابوے کرکٹ ٹیم کی بیس اکتوبر کو پاکستان آمد متوقع ہے۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم اپنے دورے کے دوران تین ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز ملتان جبکہ تین ون ڈے میچز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔

 وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ ورلڈکپ میں پاکستان کاٹیلنٹ دنیاکونظرآئیگا،کرکٹ کے نئے نظام سے جب ٹیلنٹ پالش ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی، پاکستان میں جتنا ٹیلنٹ ہے وہ کسی اور ملک میں نہیں ہے،ہم اپنا کرکٹ کا ڈھانچہ درست کرلیں تو پاکستان ناقابل شکست ہوجائے گا،جس ملک میں سسٹم دو چیزیں ایک مقابلے کو بڑھائے اور میرٹ کو اوپر لے آئے وہ ہمیشہ ترقی کرے گا۔کرکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جتنی بھی کرکٹ کھیلی اس سے میں یہ سمجھا کہ پاکستان میں جتنا ٹیلنٹ ہے وہ کسی اور ملک میں نہیں ہے، ہمارا ٹیلنٹ ایک نظام نہ ہونے کے باوجود نکلتا تھا۔انہوں نے کہا کہ نظام کہ نہ ہونے کی وجہ سے کرکٹ کا ٹیلنٹ اوپر نہیں آپاتا تھا، ہمارے ملک میں اس طرح کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کلب سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے، جو اس کی نشاندہی کرتا تھا کہ ملک میں ٹیلنٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لیے میں ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ہم اپنا کرکٹ کا ڈھانچہ درست کرلیں تو پاکستان ناقابل شکست ہوجائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ تاہم بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے اس نظام کو تبدیل نہیں ہونے دیتے تھے، پاکستان کا کرکٹ کا نظام دیگر ممالک سے بالکل مختلف تھا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں  ایسا نظام ہے کہ جتنا اچھا مقابلہ ہوتا ہے اتنے اچھے کھلاڑی نکلتے ہیں، جس ملک میں سسٹم دو چیزیں ایک مقابلے کو بڑھائے اور میرٹ کو اوپر لے آئے وہ ہمیشہ ترقی کرے گا۔دوران خطاب انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا دنیائے کرکٹ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے جس کی وجہ ان کا نظام ہے، دنیا میں سب سے بہترین کرکٹ کا نظام آسٹریلیا میں ہے جو سب سے بہتر کرکٹ کو پالش کرتی ہے اور لوگ اوپر آتے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ٹیلنٹ تو نظر آجاتا ہے لیکن اس کو پالش کرنے کے نظام میں مسئلہ ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں 40 سال سے لگا ہوا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ جب مجھے اختیار ملا تو یہ نظام تبدیل کروں گا، ابھی جو ہم نظام لائے ہیں اس کے بارے میں مصباح الحق، محمد حفیظ اور اظہر علی کو سمجھایا اور بتایا کہ جب بھی اصلاحات ہوتی ہیں تو تھوڑے مسائل آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب جو ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام آیا ہے اس میں آپ دیکھیں گے کہ جب پاکستان کا ٹیلنٹ پالش ہوگا تو پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی۔

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹی 20کپتان بابر اعظم نے مختصر ترین دورانیے کی کرکٹ میں اپنے 5ہزار رنز مکمل کرلیے جبکہ انگلش ویٹالٹی بلاسٹ میں  62گیندوں پر 9چوکوں اور 5چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 114رنز کی اننگز کھیلی ہے۔تفصیلات کے مطابق انگلینڈ میں جاری ٹی 20بلاسٹ میں سمرسٹ اور گلیمورگن کے درمیان میچ میں بابر اعظم نے 5ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرلیا۔بابراعظم ٹی 20میں 5ہزار رنز بنانے والے چھٹے پاکستانی بیٹسمین ہیں۔ ان سے قبل شعیب ملک، محمد حفیظ، کامران اکمل، احمد شہزاد اور عمر اکمل بھی 5ہزار رنز مکمل کر چکے ہیں۔سنہ 2016میں انگلینڈ کے خلاف اپنا ٹی 20ڈیبیو کرنے والے بابر اعظم 29ٹیسٹ، 74ون ڈے، اور 41ٹی 20میچز کھیل چکے ہیں۔وہ اب تک ٹیسٹ میں 2ہزار 45اور ون ڈے میچز میں 3ہزار 359رنز بنا چکے ہیں۔قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انگلش ویٹالٹی بلاسٹ میں کانٹی گلیمورگن کے خلاف شاندار سنچری بنا ڈالی۔کارڈف کے میدان میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سمرسیٹ کاونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے 62گیندوں پر 9چوکوں اور 5چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 114رنز کی اننگز کھیلی ہے۔بابر اعظم کی شاندار سنچری کی بدولت سمرسیٹ گلیمروگن کو 184رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔اس سے قبل بابر اعظم چار میچز میں 14رنز کی اوسط سے صرف 58رنز اسکور کر پائے تھے۔جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی نئی ون ڈے رینکنگ میں بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا پہلا نمبر برقرار ہے جب کہ پاکستان کے ون ڈے کپتان بابراعظم تیسرے نمبر پر ہیں۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ون ڈے سیریز کے بعد آئی سی سی نے کھلاڑیوں کی نئی رینکنگ جاری کر دی ہے۔تازہ ترین رینکنگ کے مطابق بلے بازوں کی فہرست میں بھارت کے ویرات کوہلی کا پہلا نمبر برقرار ہے جب کہ بھارت ہی کے روہت شرما دوسرے اور پاکستان کے بابر اعظم تیسرے نمبر پر ہیں۔ٹاپ ٹین بلے بازوں کی فہرست میں بابر اعظم کے سوا کوئی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں ہے۔ امام الحق 11ویں اور فخر زمان 15ویں نمبر پر موجود ہیں۔بولرز کی ون ڈے رینکنگ میں نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ کا پہلا اور بھارت کے جسپریت بھمرا کا دوسرا نمبر ہے جب کہ ون ڈے بولرز کی رینکنگ میں انگلینڈ کے کرس ووکس ساتویں سے چوتھے نمبر پر آ گئے ہیں۔پاکستان کے محمد عامر ایک درجہ تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئے ہیں۔آل راونڈرز کی رینکنگ میں افغانستان کے محمد نبی کا پہلا جب کہ انگلینڈ کے کرس ووکس دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔آل راونڈرز کی رینکنگ میں پاکستان کے عماد وسیم بدستور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -