چوکیدار قتل‘ حادثات میں 3 افراد جاں بحق‘ نہر سے لاش برآمد

چوکیدار قتل‘ حادثات میں 3 افراد جاں بحق‘ نہر سے لاش برآمد

  

رحیم یارخان+ خانیوال + ڈہرکی  (بیورو رپورٹ‘ نمائندہ پاکستان‘ نامہ نگار) ڈالہ ویگن نے سڑک کنارے جانیوالے 55 سالہ شخص کو کچل ڈالا، موٹر سائیکل سوار میاں بیوی ویگن کو اوور ٹیک کرتے ہوئے سامنے سے آنیوالے موٹر سائیکل سے ٹکراگئے، خاتون سمیت 2 جاں بحق ہوگئے، تفصیل کے مطابق پہلا حادثہ کندھ کوٹ کے رہائشی 55 سالہ سفرالدین کے ساتھ پیش (بقیہ نمبر32صفحہ 6پر)

آیا جو سڑک کنارے جارہا تھا کہ اسی دوران پیچھے سے آنیوالے ویگو ڈالہ ویگن نے کچل ڈالا، شدید زخمی ہوجانے پر 55 سالہ سفرالدین کو طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے سفر الدین دم توڑ گیا جبکہ دوسرا حادثہ پل سنی کی رہائشی 35 سالہ شمیم بی بی کے ساتھ پیش آیا جو اپنے شوہر اکبر علی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی کہ ویگن کو اوور ٹیک کرتے ہوئے موٹر سائیکل بے قابو ہوکر سامنے سے آنیوالی موٹر سائیکل سے جاٹکرایا، شدید زخمی ہوجانے پر 35 سالہ شمیم بی بی کو انتہائی نازک حالت میں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 35 سالہ شمیم بی بی زخموں کی تاب نہ لاتے دم توڑ گئی۔ ہسپتال انتظامیہ نے کارروائی کے بعد جاں بحق ہونیوالے دونوں افراد کی نعشیں تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کردی ہیں۔  اڈہ کچی پکی کے قریب دو موٹرسائیکلوں میں تصادم سے 1 شخص جاں بحق 2 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق شخص کی شناخت سجادحسین ولد ممتاز حسین جبکہ زخمیوں میں طلحہ ولد فرید حسین,محمد شہزاد ولد فرید حسین سکنہ 79 پندرہ ایل شامل ہیں حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا-ریسکیو1122 نے ابتدائی طبی امداد کے بعد سول ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ لغاری کالونی کے نزدیک نہر میں تیرتی ہوئی نعش کو دیکھ کر مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دی جس نے موقع پر پہنچ کر نہر میں تیرتی ہوئی نعش کو مقامی افراد کی مدد سے نکال کر شناخت کی کوشش کی۔ تاہم شناخت نہ ہونے پر نعش کو شناخت و پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈہرکی میں نامعلوم افراد نے نجی موبائل کمپنی کے ٹاور پر ڈیوٹی کرنے والے چوکیدار کو بیدردی سے قتل کردیا ڈہرکی پولیس کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے کے خلاف مقتول کے ورثاء نے  نیشنل ھائی وے پر لاش رکھ کر احتجاج کیا، ڈہرکی کے نواحی گاؤں نؤکوٹ میں نجی موبائل کمپنی کے ٹاور کے چوکیدار سید عنایت شاہ کو گزشتہ رات دیر سے نامعلوم افراد نے چھروں سے وار کرکے زخمی کردیا، زخمی سید عنایت شاہ کو زخمی حالت میں تعلقہ ہسپتال ڈہرکی لے جایا گیا، جس کے بعد سید عنایت شاہ کو تعلقہ ہسپتال سے نازک حالت میں رحیمیار خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سید عنایت شاہ زخمیوں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے تعلقہ ہسپتال انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثہ کے حوالے کر دیا، مقتول عنایت شاہ کو گردن پر تیز دار آلے سے قتل کیا گیا ہے دوسری جانب مقتول عنایت شاہ کے ورثاء و سیاسی سماجی رہنماؤں سید منظور شاہ، سید ظفر شاھ، سائیں داد گولو، ھاشم فقیر و دیگر نے مقتول کی لاش کو نیشنل ھائی وے پر رکھ کر روڈ بلاک کر کے سخت احتجاج کیا ڈہرکی پولیس کے خلاف سخت ناری بازی کی اور ملزمان کو گرفتار کرنے اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا، اس موقع پر احتجاج کرنے والے متاثرین مقتول کے بھائی سید منظور شاہ، سائیں داد گولو و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید عنایت شاہ کو گردن پر تیز دار چھروں سے وار کرکے بیدردی کے ساتھ قتل کیا گیا ہے، انھوں نے کہا کے ڈہرکی پولیس مقتول کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کر رہی، انھوں نے آئی جی پولیس سندھ، ڈی آئی جی پولیس سکھر، ایس ایس پی گھوٹکی و دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کے وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔

لاش برآمد

مزید :

ملتان صفحہ آخر -