خیر پور ٹامیوالی، لڑکی نے بھائی، والدین کی ڈانٹ پر زہر پیا، حقائق بے نقاب

  خیر پور ٹامیوالی، لڑکی نے بھائی، والدین کی ڈانٹ پر زہر پیا، حقائق بے نقاب

  

 بہاول پور (بیورو رپورٹ) 16ستمبر کو بستی ممڑاں موضع چیلے وان کی طاہرہ نامی لڑکی نے دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی‘ خود کشی کے واقعات پاکستان سمیت دنیا بھر میں تسلسل سے ہورہے ہیں۔ان میں زیادہ تر تعداد بچیوں اور خواتین کی ہوتی ہے، مزید ان کا تعلق ایسے خاندانوں سے ہوتا ہے جو اپنی زندگی غربت میں گزاررہے ہوتے ہیں۔خود کشی کا سبب جہالت اور جذباتی کیفیت بھی ہے۔غیر شادی شدہ بچیوں (بقیہ نمبر7صفحہ 6پر)

کی خود کشیوں کے پیچھے منظر نامے ایسے آتے ہیں کہ والدین بچی کی مرضی کے خلاف شادی کروانے چاہتے ہیں، جب کہ بچی کسی دوسری جگہ شادی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔طاہر ہ کا تعلق درکھان خاندان سے ہے۔ جس کے مبینہ طورپر تعلقات اسی  علاقے کے رہائشی محمد لقمان سے بتائے جاتے ہیں۔جس کی ایک بڑی شہادت موبائل فون کالز بھی ہیں۔ محمد لقمان کے والد نے مویشی پال رکھے ہیں جب کہ وہ خود دودھ فروشی کرتا ہے۔ یعنی دونوں خاندانوں کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔خود کشی سے ایک دن قبل طاہرہ اور لقمان پاس کے کھیتوں میں اکٹھے ہوئے۔جس کا علم طاہرہ کے بھائی کو ہوا۔ وہ وہاں پر پہنچا تو طاہرہ کے بھائی کو دیکھ کر لقمان بھاگ گیا۔یہی موقف طاہرہ نے اپنی اس درخواست میں بتایا جو تھانہ خیر پور ٹامیوالی کو دی۔ جس میں لکھا گیا کہ گزارش ہے کہ سائلہ موضع چیلے وان بستی ممڑاں کی رہائشی ہے۔ خانہ داری کرتی ہوں اور مورخہ 16-09-2020کو بوقت 5:30بجے شام اپنے جانوروں کے لیے گھاس کاٹنے کے لیے گھر سے گئے ہوئے تھے۔تقریباً ایک ایکڑ دور  ہی تھی کہ میری بیٹی کی چیخنے کی آواز آئی۔ میں نے نزدیک جاکر دیکھا تو محمد لقمان قوم ممبڑ اسے زدوکوب کیے ہوئے تھا جس سے اس کی قمیض بھی کٹ گئی۔ میرے شور وواویلا پر محمد بدر، محمد ہاشم وغیرہ آگئے جنہیں آٹا دیکھ کر الزام علیہ بھاگنے میں کامیاب ہوگیا اور اپنا جوتا بھی وہاں چھوڑ گیا۔ درخواست پیش کرتی ہوں کہ کاروائی کی جائے۔العارض حنیفہ مائی زوجہ غلام فرید قوم کلو سکنہ بستی ممڑاں۔ یہ وہ درخواست ہے جو طاہرہ کی والدہ حنیفہ بی بی نے تھانہ خیر پور ٹامیوالی میں دی جس پر فوری کاروائی نہ کی گئی۔بلکہ تھانہ کے محرر نے ان کو متعلقہ چوکی پر بھیج دیا اور جب چوکی پر گئے تو چوکی پر تعینات پولیس افسر نے ان کو دوبارہ تھانہ جانے کا کہا۔اسی طرح وہ چوکی سے تھانہ، تھانہ سے چوکی پر پھر تھانہ۔یہ وہ محرکات ہیں جس پر الیکٹرونک میڈیا میں یہ واویلا اُٹھا کہ الزام علیہان بااثر لوگ ہیں۔ اس لیے پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، مبینہ طورپر جو شواہد پولیس کو ملے اُس میں متعلقہ واقعہ کے بارے میں شک و شبہ پائے جاتے تھے۔ مبینہ طورپر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ طاہرہ نے لقمان کو فون کرکے بلایا۔جس کا علم اُس کے بھائی کو ہوا اور بعدازاں طاہرہ کے والدین نے مبینہ طورپر طاہرہ کو بُرا بھلا کہا اور کہا کہ ہمیں جینے کا نہیں چھوڑا، ہم علاقے میں کس منہ سے باہر نکلیں گے، وغیرہ وغیرہ"۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر دیہاتوں میں کسی کی بچی اس قسم کی صورتحال سے گزرے تو والدین، بہن، بھائیوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی جذباتی انسان کو خطرناک قدم اُٹھانے کا سبب بن جاتے ہیں۔طاہرہ نے گھر پر موجود سپرے پی لی جس سے اُس کی حالت غیر ہوئی اور یہ بھی کہا کہ ابا اب آپ فخر سے جیو۔جس سے وہ دم توڑ گئی۔جوہی یہ اطلاع ڈی پی او بہاولپور صہیب اشرف کو ملی وہ خیر پور پہنچے اور وہاں پر تعینات ایس۔ایچ۔او، اے۔ایس۔آئی اور محرر تھانہ کو حوالات میں بند کردیا۔ ملزم لقمان جو کہ گرفتار کرلیا گیا۔حنیفہ بی بی زوجہ غلام فرید کی مدعیت میں مقدمہ نمبر368/20تھانہ خیر پور ٹامیوالی بجرم 322ت پ کے تحت درج کرلیا گیا۔ جس کے بعد وقوعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔الیکٹرونک میڈیا پر چلنے والی خبریں جن میں کہا گیا کہ الزام علیہان بااثر ہیں۔یہ موقف سمجھ سے بالا تر ہے۔جب کہ دونوں خاندان متوسط نہیں بلکہ غربت میں زندگی گزاررہے ہیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ خبریت کو بڑھانے کے لیے بے بنیاد محرکات ضروری ہوچکے ہیں۔بہرحال یہ انتہائی  افسوسناک واقعہ ہے۔دراصل ایسے واقعات اسلام سے دوری، جہالت کے باعث ہی پیش آتے ہیں۔خیر پور ٹامیوالی ایسا علاقہ ہے جہاں پر سیاست کا محو و مرکز تھانہ کچہری ہی رہتا ہے۔اس واقعے کو بھی سیاسی مخالفین دوسرا رنگ دینے کی کوشش میں ہیں۔بہرحال بہاولپور پولیس اس مقدمے کے حقائق کو اکٹھا کررہی ہے۔ مقدمہ کو ان حقائق کی روشنی میں مکمل کیا جائے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -