بہاولپور‘ روہی اور پاکپتن ایکسپریس کو بحال کیا جائے‘ شہری 

بہاولپور‘ روہی اور پاکپتن ایکسپریس کو بحال کیا جائے‘ شہری 

  

 بہاول پور+ سمہ سٹہ (بیورورپورٹ‘ نامہ نگار) خان پورسے راولپنڈی تک روہی ایکسپریس بحال کی جائے  روہی ایکسپریس کے باعث روزانہ ہزاروں افراد کوسفری کی سستی سہولت میسرتھی روہی ایکسپریس بندہونے کے باعث جنوبی پنجاب کے عوام مہنگے داموں سفرکرنے پرمجبور ہیں سمہ سٹہ جنکشن سے چلنے والی دیگر دو معطل گاڑیاں پاکپتن ایکسپریکس اور بہاولپور ایکسپریس کو بھی بحال کرکے سمہ سٹہ جنکشن سے چلایا جائے  ان خیالات کااظہار شہریوں نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا انہوں نے بتایا کہ  روہی ایکسپریس۔بہاول پور ایکسپریس۔پاکپتن ایکسپریس (بقیہ نمبر18صفحہ 6پر)

کو بھی بحال کیاجائے اوراس کو سمہ سٹہ جنگشن سے چلایاجائے شہریوں نے بتایاکہ روہی ایکسپریس 1980 کی دہائی میں  سمہ سٹہ جنکشن سے راولپنڈی بہاولپور لودھراں دنیاپور جہانیاں خانیوال عبدالحکیم شورکوٹ جھنگ شاہ جیونہ سرگودھا سلاں والی شاہین آباد منڈی بہاالدین ملکوال ڈنگہ لالہ موسی جہلم گجرخان دینا مندرا چکلالہ راولپنڈی جاتی تھی چونکہ یہ گاڑی درجہ دوئم کی تھی اس کا کرایہ  دیگر ریل  گاڑیوں اور بسوں سے انتہائی کم تھا لوگ اس پر زیادہ سے زیادہ سوار ہوتے تھے کیوں کہ یہ منافع بخش گاڑی تھی عوامی مطالبے اور بزنس کی صورتحال دیکھ کر اس کو سن 2000 میں سمہ سٹہ جنکشن کی بجائے خان پور جنکشن سے چلایا جانے لگا یہ گاڑی خان پور جنکشن سے سوا بارہ بجے دوپہر کو راولپنڈی کے لیے براستہ فیروزہ لیاقت پور چنی گوٹھ ڈیرہ نواب صاحب مبارکپور سمہ سٹہ جنکشن روانہ ہوتی. ضلع رحیم یار خان کی عوام کے لیے یہ بہت بڑا پاکستان ریلوے کی طرف سے  Gift تھا لوگوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا یہ گاڑی 9 سے10 ڈبوں پر مشتمل ہوتی تھی اور کھچاکھچ بھری ہوئی تھی پہلے سے بھی زیادہ روپیہ کما کر پاکستان ریلوے کو دینے لگی لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس آسان اور سستی سفر سے مستفید ہوتی تھی خانپور سے لے کر راولپنڈی تک کے روٹ کے تمام ریلوے اسٹیشن پر بے پناہ رونق اور مسافروں کی بھیڑ ہوتی تھی راولپنڈی سے سوا تین بجے دوپہر خانپور کے لئے روانہ ہوتی 27 دسمبر 2007 میں بے نظیر کی شہادت پر اس گاڑی کی زوال کا ٹائم شروع ہوا پی پی پی دور میں یہ گاڑی انجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے روزانہ لیٹ ہوتی رہی پھر 2010 کے آخر میں اس کا کرایہ اکانومی درجہ کے برابر کر دیا گیا اس گاڑی کے لیٹ ہونے کے سبب اور پھر کرایہ کی بڑھانے سے مسافروں کی تعداد کم ہونا شروع ہوگئی 2012 میں یہ گاڑی 8 سے 10 گھنٹے لیٹ ہوتی رہی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹرانسپوٹرز نے اس گاڑی کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا غلام احمد بلور  اس وقت کے وفاقی وزیر نے اس گاڑی کو غیر منافع بخش قرار دیا حالانکہ یہ گاڑی 2003 سے 2010 تک PRACS کے زیر انتظام رہی اور منافع دیتی رہی پھر 2012 کے وسط میں اس گاڑی کو معطل کردیا گیا جو کہ تاحال معطل  ھے اب صورتحال یہ ہے کہ غریب سفید پوش اور متوسط طبقے کے لوگ AC کوچوں کے بھاری کرایوں اور بسوں پر خوار ہو رہے ہیں مریض اور فیملیز کے لیے بسوں پر سفر کرنا ایک عذاب سے کم نہیں ہے کئی بار محکمہ ریلوے کے ارباب اختیار کی توجہ اس طرف دلائی گئی لیکن تا حال  یہ گاڑی بحال نہ ہوئی ہے۔  اس گاڑی کو بحال کرکے دوبارہ ریلوے اسٹیشن سمہ سٹہ جنکشن سے راولپنڈی چلایا جائے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی بڑی تعداد کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ سمہ سٹہ جنکشن سے چلنے والی دیگر دو معطل گاڑیاں پاکپتن ایکسپریکس اور بہاولپور ایکسپریس کو بھی بحال کرکے سمہ سٹہ جنکشن سے چلایا جائے یاد رہے پاکپتن ایکسپریس سمہ سٹہ  جنگشن سے لاہور جاتی تھی براستہ بہاولپور لودھراں میلسی بورے والا وہاڑی پاکپتن قصور رائیونڈ لاہورجبکہ بہاولپور ایکسپریکس سمہ سٹہ جنکشن سے سیالکوٹ براستہ بہاولپور لودھراں دنیاپور جہانیاں خانیوال شورکوٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ گوجرہ فیصل آباد علی پور چٹھہ وزیر آباد سیالکوٹ جاتی تھی ارباب اختیار اور محکمہ ریلوے کے پالیسی ساز آفیسران سے استدعا ہے کہ دونوں ٹرینوں کی بحالی کے لیے اقدامات کئے جائیں۔

شہری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -