نوازشریف اے پی سی سے خطاب کیلئے حسین نواز کے دفتر پہنچے تو صحافیوں نے گھیر لیا ، سوالات کی بوچھاڑ پر کیا جواب دے کر آگے بڑھ گئے ؟ جانئے 

نوازشریف اے پی سی سے خطاب کیلئے حسین نواز کے دفتر پہنچے تو صحافیوں نے گھیر ...
نوازشریف اے پی سی سے خطاب کیلئے حسین نواز کے دفتر پہنچے تو صحافیوں نے گھیر لیا ، سوالات کی بوچھاڑ پر کیا جواب دے کر آگے بڑھ گئے ؟ جانئے 

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرنے کیلئے حسین نواز کے دفتر پہنچ گئے ہیں جبکہ اس سے چند لمحے قبل مولانا فضل الرحمان نے ان سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف اے پی سی میں شرکت کیلئے حسین نواز کے دفتر پہنچے تو وہاں پر میڈیا کے نمائندے کھڑے ان کا انتظار کر رہے تھے ، نوازشریف گاڑی سے اترے تو انہوں نے وہاں موجود تمام رپورٹرز کو سلام کیا ۔ اس کے بعد رپورٹرز کی جانب سے نوازشریف سے مسلسل سوالات کیے جاتے رہے ، صحافیوں نے پوچھا کہ آپ کی تقریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے ، ٹویٹر پر آپ کے ایک لاکھ سے زائد فالورز بھی ہو گئے ہیں ، اس پر آپ کیا کہیں گے ؟ نواز شریف گاڑی سے اترنے کے بعد خاموشی سے آگے بڑھتے رہے لیکن جب وہ دروازے سے اندر داخل ہونے لگے تو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ” دیکھوں گا تقریر کے بعد آپ سے بات کی جا سکے ۔“ 

آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی پیپلز پارٹی کر رہی ہے اور اس میں شرکت کیلئے سیاسی نمائندوں کی آمد شرو ع ہو چکی ہے اور کچھ ہی دیر میں آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز ہوگا ۔آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے جماعت اسلامی نے انکار کر دیاہے جبکہ اختر مینگل بھی خراب صحت کے باعث شامل نہیں ہو سکیں گے لیکن ان کی پارٹی کی طرف سے وفد شرکت کرے گا۔

کچھ دیر قبل نوازشریف سے مولانا فضل الرحمان کا ٹیلیفونک رابطہ ہواہے جس دوران جمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ نے سابق وزیراعظم سے احتجاجی تحریک کے آپشن کو بھی اجلاس کے دوران زیر غور لانے پر اتفاق کیا ہے ،بات چیت میں تحریک عد م اعتماد پر بھی بات چیت کی گئی ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -