"نوازشریف اور زرداری کی تقریروں کے بعد اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ یہ کام کریں، ورنہ ان کی تقریروں کو ڈرامہ بازی سے تعبیر کیا جائے گا" سلیم صافی بھی بول پڑے

"نوازشریف اور زرداری کی تقریروں کے بعد اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ یہ کام کریں، ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پیپلزپارٹی کے زیراہتمام اپوزیشن  کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں جاری ہے جس سے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرچکے ہیں ، ان کے خطابات ختم ہونے کے بعد اب سینئر صحافی سلیم صافی کا موقف بھی آگیا۔

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلیم صافی نے لکھا کہ "زرداری اور نوازشریف کی انقلابی تقریروں کے بعد اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی توڑنے، باقی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے جبکہ میاں نواز شریف پہلی میسر فلائٹ سے پاکستان واپسی کا اعلان کریں۔ نہیں تو ان کی تقریروں کو ڈرامہ بازی سے تعبیر کیا جائے گا"۔

یادرہے کہ آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا تھاکہ  میرا خیال ہے کہ اے پی سی کے بعد پہلا بندہ میں ہی ہوں گا جو جیل میں ہوں گا مگر میری مولانا صاحب سے درخواست ہے کہ کبھی ملاقات کیلئے تو آئیے گا اس ملاقات کامجھے انتظار بھی رہے گا۔سابق صدر آصف زرداری نے کہاکہ حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے یہی اپوزیشن کی کامیابی ہے،ایسے ہتھکنڈے تو مشرف دور میں بھی استعمال نہیں ہوئے، جب سے سیاست میں آئے ہیں کبھی ایسی پابندی نہیں دیکھی ، ہمیں حکومت کی کمزوریاں نظر آرہی ہیں ،مجھے خوشی ہے آج ہماری بیٹی مریم بی بی بھی یہاں ہیں ، مریم میاں صاحب اور قوم کی بیٹی ہیں ، مریم جیل گئی ہیں ، انہیں سلام کرتا ہوں ، ہم مریم بی بی کے ساتھ ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہئے تھی ، لوگ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں گے ،سابق صدر نے کہاکہ یہ ہماری پہلی اے پی سی نہیں ،بی بی نے میاں صاحب کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیاتھا، میثاق جمہوریت کی وجہ سے 18 ویں ترمیم پاس ہوئی ، میثاق جمہوریت کی وجہ سے مشرف کو گھر بھیجا،18ویں ترمیم آئین کے گرددیوار ہے جس سے کوئی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔آصف زرداری نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی دن کہا کہ وزیراعظم سلیکٹڈ ہے، تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ لائحہ عمل طے کرکے دیں،ملک کی بنیاد جمہوریت ہوتی ہے اس کے بعد خوشحالی آتی ہے،ہم اس حکومت نکل کر جمہوریت بحال کرکے رہیں گے، فیض کی آواز میں ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے۔

 بعدازاں خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے ، ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے ، الیکشن سے پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہاہوں ، ہماری جدو جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے ، اور ان کے خلاف ہے ، ملک کو برباد کر دیا .   نوازشریف کا کہناتھا کہ ہماری اولین ترجیح سلیکٹڈ حکومت اور ا س سے کئی زیادہ اہم اس نظام سے نجات حاصل کرناہے جس کا میں نے ذکر کیاہے ، عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے ، ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے ، الیکشن سے پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہاہوں ، ہماری جدو جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے ، اور ان کے خلاف ہے ، ملک کو برباد کر دیا ، یہ ملک ہمیں تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے ، جس میں اچھی شہرت کے حامل جج صاحبان کو بھی نشانہ بنالیا گیاہے ، یہ نااہل اور ظالمانہ نظام ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گا ، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے دشمنوں کے عزائم کیا ہیں انہیں ناکام بنانے کیلئے معیشت کے ساتھ مضبوط دفاعی نظام کی بھی ضررورت ہے ، ہم نے پہلے بھی اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا ہے ، ہماری قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ معیشت کے ساتھ مسلح افواج کو بھی مضبوط سے مضبوط بنائیں ، اس کام میں ماضی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی ہماری یہ ترجیح رہی گی ، قومی سلامتی کیلئے سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری مسلح افوا ج آئین پاکستان ،دستوری حلف اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوام کے حق حکمرانی میں مداخلت نہ کریں ۔

مزید :

قومی -