اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کااعتماد بحال نہ ہو سکا،اپوزیشن رہنما تحریک عدم اعتماد اور ان ہاﺅس تبدیلی پر تقسیم  ہو گئے ،نجی ٹی وی کا دعویٰ

اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کااعتماد بحال نہ ہو سکا،اپوزیشن رہنما ...
اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کااعتماد بحال نہ ہو سکا،اپوزیشن رہنما تحریک عدم اعتماد اور ان ہاﺅس تبدیلی پر تقسیم  ہو گئے ،نجی ٹی وی کا دعویٰ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کااعتماد بحال نہ ہو سکا،اپوزیشن رہنما تحریک عدم اعتماد اور ان ہاﺅس تبدیلی پر تقسیم ہو گئے ۔

نجی ٹی وی جی این این نے دعویٰ ہے کہ ن لیگ اور دیگر پارلیمانی جماعتوں نے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف قراردادلانے پر زوریا ہے جبکہ پی پی پی اور جے یو آئی ف نے سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی مخالفت کی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے دونوں جماعتوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا، پیپلز پارٹی نے بھی مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کی حمایت کی ہے ۔

قبل ازیں آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تمام لیڈروں کو خوش آمدید کہتا ہوں، افسوس کی بات ہے کہ میاں صاحب کو لائیو نہیں دکھا سکتے ،سابق صدر آصف زرداری نے کہاکہ حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے یہی اپوزیشن کی کامیابی ہے،ایسے ہتھکنڈے تو مشرف دور میں بھی استعمال نہیں ہوئے، جب سے سیاست میں آئے ہیں کبھی ایسی پابندی نہیں دیکھی ، ہمیں حکومت کی کمزوریاں نظر آرہی ہیں ،مجھے خوشی ہے آج ہماری بیٹی مریم بی بی بھی یہاں ہیں ، مریم میاں صاحب اور قوم کی بیٹی ہیں ، مریم جیل گئی ہیں ، انہیں سلام کرتا ہوں ، ہم مریم بی بی کے ساتھ ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہئے تھی ، لوگ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں گے ،سابق صدر نے کہاکہ یہ ہماری پہلی اے پی سی نہیں ،بی بی نے میاں صاحب کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیاتھا، میثاق جمہوریت کی وجہ سے 18 ویں ترمیم پاس ہوئی ، میثاق جمہوریت کی وجہ سے مشرف کو گھر بھیجا،18ویں ترمیم آئین کے گرددیوار ہے جس سے کوئی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

آصف زرداری نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی دن کہا کہ وزیراعظم سلیکٹڈ ہے، تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ لائحہ عمل طے کرکے دیں،ملک کی بنیاد جمہوریت ہوتی ہے اس کے بعد خوشحالی آتی ہے،ہم اس حکومت نکل کر جمہوریت بحال کرکے رہیں گے، فیض کی آواز میں ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -