سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی ، این آئی سی وی ڈی کرپشن کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے ریمارکس

سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی ، این آئی سی وی ڈی ...
سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی ، این آئی سی وی ڈی کرپشن کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے ریمارکس

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیزیز ( این آئی سی وی ڈی ) میں کرپشن کے کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی ؟۔

این آئی سی وی ڈی میں مبینہ طور پر اربوں کی کرپشن میں برطرف ہونےو الے ڈاکٹر طارق شیخ کی درخواست پر سماعت ہوئی ، عدالت نے استفسار کیاکہ سرکاری ہسپتال میں نجی پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی ، وکیل این آئی سی وی ڈی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایکٹ کے تحت اجازت دی ہے جس کا مقصد ہسپتال کو سٹیٹ آف دی آرٹ بنانا ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ دوسرے ہسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیوں نہیں ، دوسرے ہسپتالوں کا کیا قصور ، انہیں مثالی کیوں نہیں بناتے ، جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہسپتال اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ کو ملا ہے ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ یعنی حکومت کی سرکاری ہسپتال کو پرائیویٹ بنانے پر توجہ ہے ۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے استفسار کیا کہ پرائیویٹ ٹریٹمنٹ کے کیا چارجز ہیں ،وکیل نے کہا کہ ڈاکٹرز پر انحصار کرتا ہے ، زیادہ سے زیادہ فیس چار ہزار روپے ہے ، عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹرز کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہوں کی تفصیلات پیش کریں ،ایگزیکٹو ڈائریکٹر نوید قمر نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ پروفیسر او پروفیسرز کی تنخواہیں پانچ سے آٹھ لاکھ روپے ہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کی تنخواہ کتنی ہے ، پرائیویٹ پریکٹس آپ بھی کرتے ہیں ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نوید قمر نے عدالت کو بتایا کہ میری تنخواہ پروفیسر کے مساوی ہے اور میں نجی پریکٹس بھی کرتاہوں ۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر عدالت کو صرف بنیادی سیلری بتا رہے ہیں ،مراعات کے ساتھ ان کی آمدن 60لاکھ روپے سے زیادہ ہے ۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -