خیبرپختونخوا اسمبلی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بحث ، حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف برقرار

خیبرپختونخوا اسمبلی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بحث ، حکومت اور اپوزیشن میں ...
خیبرپختونخوا اسمبلی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بحث ، حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف برقرار

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا حکومت نےکہاہے کہ ملک میں شفاف اورغیرجانبدارانتخابات کیلئے ہمیں ہرصورت الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی طرف جاناہوگا،الیکشن کمیشن خودمختارادارہ ہےتاہم حکومت جوسسٹم اورقانون لائے گی اس پرعملدرآمدالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے ای وی ایم کومستردکرتے ہوئے کہاکہ ووٹنگ مشین پراربوں روپے خرچ کرکے بھی نتائج حاصل نہیں کئے جاسکیں گے، حکومت عجلت میں نیاسسٹم لا کر کچھ اورمقاصدحاصل کرناچاہتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام( جے یوآئی)ف کی رکن نعیمہ کشورنے بحث پرآغازکرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن ایک آزادادارہ ہے جسکی جانب سے بھی ای وی ایم پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، دنیامیں صرف سات ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین چل رہی ہے، انڈیامیں22سال مشین پر ٹرائل ہواجہاں اپوزیشن اس پر تحفظات رکھتی ہے ،امریکہ میں اس قسم کی مشین ہیک ہوچکی تھی، ای وی ایم کے نام پروفاقی وزراء کے بیانات آئینی ادارے متنازعہ بنانے کی کوشش ہے، ای وی ایم کیلئے ہمیں دس کروڑووٹرزکوٹریننگ دیناپڑیگی اورنوے لاکھ مشینوں کی ضرورت ہوگی جس پر ساٹھ ارب لاگت آئے گی، آیایہ ملک اسکامتحمل ہوسکتاہے؟ اووسیزپاکستان آکریا ڈاگ کے ذریعے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

حمیراخاتون نے کہاکہ معاملے پرتمام سٹیک ہولڈرکوآن بورڈلیناچاہئے تھا، کیسے یقین کرلیں کہ یہ سسٹم شفاف اندازمیں الیکشن کاانعقاد کرے گا، اس میں دوبارہ گنتی کاکیاآپشن ہوگا؟ دھاندلی کوکیسے چیلنج کرینگے؟ مشینوں کی بیک وقت کارکردگی کو کیسے ممکن بنایاجائے گا ؟۔ایم پی اے میرکلام نے کہاکہ ملک میں غریبوں کے دیگرمسائل بھی ہیں، ان پرتوجہ کیوں نہیں دی جاتی؟ ان مشینوں پر ساٹھ سترارب روپے لاگت آئیگی ،یہ عوام کیساتھ انتہائی ظلم ہے، مشین کے ذریعے امیدواروں کی سلکشن ہوگی، دھاندلی کومشینوں کے ذریعے چھپانادانشمندی نہیں ہوگی، اربوں روپے الیکشن پر خرچ کرنا ملک کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

ایم پی اے احمدکنڈی نے کہاکہ جس طرح وزراءکی بیان بازی ہے، یہ الیکشن کمیشن کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے ،سٹیک ہولڈرزکوبغیراعتمادلئے کس طرح کسی چیزپرعملدرآمد ہوگا؟ حکومت جس عجلت سے مشین پھیرارہی ہے اسکے پیچھے تو کچھ اورمقاصدلگتے ہیں، یہ کام الیکشن کمیشن کاہے، الیکشن ریفارمزکیلئے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق ضروری ہے۔

ن لیگ پارلیمانی لیڈرسرداریوسف نے کہاکہ ملک میں لیٹریسی شرح انتہائی کم ہے، مشین کیلئے قوم کو ایجوکیٹ کیاجائے، جب استعمال کاطریقہ ہی نہیں معلوم ہوگاتوووٹرکیسے ووٹ ڈالے گا؟ملک میں شفاف اورغیرجانبدارالیکشن ہرجماعت چاہتی ہے، آرٹی ایس سسٹم بھی ناکام رہا ،اب ای وی ایم سسٹم کے بارے میں تمام لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ دھاندلی کاحربہ ہے۔

وزیرمحنت شوکت یوسفزئی نے کہاکہ ہرپاکستانی کی خواہش ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات ہوں، ماضی کے انتخابات کودیکھاجائے توموجودہ نظام فیل ہوچکاہے ، دھاندلی،پیسوں کی ریل پیل کے خاتمے کیلئے شفاف سسٹم ناگزیرہے، 71ء سے لیکراب تک کے الیکشن کیخلاف لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں، اس حکومت نے تین سالہ دورمیں محنت کرکے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنائی،الیکشن کمیشن ازخودکوئی کام نہیں کرسکتا ،حکومت جوسسٹم اورقانون لائے گی ،اس پرعملدرآمدالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں اوریہ کاکام صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے، جب تک پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوگی تو پھرخوانین ہی الیکشن لڑیں گے، شفاف الیکشن ہونگے تو عام آدمی بھی جیت کر پارلیمنٹ میں آسکے گا، یہ ملک جن کا ہے ان ہی کو اسمبلی میں ہوناچاہئے ، جس کے سرمیں درد ہو اورعلاج کیلئے لندن چلاجائے انہیں پاکستان کی کیافکر ہے؟ پاکستان میں رہنے والوں کوہی ملک کی فکر ہے، جوچاہتے ہیں کہ ملک میں اصلاحات ہوں۔انہوں نے کہا کہ  اپوزیشن کچھ بھی کرلے ہم انہیں اعتماد میں لینگے ،ای وی ایم کومتنازعہ نہیں بنایاجائے، اگرمشین میں غلطی کے خوف سے ہم ڈیجیٹل سسٹم کی طرف نہیں جائیںگے تو پھر ہرالیکشن کی طرح کارکن مرتے رہیں گے، حقیقی بندوں کی اسمبلی آمدپر سترکی بجائے سات سوارب بھی لگ جائیں تو کوئی قباحت نہیں، دھاندلی کو روکناہے تو ہمیں ہر صورت ووٹنگ مشین کی جانب جاناہے، جب تک ایسانظام نہیں لائیں گے جس پر عوام کااعتماد نہ ہو اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرے گا ۔

ایم پی اے اختیار ولی نے کہاکہ ای وی ایم کو دس ڈالرکی ایک چپ کے ذریعے کوئی بھی ہیک کرسکتاہے،اس سوارب روپے مشینوں پرلگاکرملک کو کس طرف لیکرجارہے ہیں؟ اس مشین کی کوئی آئی ایس او سرٹیفیکیشن نہیں ہے ،اس موقع پر کورم ٹوٹنے پر اجلاس چاراکتوبرتک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -