ملکی مسائل اور سیاستدان

 ملکی مسائل اور سیاستدان
 ملکی مسائل اور سیاستدان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وطن عزیز کافی عرصے سے بے یقینی اور انتشار کا شکار ہے۔ عدالتوں میں بے شمار سیاسی مقدمات چل رہے ہیں۔ سیاست میں محاذ آرائی شاید پہلے سے کچھ زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ اب پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بھی انتخابات کے پیش نظر محاذ آرائی پر اُتر آئی ہیں معیشت کا مسلسل بُرا حال ہے یعنی کوئی کل سیدھی نہیں۔لیکن پچھلے ڈیڑھ دو سالوں میں کم از کم یہ ضرور ہوا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل خصوصاً معاشی مسائل کی نشاندہی ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اِن کا حل کیا ہے؟ اور سیاسی جماعتیں اب تک حل کی طرف کیوں نہیں بڑھ سکیں۔ یہ بہت بڑا سوال ہے اور اس کا جواب سیاستدانوں کے ذمے ہے۔


نگران حکومت بن چکی ہے اب جھگڑا یہ چل رہا ہے کہ کیا الیکشن 90 دن میں ہوں گے یا عمومی خیال کے مطابق فروری میں ہوں گے اس سوال پر بڑی محاذ آرائی ہو رہی ہے حالانکہ دو تین ماہ سے عملاً کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔اب صدر مملکت عارف علوی نے بھی الیکشن کمیشن کو90دن کے حق میں مشورہ دیا ہے۔  اُصولی بات تو یہی ہے کہ انتخابات 90 دن کے اندر ہوں لیکن کیا پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات 90 دن میں ہو گئے تھے؟ ہم اُصولوں پر کب چلے ہیں، تاریخ گواہ ہے ہم نے اِس آئین کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ماضی میں سال ہا سال تو پتہ ہی نہیں چلا کہ آئین کہاں ہے چار دفعہ مارشل لاء لگااور طویل عرصے رہا اُس وقت آئین کہاں تھا۔ لہٰذا اب دو تین ماہ سے کیا فرق پڑ جائے گا ضرورت اِس بات کی ہے کہ انتخابات ہونے چاہئیں اور شفاف ہونے چاہئیں تاکہ تمام پارٹیاں اِس کے نتائج تسلیم کریں۔ 
صاف شفاف انتخابات ایک ایسا سیاسی ہدف ہے جسے ہم اب تک حاصل نہیں کر سکے۔ سیاسی روایات کے سلسلے میں اب تک ہم دو اہداف حاصل کر سکے ہیں ایک یہ کہ تیسری اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی ہے اور دوسرا صدرمملکت بھی مدت پوری کر رہے ہیں۔
اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ معیشت کی مستقل بنیادوں پر بحالی کیلئے ہمیں چند فیصلے کرنے ہیں ایک یہ کہ سٹیل مل، پی آئی اے اور اِس قسم کے دوسرے ادارے جو مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں انہیں پرائیویٹائز کرنا ہے۔ یہ جتنا جلدی ہو جائے اتنا اچھا ہے کیونکہ یہ معیشت پر ایک مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں۔دوسری بات یہ کہ سول اور ملٹری اشرافیہ کواپنی مراعات کو ریشنلائز کرنا ہو گا۔ اشرافیہ کے کسی شعبہ نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کے باوجود قربانی دینے کا عندیہ نہیں دیا بلکہ لگتا ایسے ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے شعبے کے لئے زیادہ سے زیادہ مفادات سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہائی کورٹ کے ججوں کے لئے بلاسود قرضے اِس کی بہترین مثال ہے اور پنجاب حکومت نے بھی معاشی بحران کے باوجود افسروں کیلئے قیمتی گاڑیاں خرید کر اِس میں حصہ ڈالا ہے اب اگر میں اِن فوائد کی تفصیل دینے لگوں تو بات بہت طویل ہو جائے گی میرے خیال میں اب عوام کو جرنیلوں، ججوں اور سول بیوروکریسی کی تنخواہوں، پنشن اور پلاٹوں کی تفصیل کا پتہ چل چکا ہے۔ 


تیسری بات یہ کہ سمگلنگ، بجلی چوری،سرکاری سہولتوں کی چوری، ٹیکس چوری اور ہر سطح پر کرپشن نے حکومتی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے اب اِس سے درگزر کی گنجائش نہیں رہی اور چوتھی بات کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنا ہو گا۔ بے یقینی ختم کرنی ہو گی تاکہ پالیسیوں میں تسلسل کو ممکن بنایا جا سکے صرف اسی صورت میں بزنس، صنعت اور ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کا راستہ کھلے گا۔اب سوال یہ ہے کہ جب بیماریوں کی تشخیص ہو چکی ہے تو اب تک علاج کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ سیاستدانوں کی مجموعی ناکامی ہے ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایک پارٹی اِس قسم کے بنیادی فیصلے کرنے کی ہمت اور صلاحیت نہیں رکھتی تو پھر اِس کا حل کیا ہے؟ حل یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں معیشت سے متعلق بنیادی باتوں پر اتفاق رائے کر لیں ورنہ پھر یہ کام کسی اور کو کرنا ہو گا اور اب نگران حکومت اور فوج نے اِس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے یہ کام شروع کر دیاہے۔ اب تک حکومتیں کیوں بجلی چوری، کرپشن، ٹیکس چوری اور سمگلنگ جیسی برائیوں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلا سکیں۔ وہ کس حد تک کامیاب ہوئیں وہ ایک الگ بات ہے لیکن انہوں نے تو اس سلسلے میں کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر یہ سارے کام فوج نے ہی کرنے ہیں تو پھر سیاستدانوں کا کردار کیا رہ جاتا ہے۔ حکومت میں آئیں ذاتی فائدے اُٹھائیں دنیا کی سیر کریں اپنے خاندانوں کو مضبوط کریں لیکن پھر اس طرح یہ نظام کب تک چلے گا؟ ہم پچیس کروڑ آبادی کے ساتھ ایک ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہمارے روزمرہ کے معاملات کا بھی مذاق بنا ہوا ہے ہر پانچ چھ سال بعد ایک نئے بحران میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دنیا کیا ہم اپنے ریجن میں بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اپنے پڑوسی بھارت سے ہم صرف کرکٹ میں مقابلہ کرتے ہیں باقی باتوں کی ہمیں پرواہ نہیں کتنے شرم کی بات ہے میں اس موضوع پر بہت پہلے دو کالم لکھ چکا ہوں کہ خدارا کرکٹ کو ایک کھیل رہنے دیں اِسے بھارت اور پاکستان یا کفر اسلام کی جنگ نہ بنائیں۔ کتنی سطحی سوچ ہے ہماری قوم کی اِس پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ سیاسی لیڈروں اور ریاست کے دوسرے سٹیک ہولڈرز کو اپنے ذاتی ادارہ جاتی مفادات سے بلند ہو کر ملک کے مجموعی مفاد میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ خدانخواستہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -