ذہن میں موجود شفائی عمل پر مبنی اصول کو مناسب رہنمائی اور ہدایت فراہم کی جائے تو بدن و ذہن کے تمام امراض ٹھیک ہو سکتے ہیں

ذہن میں موجود شفائی عمل پر مبنی اصول کو مناسب رہنمائی اور ہدایت فراہم کی جائے ...
ذہن میں موجود شفائی عمل پر مبنی اصول کو مناسب رہنمائی اور ہدایت فراہم کی جائے تو بدن و ذہن کے تمام امراض ٹھیک ہو سکتے ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی

مترجم: ریاض محمود انجم

قسط:46

ذہنی صحت کے لیے زمانۂ جدید کے طریقے

 اس دنیا کا ہر فرد لازمی طور پر اپنی جسمانی صحت اور انسانی معاملات و مسائل کے حل کیلئے انتہائی طور پر فکر و تردد او رپریشانی میں مبتلا ہے۔ انسانی جسمانی امراض اور دیگر انسانی معاملات وسائل کے حل اور علاج کیلئے کیا چیز ”اکیسر“ کی حیثیت رکھتی ہے؟ یہ ”اکسیر“،یہ شفائی طاقت و صلاحیت کہاں سے حاصل ہو سکتی ہے؟ ہر شخص انہی سوالات کے جوابات کے حصول میں سرگرداں ہے۔ ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ یہ ”اکسیر“،یہ شفائی صلاحیت و طاقت ہر شخص کے اپنے تحت الشعوری ذہن میں موجود ہے اور ایک بیمار شخص کی جانب سے ذہنی روئیے میں تبدیلی کے باعث یہ ”اکسیر“ اور شفائی قوت و صلاحیت عیاں ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی ماہر ذہنی امراض، مذہبی و روحانی عالم، ماہر نفسیات یاطبی معالج، کسی مریض کو کبھی بھی صحت شفا عطا کرنے کی قوت و قدرت نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے یہ قدرت و صلاحیت حاصل رہی ہے۔ اس ضمن میں ایک قدیم کہاوت ملاحظہ فرمایئے: ”ڈاکٹر / معالج زخم پر پٹی باندھتا ہے لیکن خداتعالیٰ کی قدرت زخم کو مندمل کر دیتی ہے۔“ ماہر نفسیات یا نفسیات دان، مریض کے ذہن میں منفی اور غیرتعمیری اثرات احساسات و خیالات، دور کر دیتا ہے جس کے باعث شفائی عمل سامنے آ سکے اور مریض کی صحت بحال ہو سکے۔ اسی طرح سرجن، مریض کی ذہنی رکاوٹوں کو تحلیل کر دیتاہے اور اس طور شفائی طاقت و خاصیت کابہاؤ، اپنی عملی کارکردگی کے اظہار کے قابل ہو جاتا ہے۔ کوئی ماہر جسمانی امراض، ماہر ذہنی امراض اور یا کوئی سرجن یہ دعویٰ کرنے سے قاصر ہے کہ ”اس نے مریض کو صحت بخش دی ہے۔“ صحت اور شفا ء کے حصول کے ضمن میں موجود واحد قوت و صلاحیت کو مختلف ناموں سے پکارا جا سکتا ہے، مثلاً، فطرت، قدرت، زندگی، خدا، تخلیقی صلاحیت اور تحت الشعوری قوت و طاقت۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکرکیا گیا ہے، ان ذہنی، جذباتی اور جسمانی رکاوٹوں اور مشکلات دور کرنے کیلئے مختلف طرائق اور تراکیب موجود ہیں، جو ہم سب کی زندگیوں کو تابنا کی بخشنے والے شفائی عمل پر مبنی اصول کے بہاؤ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر اپنی ذات یا دوسروں لوگوں کے تحت الشعوری اذہان میں موجود شفائی عمل پر مبنی اصول کو اگر مناسب رہنمائی اور ہدایت فراہم کی جائے، تو آپ کے بدن و ذہن کی تمام بیماریاں اور امراض ٹھیک ہو سکتے ہیں۔مذہبی عقیدے، رنگ و نسل سے قطع نظر یہ شفائی اصول ہر شخص میں موجود اور کارفرما ہے۔ مزیدبرآں، اس شفائی اصول سے اپنا تعلق قائم کرنے کیلئے آپ کوکوئی مخصوص عقیدہ یا مذہب اختیارکرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر آپ لادین ہیں یا خدا کے وجود کا ادراک نہیں رکھتے تو پھر بھی آپ کا تحت الشعور، آپ کے بازو پر جلنے یا کٹ لگنے کے باعث نمودار ہونے والے زخم کو مندمل کر سکتا ہے۔(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -