اک روشن دماغ تھا،نہ رہا

اک روشن دماغ تھا،نہ رہا
اک روشن دماغ تھا،نہ رہا

  



 کل نفس ذائقة الموت ۔بے شک ہرذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے۔ خواجہ کی موت نہ صرف ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس اور پنجاب یونیورسٹی کے لئے بلکہ ملک و قوم کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اچانک موت کی خبر لاکھوں چاہنے والوں کو اُداس کر گئی۔ ڈاکٹر صاحب کے انتقال سے ملک ایک محب وطن ‘سچے پکے پاکستانی اور بڑے ماہر تعلیم سے محروم ہو گیا ہے۔ پروفیسر صاحب نے تامرگ پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ بطور استاد خواجہ صاحب کی خدمات کی مدت پنجاب یونیورسٹی میں نصف صدی ہے ۔ بلاشبہ ان کے سینکڑوں نہیں،ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شاگرد دنیا بھر میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہ ملک و قوم کا اثاثہ تھے،انہیں بھی پاکستان سے عشق تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی ملک میں تعلیمی ترقی کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ وہ زندگی کے آخری لمحات تک پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرتے رہے۔

خواجہ صاحب ہیلی کالج آف کامرس کے گریجویٹ تھے یعنی پہلی ڈگری انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ہی حاصل کی جبکہ کامرس میں ماسٹر ڈگری بھی ملک کی اس عظیم یونیورسٹی سے حاصل کی۔اس کے بعد ڈگریوں کی لمبی لسٹ ہے۔ چنانچہ دنیا کی کون سی بڑی ڈگری ہو گی جو انہوں نے حاصل نہ کی۔ان کی ڈگریوں کی فہرست دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔انہوں نے امریکی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا،انہوں نے ڈاکٹریٹ( پی ایچ ڈی ) کی ڈگری (واشنگٹن) امریکہ سے حاصل کی۔ قانون کی ڈگری بھی حاصل کی،وہ چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ (ایف سی اے) بھی تھے۔ انہوں نے ایف بی ٹی آئی کی تعلیم لندن سے حاصل کی۔ سی ای ڈی آئی کی ڈگری واشنگٹن امریکہ سے حاصل کی۔ FUNADI کی ڈگری کے حصول کے لئے بنکاک کا رخ کیا۔ FSCMA کی فیلوشپ کولمبو میں ملی۔ انہیں FICS سرٹیفیکیشن بھی عطاءکی گئی۔وہ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنٹ FCMA کے باقاعدہ ممبرتھے۔

تحقیق کے میدان میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے فنانشنل سیکٹر اور کارپوریٹ مینجمنٹ کے شعبوں کی ترقی کے لئے شب و روز ریسرچ ورک کیا۔ انہوں نے مینجریل اکاﺅنٹنگ ،بزنس ایڈمنسٹریشن،سٹریٹیجک مینجمنٹ، مارکیٹنگ، بینکنگ‘ ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور کامرس کے شعبوں میں تحقیقی کام کیا۔ ان کی تصنیفات جو کہ کتابوں کی شکل میں باقاعدہ شائع ہو چکی ہیں ان کی تعداد 32 ہے ،ان میں سے بہت سی کتابیں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کورس کے مضامین کے طور پڑھائی جا رہی ہیں۔وہ بزنس مینجمنٹ کی ترقی کے لئے پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بنانے کے خواہاں تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ آپ ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس،پنجاب یونیورسٹی کے بانی پرنسپل تھے۔ ملک میں انشورنس اینڈ رسک مینجمنٹ کے شعبوں میں باقاعدہ ڈگری کورسز(بی بی اے اور ایم بی اے ) کا آغاز ان کا ہی کارنامہ ہے۔

دنیا بھر میں اقتصادیات کے ماہرکے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ انہیں دنیا بھر کی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں میں معاشیات کے موضوع پر لیکچر دینے کے لئے باقاعدہ دعوت دی جاتی تھی۔ بین الاقومی اداروں میں ان کے ریسرچ لیکچرز ڈلیورکرنے کی لسٹ کی ایک باقاعدہ کتاب ترتیب دی گئی ہے جو کہ گلوبل کنٹری بیوشن کے نام سے موجود ہے۔ امریکہ،برطانیہ،فرانس،جرمنی ،جاپان،چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اکاﺅنٹنگ ،بزنس ایڈمنسٹریشن،سٹریٹیجک مینجمنٹ، مارکیٹنگ، بینکنگ‘ ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور ریجنل اقتصادیات کے موضوع پر تحقیقی لیکچرزدیئے۔ پانچوں براعظموںکے ایک سو سے زائد ممالک میں دیئے گئے ان کے معاشی امور و دیگر موضوعات پرمبنی لیکچرز کو سراہا گیا۔ سارک ممالک کی تعلیمی کانفرنسوں میں وہ ملک کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کی شاندار تدریسی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انہیں پروفیسرایمریطس کااعزاز دیا۔ آج وہ ہم میں نہیں ،لیکن ان کی تصنیفات اور ان کا تحقیقی کام قوم کے لئے ایک اثاثہ ہے:

اک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

انہیں پڑھنے پڑھانے کا جنون تھا۔ گھر کے بیسمنٹ میں قائم ان کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔اپنے دفتر میں رات تک دفتری امور کی انجام دہی کے ساتھ کتابیں لکھنے لکھانے میں مصروف رہتے تھے ۔ چھٹی کا لفظ شاید ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا،انہوں نے گھر میں اپنی لائبریری میں دفتر سجارکھا تھا،جہاں چھٹی کے دنوں میںباقاعدہ سٹاف کے ساتھ کام ہوتا۔ اخبارات،انٹرنیشنل میگزین میں اپنے پسندیدہ موضوعات پر آرٹیکل لکھنا ان کا معمول تھا۔اخبارات و الیکٹرانک میڈیا میں معاشی موضوعات پر ان کے تبصرے شائع و نشرہوتے رہتے تھے۔ پڑھنے پڑھانے کے ساتھ ان کی ایک بڑی خوبی لوگوں کے ساتھ رابطہ تھا۔ان کا بہت بڑا حلقہ احباب تھا۔ انہیں ڈیلی ڈاک میں بے شمار خطوط ،ای میل موصول ہوتے اور وہ تمام لیٹرز اور ای میل کے فرداً فرداً جوابات بھی خود لکھتے لکھواتے۔ ان کے دوستوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے۔ سٹاف سے محبت کرتے اور بیرونی دوروں سے واپسی پر سٹاف کے لئے تحائف لاتے تھے۔

وہ بہترین مقرر تھے،ان کی تقاریر میں علم چھلکتا تھا،وہ مختلف موضوعات پر گھنٹوں بول سکتے تھے ،ان میں خوبی تھی کہ وہ سامعین کو کبھی بور نہیں ہونے دیتے تھے،شعر و شاعری ،اسلامی واقعات ‘جدید معلومات اورشائستہ لطائف سے بھرپور تقریر کرتے تھے،کھیلوں کے ساتھ ان کی خصوصی دلچسپی تھی،پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہر سیریز کے شیڈول پرنٹ کروا کر دوست احباب میں تقسیم کرتے تھے،انہوں نے صحت مند رہنے کے اصول اور ٹوٹکے کے حوالے سے نظمیں چھپوائیں۔ 78 سال کی عمر میں بھی ان کی یادداشت خوب تھی،شاید کوئی سمجھے کہ ایک انسان میں اتنی خوبیاں کیسے سما سکتی ہیں، لیکن ان کے رفقاءجانتے ہیں کہ ان کی ذات میں اللہ پاک نے دیگر بہت سی خوبیاں بھی رکھی تھیں۔ بہرحال انسان فانی ہے اسے ایک دن دنیا چھوڑ جانی ہے۔ کامیاب وہ ہے جس کی آخرت اچھی ہواور دنیا والے بھی ایک عظیم انسان کے طور پر یاد کریں۔ وہ آج ہم میں نہیں،لیکن ان کی خوبصورت یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی،ملک میں تعلیمی ترقی اور ہمارے ادارے کی ترقی میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،بہرحال جانے والا بہت سوں کو اُداس کر گیا۔ ہماری دعا ہے:

خدا کی تجھ پہ رحمت ہو، محمد کی شفاعت ہو

دعا میری یہ ہے تجھے جنت کی راحت ہو

مزید : کالم