حیاتِ طیبہؐ پر رومانوی سکالر کی کتاب

حیاتِ طیبہؐ پر رومانوی سکالر کی کتاب
حیاتِ طیبہؐ پر رومانوی سکالر کی کتاب
کیپشن: dr shafique jalahandri

  

رسول اللہ پر ہزاروں افراد نے کتابیں تحریر کی ہیں ، آپ کی محبت و عقیدت میں ڈوب کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے- ان گنت لوگوں نے آپ کی ذات مبارک پر ثواب اور ا پنی آخرت سنوارنے اور بہت سے لوگوں نے آپ کی زندگی کو موجودہ نسلوں کے لئے مشعل راہ کے طور پر پیش کرنے کے لئے لکھا ہے- اس میں شبہ نہیں کہ آپ کی زندگی قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی- رسول کریم کی زندگی کا ایک ایک لمحہ پروردگار کی رحمتیں سمیٹنے کے لئے انسان کی رہنمائی کررہا ہے-غیروں نے اگرانہیں تاریخ عالم میں مختصر ترین وقت میں بہت بڑا اخلاقی، سیاسی، مذہبی، سماجی اور اقتصادی انقلاب لانے والا سب سے بڑا قائد مانا ہے ، تو اہل ایمان کے نزدیک آپ کی شخصیت تمام پیغمبروں کی سردار اور اللہ کی محبوب ترین شخصیت ہے- آپ کو رحمت اللعالمین کہا گیا ہے- آپ کے ذکر سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو سرور نصیب ہوتا ہے، لیکن اللہ کے حکم سے اس کا پیغام انسانوں تک پہنچانے اور عدل و انصاف اور ہر طرح کے استحصال سے پاک ایک مثالی فلاحی معاشرہ قائم کرنے کے لئے آپ نے جن مصائب ، شدائد اور مشکلات کا سامنا کیا اس کا احساس کرکے انسان غم اور سوز میں ڈوب ڈوب جاتا ہے- اللہ کے تمام پیغمبروں اور رسولوں کی زندگی کا مشترکہ اور نمایاں ترین پہلو یہی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بے حد مشکلات اور تکالیف کا سامنا کیا ، لیکن صبر اور استقامت کا ثبوت دیا اور اسی چیز نے انہیں روشنی کے مینار اور عظمت کے پہاڑ بنا دیا- ہمارے پیارے رسول کا مقام و مرتبہ بھی سب نبیوں سے بڑھ کر ہے اور انہوں نے تکالیف بھی سب سے بڑھ کر برداشت کی ہیں- آپ کی استقامت اور جہد مسلسل کی مثال دنیا بھر کی قومیں پیش کرنے سے قاصر ہیں-

 محمد - ”پیغمبر اسلام“ کے نام سے لکھی گئی کتاب رومانیہ میں پیدا ہونے والے عالمی شہرت کے حامل ممتاز سکالر کانسٹنٹ ورجل جیورجیو نے تحریر کی ہے- جیورجیو 22 جون1992ءکو پیرس میں فوت ہوگیا ،لیکن یہ کتاب اس کا نام دنیا کے عظیم سکالر کی حیثیت سے ہمیشہ کے لئے زندہ کرگئی-جیورجیو نے بخارسٹ یونیورسٹی اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفے اور الٰہیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، رومانیہ کی وزارت خارجہ میں بین الاقوامی امور کے ماہر کی حیثیت سے کام کیا-دوسری جنگ عظیم میں امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور رہائی کے بعد1948ءسے فرانس میں رہائش پذیر ہوا-رسول خدا پر کتاب لکھنے سے پہلے اسے ایک عظیم مصنف کی شہرت حاصل ہوچکی تھی- اس نے یہ کتاب لکھنے کے لئے عرب کے قدیم کلچر ، روایات اور رسوم و رواج کا مطالعہ کیا - ان تمام مقامات پر پہنچا ،جہاں جہاں رسول اللہ رہے تھے ، جہاں آپ کے زمانے میں غزوات ہوئے تھے-

 کسی طرح کے جذبات میں ڈوبنے یا احترام و عقیدت کے بجائے جیورجیو نے رسول اللہ کی زندگی کے تمام واقعات کو معروضی انداز میں گہری تحقیق و جستجو کے بعد قلمبند کیا ہے- بعض معاملات میں بعض مسلمان مصنفین کی تحریروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی تاریخی حقانیت پر سوال بھی اٹھا ئے ہیں، لیکن وہ رسول اللہ کی ابتدائی زندگی سے جوانی اور پھر وفات تک کے تمام اہم واقعات کو سلاست کے ساتھ دلکش انداز میں قلمبند کرتا چلا گیا ہے-اکثر باتوں کے سلسلے میں رسول اللہ کے کام اور طریقہ کار کی عرب کی اس وقت کے روایات اور کلچر کے پیش نظر وہی وضاحت کرتا ہے جو ایک سچا کھرا مسلمان کرسکتا ہے- اس نے چار سو سے زائد صفحات کی اس کتاب میں کسی بھی جگہ اپنے علمی اور تحقیقی انداز کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ، لیکن اس کی کسی بھی بات سے مسلمان مورخ اختلاف نہیں کرتے- اس کی تحقیق اور کتاب میں آپ کی زندگی کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کرنے کا شعور بے مثل ہے - بقو ل فاضل مترجم مشتاق حسین میر اس کتاب کو کھول کر جیسے ہی آپ مطالعہ کریں گے، آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ کتاب حیات طیبہ پر لکھی گئی کتب سے مختلف ہے-آپ جتنا آگے بڑھتے جائیں گے ،آپ کے احساسات ، تاثرات اور خیالات میں انقلاب آتا چلا جائے گا-

 مشتاق حسین میرکے اس ترجمے کی دوبارہ اشاعت سے قبل زبان کی نوک پلک سنوارنے اور اسے زیادہ وقیع بنانے کاکام ذوالقرنین اور سلیم منصور خالد نے کیا ہے- تمام مقامات کے خوبصورت نقشہ جات محسن فارانی نے مہیا کئے- ہیلپ لائن کے سیکرٹری میاں اخلاق الرحمن اورڈاکٹر اظہار ہاشمی نے کتاب کی اشاعت کے لئے وسائل فراہم کئے اور ادارہ ترقی فکر -315سی، فیصل ٹاﺅن لاہورنے شائع کیا ہے- ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کے پیش لفظ کے علاوہ ممتاز سکالر محمد اسد کا مقدمہ بھی اس میں شامل کیا گیا ہے- کتاب کے اس ترجمہ کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں- اس کی افادیت اوراثر پذیری کے پیش نظر صاحب حیثیت افراد کی طرف سے اس کی جلدیں سینکٹروں کی تعداد میں خرید خرید کر تقسیم کی جارہی ہیں- کتاب کا آخری باب رسول کریم کی وفات سے متعلق ہے، لیکن وفات سے پہلے آپ نے غزوہ تبوک میں حصہ لیا- جس کے متعلق مصنف لکھتا ہے کہ شام میں بعض سلاطین اور امراءقیصر روم کے تحت تھے- وہاں افواہ پھیل گئی کہ محمد وفات پاگئے ہیں-اس افواہ کی وجہ سے رومیوں نے پروگرام بنایا کہ شام کے راستے عرب پر حملہ کریں اور مسلمانوں کی سرکوبی کریں-اس وقت بیت المال کی حالت اتنی اچھی نہیں تھی، مدینہ میں کھانے پینے کی اشیاءکی کمی تھی۔آپ نے مسلمانوں سے کہا کہ ہر کوئی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق لشکر کی تیاری میں مدد دے۔ مسلمانوں نے ایثار کا ثبوت دیا اور اپنے اموال حضور اکرم کی خدمت میں پیش کردئیے-اس طرح تیس ہزار کا طاقتور لشکر تیار ہوگیا-جس میں دس ہزار سوار تھے-

مدینہ سے لشکر کی روانگی کا منظر بڑا پُرشکوہ تھا- تمام لشکر منظم صفوں میں شام کی سرحد کی طرف روانہ ہوا-اسلام کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی- جس وقت لشکر اسلام شام کی سرحد پر پہنچا، مقامی امراءو رﺅسا جو لشکر روم کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کا قصد کررہے تھے، بھاگ گئے اور شام کی سرحدوں کے اندر چلے گئے، حتیٰ کہ لشکر روم جو مقامی رﺅسا و امراءکی مدد سے بڑھ کر حملے کی سوچ رہا تھا، پسپا ہوگیا- پیغمبر اسلام نے کچھ دیر شام کی سر حد پر قیام کیااور مقامی قبائل کے امراءو رﺅسا اور مذہبی پیشواﺅں کو جو زیادہ تر عیسائی تھے، مطیع اسلام کیا، یعنی وہ اس عہد کے پابند ہوئے کہ اسلامی حکومت کو جزیہ ادا کریں گے- اس وقت محمد اپنے طاقتور لشکر کے ساتھ مدینہ واپس ہوئے- لشکر اسلام نے شام کی سرحد کے ساتھ ایک قلعہ بنام تبوک کو اپنا مقام بنایا تھا ،جس کی مناسبت سے اس لشکر کشی کو جنگ تبوک کا نام دیا گیا- محمد نے تبوک میں جنگ نہیں کی ، لیکن مقامی قبائلی رﺅسا لشکر اسلام سے خوفزدہ ہوگئے، اور مسلمانوں سے غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ کرلیا یا اتحادی ہوگئے- انہوں نے بچشم خود دیکھا کہ اسلامی لشکر کی آمد پر ایسی دہشت پھیلی کہ رومی لشکر بھی پسپائی اختیار کرگیا--- تبوک پر لشکر کشی کے بعد پیغمبر اسلام نے کسی جنگ میں شرکت نہیں کی-لیکن آپ تقویت اسلام کی فکر سے غافل نہیں تھے اور بیماری کی حالت میں بھی آپ نے ایک لشکر اسامہ کی قیادت میں شام پر حملہ کے لئے تیار کیا ،لیکن آپ کی رحلت اس لشکر کی روانگی میں مانع ہوئی-

 مسجد میں خطاب کے دوسرے روز پیغمبر اسلام کی حالت نازک تر ہوگئی - آپ نے فرمایا: میری بیماری کا سبب وہی زہر ہے جو اس یہودی عورت نے خیبر میں مجھے کھلایا تھا، وہ زہر گاہے گاہے میرے لئے تکلیف کا باعث بنتا رہا، مگر نہ اس طرح کہ بستر سے لگ جاﺅں- اب اس زہر کا حملہ سنگین تر ہے- ± جن دنوں پیغمبر اسلام سخت بیمار تھے ،گھر سے مسجد جانے کی بھی سکت نہ رہی-حضرت ابوبکرؓ مسجد میںنماز پڑھاتے تھے----11ہجری ماہ ربیع الاول میں آپ کی حالت ایک بار پھر نازک ہوگئی - آپ نے محسوس کیا کہ اب اس جہان سے رخصت کا وقت آگیا ہے- آپ کو یاد آیا کہ حضرت عائشہؓ کے پاس سات دینار نقد پڑے ہوئے ہیں- آپ کے پاس ان سات دیناروں کے سوا کچھ نہیں تھا- لہٰذاحضرت عائشہؓ کو بلا کر فرمایا- کیا وہ سات دینار ابھی تک تمہارے پاس ہیں؟ انہوں نے عرض کی - ہاں رسول اللہ-آپ نے فرمایا ساتوں دینار غریبوں میں تقسیم کردو-مَیں ان سات دیناروں کے ساتھ اللہ کے ہاں جاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں-سوموار 12ربیع الاول11ہجری کو آپ بہت زیادہ بیمار ہوگئے-تواریخ اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن آپ نے کوئی دوا نہیں کھائی- آخر ی خواہش جو آپ نے وہاں جمع ہوجانے والے لوگوں سے کی ،وہ یہ تھی کہ آپ کے دانتوں کو مسواک کریںتاکہ دانت صاف ہوجائیں-آپ نظا فت کے بہت شائق تھے اور کئی مرتبہ فرمایا- نظافت نصف ایمان ہے---- جس لمحہ آپ کی موت واقع ہوئی، ایک روایت کے مطابق مہر نبوت جو پشت پر دونوں شانوں کے درمیان تھی ، معدوم ہوگئی- ویسے بھی رحلت پیغمبر سے رسالت کا کام مکمل ہوچکا تھا- جب حضرت محمد نے اس دنیا سے کوچ فرمایا، جز ایک سفید خچر جو شاہ حبشہ نے آپ کی خدمت میں بھجوایا تھا اور چند تلواروں کے کوئی چیز ترکہ میں نہیں چھوڑی-

مزید :

کالم -