آگ

آگ
 آگ
کیپشن: azhar zaman

  

کل اپنے ہوم آفس میں معمول کا کام دوپہر کے قریب ختم کرکے مَیں واک کے لئے جھیل کی طرف نکل گیا، کیونکہ مجھے ڈاﺅن ٹاﺅن یا کسی اور جگہ نہیں جانا تھا۔ بیگم نے مصالحے والا سالم مرغ اوون میں تیار کرنے کا پروگرام بنایا تھا، اس لئے اس وقت مجھے قدرے حیرانی ہوئی، جب انہوں نے مجھے کال کرکے واپسی پر تلی ہوئی مچھلی لانے کو کہا۔مَیں نے نہیں پوچھا کہ انہوں نے پروگرام کیوں بدلا؟مَیں مچھلی لے کر پیدل چلتا ہوا گھر کے قریب پہنچا تو وہاں ٹریفک بند تھی۔ ہمارے گھر کے قریب ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے اوپر کے فلور پر کسی وجہ سے آگ لگ گئی۔ آگ تو بجھ چکی تھی ،لیکن فائر بریگیڈ کی گاڑیاں مسلسل پانی گرارہی تھیں۔ مَیں نے گاڑیوں کو شمار کرتے ہوئے دیکھا کہ ایمرجنسی کو ڈیل کرنے والے ہر شعبے کا عملہ وہاں موجود تھا۔ فائر بریگیڈ کے سپروائزر کی گاڑی کے علاوہ مقامی پولیس کی متعدد گاڑیاں ، ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ایمرجنسی گاڑی، بجلی اور گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی گاڑیاں موجود تھیں۔ اپارٹمنٹ کی انتظامیہ نے اپارٹمنٹ کو بحال کرنے والی کنٹریکٹ کمپنی کو بلایا ہوا تھا، جس کی تین گاڑیاں فائر بریگیڈ والوں کے جانے کے بعد بحالی کا کام شروع کرنے کے لئے تیار کھڑی تھیں۔

اپارٹمنٹ انتظامیہ کے ایک رکن نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ اوپر کی منزل پر لگی آگ بجھانے کے لئے سیڑھی لگاکر فائر بریگیڈ کا عملہ شیشے کی کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوا، جتنے لوگ وہاں موجود تھے ، سب اپنی اپنی ڈیوٹی دے رہے تھے۔ کوئی ایک بھی تماشائی مجھے نظر نہیں آیا، اس لئے مجھے وہاں رکنا بہت عجیب سا لگا اور میں اپنے گھر آگیا اور اپنی بیگم کو محلے کی خبر سنائی۔ انہیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ کہنے لگی مجھے کچھ گاڑیوں کے ہارن سنائی دیئے تھے، لیکن یہ خبر نہیں تھی کہ یہ سب کام پڑوس میں ہورہا ہے۔امریکہ میں کسی بحران یا ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے اتنے ادارے ہیں کہ کسی غیر متعلقہ فرد کو مداخلت کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ایمرجنسی کی اطلاع ملتے ہی ایک پورا سسٹم حرکت میں آجاتا ہے اور حالات معمول پر آنے تک وہ حرکت میں رہتا ہے۔ کوئی عام شہری وہاں کھڑا ہوکر تماشاکیسے دیکھے گا ،وہ تو اپنے وقت کو ڈالروں میں ٹرانسلیٹ کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔

محلے میں آگ لگنے کے واقعے سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرنے پر مَیں نے اپنی بیگم سے کہا: ”لگتا ہے آپ مکمل پاکستانی ہوگئی ہیں “۔ انہیں شاید سمجھ نہیں آئی۔ اپنی مصروفیت چھوڑ کر کہنے لگیں: ”کیا مطلب “؟ انہوں نے بس ایسے ہی رسماً کہہ دیا ورنہ ان کے پاس یہ مطلب سمجھنے کا وقت کہا ں تھا، پھر میرے پاس سمجھانے کے لئے بھی کچھ نہیں تھا۔ وہ تو میری لائی ہوئی مچھلی میں سے تھوڑی دیر تک گھر پہنچنے والی بیٹی بسما کے لئے حصہ الگ کرنے میں مصروف تھیں۔ وہ بیٹی کو موبائل پر سمجھا رہی تھیں کہ اگر گھر تک گاڑی نہ آسکے تو اسے کہاں پارک کرنا ہے۔ ان کا اگلا مسئلہ یہ تھا کہ رات کے کھانے کے لئے مصالحے والے سالم مرغ کو اوون میں کیسے تیار کرنا ہے اور اس مرغ کے ساتھ کس قسم کی سلاد موزوں ہوسکتی ہے۔ بیٹی کے گھر پہنچنے پر انہوں نے یہ مشورہ کرنا تھا۔میری بیگم کو پڑوس میں لگی آگ کی پروا نہیں تھی اور میرے پاکستانی بہن بھائیوں کو اپنے گھر میں لگی آگ کی پروا نہیں ہے۔ میں یہ سوچ رہا تھا اور میری بیگم نے میری معلومات میں اضافے کے لئے مجھے بتایا کہ امریکہ میں فائر بریگیڈ کے عملے کے تمام ارکان رضا کار ہوتے ہیں، یعنی وہ بغیر معاوضے کے کام کرتے ہیں۔ آگ بجھانے والی گاڑیاں بھی عموماً مخیر حضرات کے چندوں سے خریدی جاتی ہیں اور ان پر سرکاری خزانے سے کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، یہاں دنیا سے انوکھا تماشا لگا ہوا ہے۔ اس کے گھر کے اندر لگی آگ کو بارہ برس سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے،مگر ابھی تک اس کے بجھانے کی نوبت نہیں آئی۔ معصوم شہریوں اور ہمارے قابل فخر فوجی جوانوں کو شہید کرنے والے ان دشمنان وطن پر ہاتھ ڈالنے کے لئے کوئی آگے بڑھتا ہے تو ان کے بے شمار ہمدرد میدان میں کود پڑتے ہیں۔ کوئی ان کے لیڈروں کو شہید قرار دیتا ہے، ان کو غازی اور ان کے عمل کو جہاد قرار دیتا ہے۔ ان کی حمایت میں بیان جاری ہوتے ہیں کہ یہ دہشت گردبھی آخر کار پاکستانی ہیں اور ان کے بھی انسانی حقوق ہیں۔ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ان کے قیدیوں کو رہا کرکے خیر سگالی کا پیغام بھیجا جارہا ہے۔ جب دہشت گرد قتل عام میں مصروف تھے تو اس وقت ان کے خفیہ اور جلی حامی انہیں قتل عام سے روکنے کے لئے امن کی تحریک نہیں چلا رہے تھے۔ جب ان کے ظلم کی انتہا ہوگئی اور وقت آگیا کہ ان کے خلاف آپریشن کرکے ان کی ظلم کرنے کی صلاحیت ختم کی جائے تو ان کے حامیوں نے آگے بڑھ کر ان کو بچانے کے لئے امن کا نعرہ بلند کردیا۔

اب امن کا ایک مطلب یہ ہے کہ قتل وغارت اور دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے، پھر پاکستان کی تمام جیلوں کو کیوں خالی نہ کردیا جائے کہ وہاں قید دوسرے لوگ تو دہشت گردی سے کم جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ امن کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ کچھ علاقے ان کی عملداری میں دے دیئے جائیں، یعنی پاکستان کی ریاست کے اندر ان کے لئے ایک ایسی آزاد ریاست قائم کردی جائے، جہاں پاکستان کی فوج داخل نہ ہو اور جہاں صرف ان کا قانون چلے۔ان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو امریکہ کی جنگ قرار دینے والے پاکستان کی حکومت اور فوج کو روکنے والے بارہ سال تک کامیابی کے ساتھ یہ پراپیگنڈہ کرکے انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع دیتے رہے ہیں۔ امریکہ اب سین سے بتدریج خارج ہورہا ہے تو یہ دلیل چونکہ ختم ہوگئی ہے اس لئے اب امن اور مذاکرات کا شور مچایا جارہا ہے ۔ دہشت گردوں کے حامیوں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ پہلے ظلم پر صبر کرو اور معاف کرو۔ ان کو رعایتیں دو تاکہ وہ مزید ظلم نہ کریں۔ جبکہ دہشت گرد خود یہ کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات ضرور کرو، جنگ بندی نہیں ہوگی یعنی امن کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔

اس نازک مرحلے میں فیصلہ قومی مفاد کے تقاضوں کے تحت ہونا چاہئے۔ آپ کو معلوم ہے کہ قومی مفاد اور اس کے تقاضے ہرحکمران اور ہر سیاست دان کے اپنے ہوتے ہیں۔ کیا یہ بھی قومی مفاد ہے کہ اس گھر کے اندر آگ لگانے والوں کو زیادہ سے زیادہ رعایتیں دی جائیں تاکہ انہیں مزید آگ لگانے سے باز رکھا جاسکے۔ اس کے بعد آگ نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کدھر کا رخ کرے گی؟

مزید :

کالم -