بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کا اعلامیہ

بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کا اعلامیہ

  

بین الاقوامی عدالتی کانفرنس کی طرف سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عدالتیں آئین کی بالادستی کے لئے کام کرتی ہیں۔ عدالتی جائزہ آئین کو متحرک دستاویز کی حیثیت سے محفوظ رکھتا ہے۔ صحت، خوراک اور رہائش جیسے انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ عدالتی نظام کے ذریعے معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ از خود نوٹسز میں اداروں کے اختیارات کا توازن برقراررکھنا چاہئے۔ عدالتی اختیارات کے استعمال سے انتظامی پالیسیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ انصاف کی فراہمی کے لئے پرعزم شخصیات کو جج مقرر کیا جائے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں جہاں عدلیہ کے اہم کردار کو واضح کیا گیا ہے وہاں عدلیہ کی طرف سے اپنے اختیارات کے استعمال میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ملکی عدالتیں انصاف فراہم کریں تو اس سے ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی اور معیشت کو استحکام ملتا ہے۔ بہتر معاشی حالات جرائم میں کمی اور انصاف کی فراہمی کو موثر بنانے کا باعث ہوتے ہیں۔ کانفرنس کے اعلامیہ کے بعد خود جوڈیشری اور متعلقہ حکومتی اداروں کے ان تمام امور پر گہرے غور و خوض کی ضرورت ہے، جن کی اعلامیہ میں نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین نے انصاف کی فوری اور موثر فراہمی کے راستے بتا دیئے ہیں اب ان پر عمل کرنے والوں اور اصلاح احوال کے لئے اقدامات کرنے والوں کو آگے آنا ہو گا کہ آئین اور قانون کی بالادستی اس وقت قوم کی سب سے بڑی آرزو ہے۔

مزید :

اداریہ -