حامد میر پر حملے کی تحقیقات کرائی جائیں

حامد میر پر حملے کی تحقیقات کرائی جائیں

  

کراچی میں ایئر پورٹ کے قریب شاہراہ فیصل پر فائرنگ سے معروف صحافی حامد میر زخمی ہو گئے ۔ ان کے جسم کے نچلے حصے میں تین گولیاں لگیں، وہ ایئر پورٹ سے جیو کراچی کے دفتر جانا چاہتے تھے کہ دو موٹر سائیکلوں اور ایک گاڑی پر سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ ان کے ساتھ موجود سیکیورٹی گارڈ کو حملہ آوروں کی فائرنگ کا جواب دینے کا موقع نہیں مل سکا۔ آغا خان ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کے جسم سے دو گولیاں نکال دیں ۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔ حامد میر پر حملے کی ملک بھر کے صحافیوں اور سیاسی رہنماﺅں نے مذمت کی ہے اور اسے آزدی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے اور اسے بزدلانہ اور وحشیانہ حرکت قرار دیا ہے،حکومت کو کسی طرح کے دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانی چاہئے۔ حامد میر کے بھائی عامر میر نے کہا ہے کہ حامد میر یہ بیان اس سے پہلے ہی ریکارڈکرا چکے ہیں کہ اگر ان پر کوئی حملہ ہوا تو اس کے ذمہ دار آئی ایس آئی کے سربراہ ہوں گے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے کسی طرح کی تحقیقات کے بغیر الزامات عائد کرنے کو افسوسناک قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی حامد میر پر حملے پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں مکمل تحقیقات سے قبل کچھ کہنا مناسب نہیں۔

حامد میرایک بہادر، قابل صحافی اور اینکر پرسن ہیں۔ ان کی طرف سے بعض اداروں کے رویے پر مسلسل لکھا اور کہا جاتا رہا ہے۔ اگر ان کی طرف سے پیشگی طور پر آئی ایس آئی کی طرف سے خود پر حملہ کرانے کے خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا، تو اس کے بعد اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کے لئے کسی دشمن طاقت کی طرف سے یہ حرکت کی گئی ہو۔ کراچی شہر میں دشمن امن و امان کو جس طرح برباد کرنے میں کامیاب ہے اس کے پیش نظر اس کے لئے اس شہر ہی میں ایسی حرکت آسان ہو سکتی تھی۔ قومی اداروں کے کسی شخص کی شہ پر اگر ایسا ہوا تو اس کے متعلق بھی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے سب کچھ سامنے آ سکتا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں پر ایسے حملے مسلسل ہوئے ہیں اور ان کی وجہ اکثر و پیشتر ان کی طرف سے ایسے معاملات میں آزادانہ اظہار خیال ہوتا ہے، جو بعض قوتوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ ایک صحافی پر اپنے فرائض کی دیانتدارانہ انجام دہی کی پاداش میں قاتلانہ حملے دراصل پوری مہذب دنیا میں آزادی اظہار خیال اورمعلومات تک عام لوگوں کی رسائی کے حق پر حملے تصور کئے جاتے ہیں۔ اس طرح کسی بھی صحافی پر کیا جانے والا حملہ معلومات تک رسائی کے بنیادی انسانی حق پر حملہ ہے۔ عوام کے جمہوری حقوق کو کچلنے کی کوشش ہے، جس کا درد چند لوگ نہیں پوری قوم محسوس کرتی ہے۔ ایسے ہر واقعہ پر قوم کے تمام باشعور اور حساس طبقات کا غم زدہ ہو جانا قدرتی امر ہے۔ حکومتی اداروں کو اس اندوہناک واقعہ کی مکمل طور پر آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرا کے ذمہ دار افراد کو نشانہ عبرت بنانا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -