برطانوی اشرافیہ کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا

برطانوی اشرافیہ کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا

  

 لندن (نیوز رپورٹ )برطانیہ کو دنیا بھر میں بہترین جمہوریت اور قانون کا احترام کرنے والے ملک کے طور پر مانا جاتا ہے لیکن حال ہی میں برطانوی اخبار ”دی میل “کی جانب سے شائع کی جانے والی خبر نے سب کوہلاکر رکھ دیا ہے ۔اخبار نے ایک سابق چائلڈ سٹار ” لی ٹوسی “کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ایک بچے کو برطانوی اشرافیہ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔برطانوی اشرافیہ جس میں سیاستدان، جج، معروف پاپ سٹار،پولیس اور خفیہ ادارے کے لوگوں نے بچے کو بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ یہ چائلڈ سٹار جس کی عمر اب 48سال ہے نے سکارٹ لینڈ یارڈ کو بتایا کہ 1982ءمیں اسے لندن کے شمال مغربی گیسٹ ہاو¿س میں لے جا یا جا تا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس والے زیادتی کرنے کے بعد اسے پیسے دینے کی پیشکش بھی کرتے تھے اور اسے دھمکایا جا تا تھا کہ وہ خاموش رہے ۔ لی ٹوسی کا کہنا ہے کہ وہ اداکار بننا چاہتا تھا اور فروری 1982میں وہ اور اس کا ایک دوست گیسٹ ہاو¿س کی مالکہ ”کیرل کا سر“سے ملے جس نے اسے بتایا کہ وہ گیسٹ ہاو¿س میں پیسے دے کر رہ سکتا ہے ۔ لی ٹو سی کا کہنا ہے کہ اس نے گیسٹ ہاو¿س میں کام شروع کر دیا جہاں بڑے بڑے سیاستدان بھی آیا کرتے تھے۔آہستہ آہستہ اسے یہ علم ہونے لگا کہ سیاستدان ، جج اوردیگر اہم افراد وہاں کیا کرنے آتے تھے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک سیاستدان” سیرل سمتھ “نے اس سے بد فعلی بھی کی جبکہ پولیس افسران باقاعدگی سے اس کا استعمال بھی کرتے رہے ۔اس کا کہنا ہے کہ اس دوران پولیس گیسٹ ہاو¿س کو دباو¿ میں رکھنے کے لئے چھاپے بھی مارتی رہی ۔اس انکشاف کے بعد تمام برطانیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ لیبر ایم پی کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کریں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام واقعات کی تحقیقات کروائیں گے اور تمام ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیں گے جو کم عمر بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ اگر کسی کو اس واقعہ کے متعلق کوئی معلومات ہوں تووہ حکومت سے رابطہ کرے۔

مزید :

جرم و انصاف -