اسرائیلی فورسزنے یو این سفیر کوایسٹرتہورارپر چرچ میں داخلے سے روک

اسرائیلی فورسزنے یو این سفیر کوایسٹرتہورارپر چرچ میں داخلے سے روک

  

مقبوضہ بیت المقدس/نیویارک(این این آئی) اسرائیلی پولیس نے اقوام متحدہ کے مشرق وسطی کیلیے سفیر امن کو دوسرے سفارت کاروں سمیت یروشلم کے گرجا گھر میں عبادت کیلیے جانے سے روک دیا۔ سفارتکار اور مسیحی برادری کے لوگ ایسٹر سے ایک روز قبل گرجا گھر میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کرنا چاہتے تھے، لیکن اسرائیل نے گرجا گھر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ روکے جانے والوں میں اٹلی، جرمنی اور ناروے کے سفیر بھی شامل تھے،میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اس بارے میں اقوام متحدہ کی شکایت کو مسترد کر دیا اور کہا یہ ایک چھوٹے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ گرجا گھر جانے والے راستے پر پولیس نے رکاوٹیں ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلیے کھڑی کی تھیں۔

،دوسری جانب اقوام متحدہ کے سفیر امن رابرٹ سیری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی سکیورٹی آفیسر نے فلسطینی عیسائیوں کے ایک گروپ اور سفارت کاروں کو عبادت کیلیے گرجا گھر جانے سے روک دیا ، اس بارے میں سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رابرٹ سیری کا کہنا تھاکہ اٹلی، ناروے اور جرمنی کے سفیروں کے ساتھ وہ آدھا گھنٹہ انتظار کرتے رہے،اس بارے میں ایک فلسطینی عینی شاہد کا کہنا تھا کہ اس نے اسرائیلی افسر کو رابرٹ سیری سے بات کرتے سنا جو مزید تیس ایسے افراد کے ساتھ تھے۔ یہ سب لوگ عبادت کیلیے آئے تھے، جب سیری نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ اقوام متحدہ کے سفیر ہیں تو اسرائیلی افسر نے کہا تو کیا کروں؟اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سفیر کے موقف کی تردید کی اور کہا کہ یہ محض واقعے کو سمجھنے میں غلطی کا معاملہ ہے۔ ترجمان کے مطابق اس موقع پر تشدد کا بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔

مزید :

عالمی منظر -