مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین سلیم حیدر کا آپریشن، گولیاں نکا ل لی گئیں

مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین سلیم حیدر کا آپریشن، گولیاں نکا ل لی گئیں

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین اور قوم پرست مہاجر رہنما ڈاکٹر سلیم حیدر جنہیں گزشتہ رات کراچی جوہر موڑ پر دہشت گردوں نے گولیاں مارکر زخمی کردیا تھا انہیں آغا خان اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں اُن کے جسم میں لگنے والی 2گولیاں ڈاکٹروں نے آپریشن کے بعد نکال دیں اور انہیں کمرے میں منتقل کردیا گیا ۔ اتوار کو مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے رہنما¶ں، اراکین اسمبلی اور MITکے رہنما¶ں و کارکنوں نے اسپتال پہنچ کر اُن کی عیادت کی ۔ عیادت کرنے والوں میں رُکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی ۔ ایم این اے معظم قریشی۔ مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی عبدالحکیم بلوچ۔ سابقہ رُکن قومی اسمبلی اعجاز محمود ۔ اراکین سندھ اسمبلی ارتضاءفاروقی۔ اظہار احمد خان ۔ اختر فاروقی۔ سابقہ رُکن صوبائی اسمبلی شیخ اسماعیل عظیم۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما بیرسٹر احمد رضا قصوری۔ محمد علی جعفری۔ فاروق قریشی۔ پیارے میاں۔ اظہار عالم ایڈوکیٹ۔ کراچی سے مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنما ندیم مرزا ۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری خالد ممتاز۔ میرپورخاص سے قیوم شاہد۔ ولی محمد انقلابی۔ ٹنڈومحمدخان سے سعود احمد فاروقی ۔ حیدرآباد سے لطیف خان زئی۔ آصف خلیل۔ اظہر شیخ۔ حبیب اللہ۔ محبت خان۔ تحریک پاسبان عزاءکے راشد علی رضوی۔ MITکے مرکزیر ہنما بہارالدین شیخ۔ راشد قریشی۔ اعجاز شیخ۔ زاہد مغل۔ نوشاد عمرانی۔ عصمت اللہ خان۔ نعیم صدیقی۔ اور دیگر شامل تھے ۔ اس کے علاوہ سندھ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے رہنما¶ں، اراکین اسمبلی نے بھی ٹیلی فون پر ڈاکٹر سلیم حیدر کی عیادت کی اور ان کی صحت یابی کےلئے دُعا کی۔اُدھر آغا خان اسپتال میں پیر کو بھی سارا دن ہزاروں کی تعداد میں MITکے کارکنان جمع رہے ۔ کئی کارکنان فرد جذبات سے روتے دکھائی دیئے ۔ اس موقع پر MITکے مرکزی رہنما بہارالدین شیخ، راشد قریشی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تنظیموں اور تحریکوں پر آزمائش اور کٹھن گھڑیاں آتی ہیں لیکن وہی تحریکیں اور تنظیم سرخرو ہوتی ہیں جو نظم وضبط کے ساتھ اپنی نظریاتی جدوجہد سے جاری رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ MIT کے مہاجر صوبے کے مطالبے کو عوام میں نہ صرف پذیرائی مل رہی ہے بلکہ مہاجر عوام اس مطالبے کو اپنے مسقبل اور اُمید کی آخری کرن سمجھتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -