حامد میر پر قاتلانہ حملے کےخلاف صحافتی تنظیموں ،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے

حامد میر پر قاتلانہ حملے کےخلاف صحافتی تنظیموں ،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ...

  

لاہور( وقائع نگار+سٹاف رپورٹر)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرے کے دوران میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا ۔سینئر صحافی حامد میر پرحملے کے خلاف لاہور پریس کلب کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پی ایف یوجے، پی یوجے اور صحافیوں کی مختلف تنظیموں کے علاوہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوںکے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حامد میر پر حملہ پوری صحافی برادری پر حملہ ہے اوریہ ثابت ہوگیاہے کہ ملک میں کوئی بھی صحافی محفوظ نہیں،حامد میر ملک کے چندنامور اور ہردلعزیز صحافیوں میں سے ایک ہیں اور اگر ملک کے اتنے بڑے شخص کے ساتھ یہ دلدوز واقعہ پیش آسکتا ہے تو ملک میںاب کوئی صحافی محفوظ نہیںرہا ۔ مقررین کا کہناتھا کہ دہشت گردعناصر کے اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے صحافی بالکل گھبرانے والے نہیں ہیں،ملک میں دہشت گردی ہو یا ڈکٹیٹرشپ وہ ہرحال میں اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور کسی بھی صورت میں حق بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹےں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ حکومت سندھ قانون نافذ کرنے میں ایک بارپھرناکام ہوچکی ہے اورپورے ملک میںیہ ہی صورتحال درپیش ہے ۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزموں کوفوری گرفتارکرے ورنہ خیبر سے کراچی تک ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائروں کو آگ لگا کر میٹرو بس کے روٹ کو بند کر دیا ۔ مظاہروں کے شرکاءحکومت سے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے۔پی ایف یو جے کی کال پر ملک بھر کے پریس کلبوں میں آج (پیر )سیاہ پرچم لہرائے جائینگے اور احتجاجی مظاہرے کئے جائینگے۔

احتجاجی ریلی

مزید :

صفحہ آخر -