امن و امان قائم اور جرائم کنٹرول کرنے کیلئے شہریوں کا تعاون ضروری ہے،عادل میمن

امن و امان قائم اور جرائم کنٹرول کرنے کیلئے شہریوں کا تعاون ضروری ہے،عادل ...

  

لاہور ( لیاقت کھرل) اے ایس پی برکی سرکل عادل میمن نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی اور دیہی علاقوں میں جھوٹے الزامات پر مبنی بے بنیاد درخواست بازی پولیس کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،بے جا الزام تراشی کی وجہ سے تھانوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور پولیس کو امن و امان اور کرائم کنٹرول کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پولیس اور شہریوں کے باہمی تعاون سے برکی سرکل کو جرائم سے پاک اور تعیناتی کے دوران ڈاکوؤں ، راہزنوں اور نقب زنوں کے گروہوں کے سینکڑوں ارکان کو گرفتار کیا ہے، عام شہری کو انصاف کی فراہمی پہلی ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’ پاکستان‘‘ سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ اے ایس پی عادل میمن نے کہا کہ امن و امان اور کرائم کنٹرول کرنے میں شہریوں کو پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے،اس سے پولیس اور عوام کے درمیان پائے جانے والے فاصلے بھی کم ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ لاہور کے مضافاتی اور دیہی علاقوں میں جھوٹی اور بے بنیاد درخواست بازی کی شرح زیادہ ہے، اس سے بوگس مقدمات کے اندراج کے سلسلہ نے زور پکڑ رکھا ہے جو کہ پولیس کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ شہری جائز کام کے لئے تھانوں کا رجوع کرنا شروع کر دیں تو اس سے جھوٹی اور بے بنیاد درخواستوں اور بوگس مقدمات کے اندراج میں سو فیصد کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمولی معمولی باتوں پر بے جا الزامات تراشی کی وجہ سے جہاں تھانوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عداتوں میں بھی غلط بیانی کر کے وقت ضائع اور فضولیات میں الجھایا جاتا ہے وہاں عوام کا بھی وقت ضائع ہوتا ہے اور اس سے معمولی رنجش ایک بڑے جھگڑے کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ اس سے شہریوں کو اجتناب کرنا چاہیے اور اچھے شہری کے طور پر شہریوں کو پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان کے قیام اور کرائم کے کنٹرول میں مدد کرنا چاہیے، کیونکہ پولیس اکیلی امن و امان قائم اور کرائم کنٹرول نہیں کر سکتی۔ اس میں شہریوں کا تعاون ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح ایک عام شہری کو انصاف کی فراہمی ہے اور اس مقصد کے لئے ان کے دفتر کے دروازے کھلے ہیں۔ تھانہ برکی، تھانہ ہڈیارہ اور تھانہ ہیئر کے شہری پولیس کے متعلقہ کسی بھی کام ، شکایت یا مقدمہ کے اندراج میں تاخیر اور تفتیش میں درپیش رکاوٹ پر انہیں آ کر مل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک عام شہری کو انصاف فراہم کر کے انہیں دلی خوشی ہوتی ہے۔ ایک سوال پر عادل میمن نے کہا کہ انہوں نے ماتحت تھانوں میں ٹاؤٹوں کا داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ ٹاؤٹوں کی بجائے سیدھے ان کے پاس یا ایس ایچ او سے ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ تعیناتی کے دوران جرائم کی شرح میں 40 سے 50 فیصد کمی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ قبضہ گروپ کے ارکان کو بھاگ دوڑایا ہے۔ اس میں ماتحت ایس ایچ اوز اور عوام دونوں کو تعاون کرنے پر برابر کا کریڈٹ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعیناتی کے دوران ڈاکوؤں ، راہزنوں اور نقب زنوں کے درجنوں گروہوں کے سینکڑوں ارکان کو گرفتار کر کے مال مسروقہ کی برآمدگی کی ہے، جس سے شہریوں کا پولیس پر اعتماد بڑھا ہے، جبکہ علاقے میں ناکوں کی بجائے پولیس گشت بڑھانے سے جہاں کرائم کی شرح کم ہوتی ہے وہاں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتر ی آئی ہے۔اس سے پولیس کو کسی بھی ایمرجنسی کال پر جہاں پہنچنے میں آسانی پیدا ہو رہی ہے وہاں عوام سے بہتر روابط اور علاقے میں پولیس کی موجودگی بھی بہترطور پر نظر آئی ہے۔

مزید :

علاقائی -