قومی ٹیم کا مسئلہ پرفارمنس میں عدم تسلسل :ثقلین مشتاق

قومی ٹیم کا مسئلہ پرفارمنس میں عدم تسلسل :ثقلین مشتاق
قومی ٹیم کا مسئلہ پرفارمنس میں عدم تسلسل :ثقلین مشتاق

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے سابق سپن سٹار ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ باﺅلرز کو قانونی حد میں رہتے ہوئے باﺅلنگ کرنا چاہیے، انھوں نے ناقدین سے بھی کہا کہ وہ باﺅلنگ ایکشن پر نظر رکھنے کے بجائے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو دیکھیں، ثقلین نے پاکستان ٹیم کی پرفارمنس میں عدم تسلسل کو بھی خرابی کی جڑ قرار دیا۔اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے باﺅلرز کے لیے جو 15 ڈگری کی پابندی عائد کی گئی ہے اس کا احترام کرنا چاہیے اور اس حد میں رہتے ہوئے ہی باﺅلنگ کرنا چاہیے، باﺅلرز کو اس حد کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ آئی سی سی نے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا، ثقلین نے ناقدین سے بھی کہا کہ وہ بھی باﺅلرز کے ایکشن پر دھیان دینے کی بجائے ان کی صلاحیتوں کو دیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس وقت آئی سی سی کے رائج باﺅلنگ قوانین سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یاد رہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران ثقلین مشتاق اس ویسٹ انڈین ٹیم کے سپن کوچ تھے جس نے پاکستان کو اہم میچ میں شکست سے دوچار کیا تھا، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستان کیخلاف بھی وہی پلان بنایا تھا جوکہ دیگر ٹیموں کے لیے تھا، پاکستان کاغذ پر اچھی ٹیم تھی، باﺅلرز اس کی طاقت اور اس کے پاس بہترین آل راﺅنڈر تھے جبکہ بیٹنگ لائن بھی قابل اطمینان تھی اس کے باوجود ان کے سیمی فائنل میں نہ پہنچ پانے پر مجھے کافی حیرت ہوئی، پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ پرفارمنس میں عدم تسلسل ہے اسی سے آپ کے حریفوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ آپ کی کمزوری دراصل ہے کیا اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مزید :

کھیل -