بڑی دوربین سے کائنات میں موجود مخلوق کا پتا لگایا جائے گا

بڑی دوربین سے کائنات میں موجود مخلوق کا پتا لگایا جائے گا
بڑی دوربین سے کائنات میں موجود مخلوق کا پتا لگایا جائے گا

  

سینڈی یاگو(نیوزڈیسک)ملک چلی کے مغربی ساحل کی خشک چوٹیوں  میں بہت جلد ایک ڈرامائی تبدیلی آنے  والی ہے - چند ہفتوں میں ، 10،000 فیٹ کے پہاڑکا اوپر والا حصہ ڈائنامیٹ سے تباہ کر دیا جائے گااور یہاں ایک بہت بڑی دوربین لگائی جائے گی. انجینئر گرڈ ہڈفل کا کہنا ہے کہ  "ہم ایک سطح مرتفع پیدا کرنے کے لئے پہاڑ کے اوپر سے  80فٹ تباہ کر دیں گے  اور  ہم وہاں دنیا کی سب سےبڑی دوربین لگائیں گے . " اس دور بین  کو Very Large Telescope یا VLTs کے طور پر جانا جاتا ہے -   دور بین کے  ساتھ ساتھ کنٹرول روم اور زیر زمین سرنگوںمیں  اس کے آلات بھی ہوں گے  .اس جگہ پہ سو سے زائد  انجینئرز اوراور ماہرین رہیں گے. یہاں  ایک اسکواش کورٹ ، ایک انڈور فٹ بال پچ ،  سوئمنگ پول ,ریستوران اور  ایک پرتعیش 110 کمرے کی  رہائش گاہ کے ساتھ ایک اسپورٹس کمپلیکس بھی ہو گا  . دنیاکے خشک ترین  ریگستان میں  ایک حیرت انگیز نخلستان تعمیر کیا جا رہا ہے .   مگر  سوال یہ ہے کہ کس مقصد کے لئےہے؟ایک خشک اور بیابان جگہ پر دنیا کی سب سے بری دور بین کیوں بنائی جا رہی ہے ؟ جواب ہے پانی .  فضا میں موجود پانی کے ذرات ایک دور بین کی تصویر کو دھندلا دیتے ہیں . چونکہ یہ  دنیا کا خشک ترین مقام ہے ، یہاں دور بین کی تصور بھی صاف ترین ہو گی اور خلاء  میں موجود سیاروں ، ستاروں اور کہکشاں کو با آسانی  دیکھا جا سکے گا.علاوہ ازیں دور بین کے حجم کی وجہ سے کائنات کے دور ترین حصے دیکھنا بھی ممکن ہو گا. سائنسدان اس دوربین سے دور دراز سیاروں پر زندگی کے آثار ڈھونڈیں گے. سائندانوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیارے پہ موسمی تبدیلیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہاں پودے موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہاں زندگی موجود ہے. یہ سب کھچ اس نئی دوربین سے دیکھا جا سکے گا.سائینسدان یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا کوئی خلائی مخلوق موجود بھی ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ کیا کر رہی ہے۔ 

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -