پنڈتوں کے نام پر اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے ‘ کشمیری قیادت

پنڈتوں کے نام پر اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے ...

سرینگر(کے پی آئی )کشمیری حریت پسند تنظیموں نے کہا ہے کہ پنڈتوں کے نام پر کشمیر میں اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے ، مجوزہ بستیوں کے قیام سے نفرت کی دیواریں قائم ہونگی اور ان سے دوریاں،تناؤ اور نفرتوں میں ہی اضافہ ہوگا۔اسی لئے کشمیری مذہب اور فرقے سے بالاتر ہوکر ان علیحدہ بستیوں کے خلاف ہیں اور عہدہ بند ہیں کہ ان نفرتوں کی دیواروں کو بننے نہیں دیں گے۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام سمینار میں ایک قرارداد میں ہ وکلا و دانشور طبقوں نے کہا کہ 1947، 1965، 1971 اور 1990کے دوران ریاست چھوڑ چکے کنبوں کو واپس آکر کہیں بھی آبا د ہونے کا حق ہے تاہم مذہبی و طبقاتی بنیادوں پر الگ بستیاں قائم کرنے سے آپسی روا داری اور بھائی چارے کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

یہ قرارداد لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کی دوروزہ علامتی بھوک ہڑتال اور سیمینار کے دوران پاس کی گئی ۔سیمینار میں متفقہ طور پر قرار پایا کہ جموں کشمیر اس ریاست کے پشتینی باشندوں کی ملکیت ہے اور مذہب ،ذات اور نسل سے بالاتر سبھی کشمیری اس سرزمین کے مالک ہیں۔ ہر سٹیٹ سبجیکٹ جو اس سرزمین سے 1947, 1965. 1971, اور 1990 میں الگ ہوا ہے کویہ ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے کہ وہ اس سرزمین کے جس حصے میں چاہے آکر عزت،وقار اور سیکورٹی کے ساتھ آباد ہوجائے ۔یہ بھی قرار پایا کہ جو پنڈت بھائی 1990میں کشمیر سے الگ ہوئے ہیں کو اپنے گھروں اور کھلیانوں میں واپس آجانا چاہئے۔ان کا خیر مقدم کیا جائے گاتاکہ وہ اپنی واپسی سے کشمیر کی مثالی اخلاقی قدروں ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور مختلف مذایب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان بھائی چارہ کی فضا کو دوبارہ قائم کرنے میں معاون بن سکیں۔یہ بھی قرار پایا کہ کشمیری پنڈتوں کی علیحدہ کالونیوں اور یہودی طرز کی علیحدہ آبادیوں کا قیام ہر کشمیری جن میں یہاں رہنے والے مسلمان ،پنڈت،سکھ اور عیسائی شامل ہیں کیلئے ناقابل قبول ہے کیونکہ اس طرز کی بستیاں اور دیواریںیہاں کی مختلف طبقات کے اندر نفرتیں بڑھانے اور یہاں کے لوگوں کے درمیان قائم صدیوں پرانے اعتماد کو زک پہنچائیں گی۔یہ بھی قرار پایا کہ کشمیری مسلمان، سکھ، پنڈت اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے سبھی لوگ اکھٹے ہوکر اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے،کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر کا مقابلہ کریں گے۔ یہ بھی قرار پایا کہ معتبر عالمی تحقیقات کے ذریعے 1990میں یہاں سے پنڈت بھایؤں کے انخلا اور ان حالات کا تعین نیز اس کیلئے ذمہ دار لوگوں کا تعین ہو اور یہ بھی طے کیا جائے کہ 1990میں کتنے پنڈت بھائی اس سرزمین سے انخلا پر مجبور ہوئے تھے۔ اس موقع پر محمد یاسین ملک نے واضح کیا کہ کشمیری عوام پنڈتوں کی گھر کے خلاف نہیں ہیں تاہم انہیں مخصوص بستیوں میں بسانے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی ۔تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیلی طرز کی بستیاں آباد کرنے سے کشمیر میں آپسی بھائی چارے اور رواداری کو بھی زک پہنچنے کا احتمال ہو سکتا ہے ۔اس سے قبل دیگر مقررین نے بھی یک زبان میں مخصوص بستیوں میں پنڈتوں کو بسانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں آر ایس ایس پنڈتوں کا کارڈ کھیل کر نفرت کے بیج بونا چاہتا ہے ۔ اپنے خطاب میں مقررین نے پنڈتوں کے نام پر کشمیر میں علیحدہ بستیاں قائم کرکے یہاں اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے ،کشمیریوں کے درمیان مذہب کے نام پر نفرتوں کو بڑھاوا دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بستیوں کے قیام سے نفرت کی دیواریں قائم ہونگی اور ان سے دوریاں،تناؤ اور نفرتوں میں ہی اضافہ ہوگا۔اسی لئے کشمیری مذہب اور فرقے سے بالاتر ہوکر ان علیحدہ بستیوں کے خلاف ہیں اور عہدہ بند ہیں کہ ان نفرتوں کی دیواروں کو بننے نہیں دیں گے۔

مزید : عالمی منظر