فلم ڈائریکٹرز پر وڈیوسرزنے معاشی مشکلات کی وجہ سے اپنے کاروبار شروع کر لیے

فلم ڈائریکٹرز پر وڈیوسرزنے معاشی مشکلات کی وجہ سے اپنے کاروبار شروع کر لیے

 لاہور (اے پی پی)پاکستان فلم انڈسٹری میں برسوں راج کرنے والے نامور ڈائریکٹرز پر وڈیوسرز ایورنیو اسٹوڈیو اور رائل پارک میں اپنے دفاتر سے محروم ہو گئے۔ان میں متعدد فلمسازوں نے دیگر کاروبار شروع کر لیا جبکہ نامور ڈائریکٹرز کی اکثریت معاشی مشکلات کا شکار ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق فلمساز سہیل بٹ نے گھڑیوں کا کاروبار اور سیاست میں کام شروع کر دیا۔ فلم بلندی جیسی سپرہٹ فلم بنانے والے اسلام بٹ پرننٹگ پریس بنا کر چھپائی کا کام کر رہے ہیں۔ایورنیو سٹوڈیو کے مالک اور تمام تر وسائل رکھنے والے فلمساز و تقسیم کار شہزاد گل نے بھی مختلف نوعیت کے کاروبار شروع کر رکھے ہیں ۔فلمساز میاں خالد فیروز آٹے کا کاروبار کر رہے ہیں ۔فلمساز چوہدری عارف ،عارف چوہدری شان مصطفی ،میاں امجد فرزند علی جمشید ظفر،سلیم احمد سلیم ،چوہدری کرامت علی ،شہزاد علی ،شیخ الہی بخش گابا ،اعجاز باجوہ،عثمان پیرزادہ سمیت50سے زائد دیگر فلمساز اسٹوڈیو اور رائل پارک سمیت کام چھوڑ گئے۔فلم کے ہدایتکاروں میں ایورنیو سٹوڈیو الطاف حسین ،مسعود بٹ،جاوید شیخ ،جمشید نقوی ،شمیم آراء،سنگیتا ،ناصر ادیب ،سید نور اور دیگر ایسے ہی متعدد اچھے ہنر مندوں کی وجہ سے آباد تھا اب ایورنیو اسٹوڈیو سے یہ نایاب لوگوں کی اکثریت غائب ہو چکی ہے ۔باری اسٹوڈیو میں ہدایت کار اقبال کشمیری وحید ڈار مرحوم ،ایم جے رانا مرحوم ممتاز علی خان اور دیگر نامورڈائریکٹرز کے دفاتر شان و شوکت سے تھے وہ بھی ختم ہو گئے۔اب فلم انڈسٹری بحران سے دوچار ہے ۔فلم میکنگ اسٹوڈیو سے نکل کر فارم ہاؤسسز پہاڑی علاقوں اور مختلف کوٹھیوں میں ہو رہی ہے اور اسٹوڈیوز میں ہر سو ویرانی اور فاقوں کا سماں ہے۔

مزید : کلچر