’النہضہ‘‘ کا نام تبدیل، جماعتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا فیصلہ

’النہضہ‘‘ کا نام تبدیل، جماعتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا فیصلہ

 تیونس( آن لائن )تیونس کی سب سے بڑی اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت "تحریک النہضہ" کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی نے جماعت کا نام تبدیل کرنے اور پارٹی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں سال موسم گرما میں پارٹی کے اجتماع عام میں جماعت کا نام تبدیل کرنے اور جماعتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی سفارشات پیش کی جائیں گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تونس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام پسند رہ نما علامہ راشد الغنوشی کا کہنا تھا کہ جماعت کے مرکزی اجتماع ارکان میں پارٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجاویز پیش کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کا نام ایسا ہونا چاہیے جس میں اسلام کے ساتھ ساتھ سیاسی روادری کی جھلک بھی دکھائی دے۔ انہوں نے نام کے حوالے سے ترکی کی حکمراں جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمپٹ‘‘[آق] کی مثال دی اور کہا کہ اس طرز کا نام زیر غور لایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے انتظامی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی اور جماعت کے فکری نصاب پر نظرثانی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت کے سیاسی اور دعوتی دھاروں کو الگ الگ کرنے کی تجاویز بھی آئی ہیں تاکہ جماعت کے دونوں شعبے اپنے اپنے مخصوص دائرے میں رہ کر آزادانہ کام کرسکیں اور سیاسی جماعت کو دعوتی تنظیم کے ساتھ جوڑا نہ جاسکے۔تحریک النہضہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جماعت کو موجودہ سیاسی ثقافت کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اسلامی ریاست کے قیام کے دعوے سے پیچھے ہٹنے پر بھی غور کررہے ہیں تاکہ جماعت کو تیونس کے آئین کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ لینے کے قابل بنایا جاسکے۔خیال رہے کہ تیونس میں سابق برطرف صدرزین العابدین بن علی کے ملک سے فرار کے بعد کئی سال زیرعتاب رہنے والی تنظیم تحریک النہضہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی تھی تاہم حالیہ صدارتی انتخابات میں تحریک النہضہ کے مخالف الباجی قائد السبسی ملک کے صدر منتخب ہوگئے تھے، اس کیباوجود تیونسی پارلیمنٹ میں تحریک الہضہ کے اب بھی اکثریت ہے۔

مزید : عالمی منظر