آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی نیپال کے راستے سے وادی وپسی کی پالیسی ناکام

آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی نیپال کے راستے سے وادی ...

سرینگر(کے پی آئی ) مقبوضہ کشمیر حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم کشمیری نوجوانوں کی نیپال کے راستے سے وادی واپس لانے کی پالیسی اب کافی سرد پڑ چکی ہے۔ کیونکہ سر کشمیری نو جوان اب وادی لو ٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔واضح رہے کہ ریاستی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران سابق ریاستی حکومت نے باز آباد کاری پالیسی کو ناکام قرار دے کر چونکا دینے والے اعدادوشمار پیش کئے تھے۔ایک تحریری جواب میں بتایا گیا تھا کہ پانچ برسوں میں 453 مرد،197خواتین اور603 بچے شامل ہیں۔

وہ نو جوان جو اب تک باز آباد کاری پالیسی کے تحت گھر لو ٹے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ یہا ں پر در در کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہیں ۔انہو ں نے بتا یا کہ سرکار نے انہیں یقین دلایا تھا کہ جو کشمیری نو جوان گھر واپس آنا چاہتے ہیں انہیں اپنے گھرو ں میں باز آبا د کاری پالیسی کے تحت بسایا جائے گا لیکن یہا ں آکر انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ان نو جو انو ں کا کہنا ہے کہ گھر واپس لو ٹنے کے بعد سابق وزیر مال رمن بھلہ نے ایک کنونشن میں یقین دلایا کہ ان کی باز آباد کاری پالیسی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا ۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ واپس لوٹے نوجوانوں کے بچوں کی پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی نہیں بنی ہے کیونکہ ان بچوں کی پیدائش پاکستانی کشمیر میں ہوئی ہے۔ان بچوں کو سکول میں داخلہ ملنا بھی نامکن بن گیا ہے، پاسپورٹ یا پرمٹ تو بہت دور کی بات ہے۔اس پالیسی کے تحت اب تک پانچ سو سے کم لوگ واپس آگئے ہیں اور ان میں زیادہ ترشادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں ۔سرحدی ضلع کپوارہ کے مختلف علا قوں سے تعلق رکھنے والے کئی کنبے بھی اسی پالیسی کے تحت گھر لو ٹے ،تاہم یہا ں آکر وہ اپنی قسمت کا رو نا رورہے ہیں ۔علی محمد بجاڑ ساکن وارسن نے بتا یا کہ وہ 90کی دہائی میں سرحد پار چلے گئے اور وہا ں شادی کی جبکہ میری ایک بیوی اپنے گھر وارسن میں ہی تھی ۔علی محمد کا کہنا ہے کہ سرکار کے اعلان کے بعد کئی کشمیری نو جوان اپنے گھرو ں کو واپس آنے کے متمنی تھے۔ انہو ں نے بتا یا کہ اگرچہ شروعات اچھی رہی تاہم بعد میں جب یہا ں آکر سرکار نے ان سے آنکھیں چرائیں تو اس کے بعد باز آباد کاری پالیسی کہیں نہیں رہی۔انہو ں نے بتا یا کہ صورتحال اب اس قدر تبدیل ہوگئی ہے کہ اس سال اب تک محض ایک شخص گھر واپس لو ٹ آیا ہے۔علی محمد نے بتا یا کہ میری دو بیویو ں کے 17بچے ہیں اور جس امید کے تحت ہم گھر واپس لو ٹ آئے تھے وہ بالکل غلط ثابت ہوئی کیونکہ اس وقت وہ دن بھر مزدوری کر کے مشکل سے گھر کا گزارہ کرپاتا ہے۔ ۔علی محمد کے مطابق کپوارہ ضلع کے جتنے بھی نو جوان سرحد پار سے واپس آئے وہ سب کے سب پریشان ہیں کیونکہ یہا ں آکر وہ مختلف ذہنی پریشانیو ں کا شکار ہوئے ہیں ۔ان نو جوانو ں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا کر سرحدی پار سے آئے ہوئے نو جو انو ں کی باز آبادکاری کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر وہ سڑکو ں پر آنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔

مزید : عالمی منظر