گورنر خیبرپختونخوا کے فاٹا کے لئے انقلابی اقدامات

گورنر خیبرپختونخوا کے فاٹا کے لئے انقلابی اقدامات
گورنر خیبرپختونخوا کے فاٹا کے لئے انقلابی اقدامات

  

انگریزوں کے دور سے قبائلی علاقے ایف سی آر کے کالے قانون کے تحت ہمیشہ پولیٹیکل ایجنٹس کے رحم و کرم اور ترقی سے محروم رہے ۔اس ترقی سے محرومی میں مقامی ملکان ،جو پولیٹیکل ایجنٹس کے ساتھ ملے ہوتے ہیں،کا بنیادی کردار رہا ۔2001ء کے بعد قبائلی علاقوں کی پوری ہیئت تبدیل ہو گئی اور قبائلی در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبو ر ہو گئے ۔وہ قبائلی جوکبھی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے حکم پر پاکستان کے دفاع کے لئے قبائلی علاقوں سے سری نگر تک پہنچ جاتے یا متاثرین کے کیمپوں میں دوسروں کی امداد کے منتظر رہے اور برسوں اپنے علاقوں سے دور رہے ،اس دوران مسلم لیگ(ن)کی حکومت آنے کے بعد مسلم لیگ نے خیبرپختونخوا میں سردار مہتاب احمد خان جیسی شخصیت کو گورنر نامزد کر دیا، جنہیں قبائلیوں کے درد کا نہ صرف احساس تھا، بلکہ انہوں نے قبائلیوں کے اس درد کو دور کرنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں اور ایک بار پھر قبائلی ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہے ہیں۔ گورنرخیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان سے غیور قبائلی عوام نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں کہ وہ ایک سینئر سیاست دان ہیں،انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے اور ان پر ابھی تک کرپشن کا ایک بھی داغ نہیں لگا ،وہ صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں ۔فاٹا کے رسم و رواج اور قبائلی روایات سے آگاہی رکھتے ہیں۔

گورنر نے فاٹا میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے اقدامات شروع کئے اور ایک اصلاحاتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے گزشتہ ایک سال کے دوران فاٹا سیکرٹریٹ،قبائلی ایجنسیوں اور فاٹا کے نظام کے بارے میں سفارشات تیار کی ہیں، جس سے قبائلی عوام کی تقدیر بدلے گی اور فرسودہ نظام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ گورنر نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فاٹا میں بھی این ٹی ایس کا نظام متعارف کرایا، جس سے فاٹا میں سفارش ، سیاسی اثر رسوخ اور پیسوں کے کلچر کو دفن کیا گیا۔ فاٹا سیکرٹریٹ سے لے کر مختلف قبائلی ایجنسیوں میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیاں شفاف طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر نوکریاں ملتی ہیں۔ اس اقدام کی وجہ سے فاٹا میں پہلی بار اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، جو ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پھرتے تھے ،اب این ٹی ایس پاس کرنے کے بعد فاٹا سیکرٹریٹ کے حکام خود ان سے رابطہ کرتے ہیں ۔قبائلی علاقوں سے بیروزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے فنی تعلیم و تربیت کا پروگرام شروع کیا ۔

گورنر نے حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا تھا کہ فاٹا کے دس ہزار نوجوانوں کو سالانہ فنی تعلیم و تربیت فراہم کی جائے گی ۔گورنر نے نہ صرف اعلان کیا، بلکہ اس اعلان پر عمل درآمد بھی کیا اور مڈل پاس دس ہزار نوجوان فنی تعلیم اور تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔گورنر جو بات کرتے ہیں، اس پر عمل کر کے دکھاتے ہیں ،دس ہزار نوجوان دس ہزار خاندانوں کی باعزت کفالت کریں گے اور فاٹا سے بیروزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا ۔قبائلی علاقوں میں ایک سال کے دوران میرٹ کی بنیاد پر فاٹا سیکرٹریٹ میں انتظامی افسران تعینات کئے اور مختلف قبائلی ایجنسیوں میں پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو بھی میرٹ پر تعینات کیا گیا ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ فاٹا کی تاریخ میں پہلی بار ہر ایک ایجنسی میں کھلی کچہری کا انعقاد کرتے ہیں ۔پہلے تو عام آدمی کئی ماہ تک پولیٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کے لئے ان کے دفتر کے چکر لگاتا تھا اور ملاقات نہیں ہوتی تھی، لیکن اب ہر ماہ گورنر خیبرپختونخوا کے واضح احکامات کے مطابق ہر ایک ایجنسی میں تمام محکموں کے سربراہوں کے ہمراہ پولیٹیکل ایجنٹ کھلی کچہری کا انعقاد کرتے ہیں ،اس سے قبائلیوں کے مسائل حل ہوتے ہیں ۔

گورنر نے فاٹا میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں سیاسی اثر رسوخ ،سفارش کے کلچر اور پیسوں کے استعمال کا بھی خاتمہ کر دیا ہے اور میرٹ کی بنیاد پر ایماندار ،دیانتدار اور فرض شناس افسران کو فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں تعینات کیا جاتا ہے۔گورنر نے خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے وادی تیراہ کا دورہ کیا ،وہ ملک کی تاریخ میں پہلے گورنر ہیں، جنہوں نے وادی تیراہ کا دورہ کیا اور ساڑھے تین ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ۔پاک فوج وادی تیراہ میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے کام کر رہی ہے اور ترقیاتی پیکیج میں سکولوں،کالجوں کا قیام ،سڑکوں کی تعمیر ،آبنوشی کی سکیمیں اور ہسپتال شامل ہیں ۔تیراہ کے پیکیج سے تیراہ کے قبائلیوں کی تقدیر بدل جائے گی ،ہزاروں نوجوان اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کی طرف سفر کریں گے اور وہ بچے،جو صبح گھر سے نکل کر مویشی چراتے تھے، اب وہ سکول جائیں گے ،وہ مریض جنہیں خچروں پر علاج معالجے کے لئے دوسرے علاقوں میں جانا پڑتا تھا۔وہاں پر اب ہسپتال قائم کئے جارہے ہیں، جس کا کریڈٹ گورنر خیبرپختونخوا اور پاک فوج کو جاتا ہے، کیونکہ پاک فوج نے وادی تیراہ سے عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا ،امن بحال کیا اور آئی ڈی پیز کو قلیل مدت میں تیراہ میں واپس بھیج دیا۔

فاٹا کے متاثرین کی اپنے علاقوں میں واپسی بڑا مطالبہ تھا جو دس برسوں سے اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے تھے اور واپسی چاہتے تھے ۔گورنر نے پاک فوج کے تعاون سے لاکھوں متاثرین کو اپنے علاقوں میں باعزت واپسی کے لئے اقدامات شروع کئے ،مرکز سے اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری بھی لی او ر جنوبی وزیرستان کے متاثرین کو سات سال بعد اپریل میں واپسی کا عمل شروع کیا ۔انہیں بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ اِسی طرح خیبر ایجنسی باڑہ کے متاثرین جو چھ برسوں سے کیمپوں میں رہائش پذیر تھے ،انہوں نے بھی اپریل میں اپنے علاقوں کو واپسی شروع کی ۔شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی بھی شروع ہو چکی ہے ۔متاثرین کی واپسی کے بعد متاثرہ علاقوں کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے اقدامات شروع کئے جائیں گے اور متاثرین کو گھروں کی بحالی کے لئے معاوضہ بھی دیا جائے گا ۔لاکھوں آئی ڈی پیز کی واپسی میں پاک فوج اہم کردار ادا کر رہی ہے، پاک فوج پر غیور قبائلی عوام کا اعتماد بڑھا ہے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس وقت پاک فوج اور قبائلی عوام ملک کے دفاع اور سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

گورنر نے حلف اٹھانے کے بعد قبائلی نوجوانوں کے لئے پنجاب حکومت کی طرح انڈومنٹ فنڈکے قیام کا اعلان کیا تھا ۔خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے دس ارب روپے کی خطیر رقم سے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا، جس سے ہزاروں ہونہار طلباء و طالبات کو سکالر شپ فراہم کی جاتی ہے ۔طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔گورنر سردار مہتاب احمد خان نے بھی اعلان کیا تھا کہ فاٹا میں لاکھوں متاثرین کی واپسی کے باعث فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔غیور قبائلی عوام گورنر خیبرپختونخوا سے توقع رکھتے ہیں کہ فاٹا میں بھی انڈومنٹ فنڈ قائم کریں تاکہ فاٹا کے طلباء بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور فاٹا کے غریب کا بچہ بھی جنرل، افسر، ڈاکٹر اور انجینئر بن سکے ۔انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے بعد فاٹا میں کوئی بھی ذہین طالب علم اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم نہیں رہے گا ۔پنجاب حکومت کی طرح فاٹا میں امتحانات میں ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے نقد انعامات کے پروگرام اور مطالعاتی دوروں کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے تاکہ قبائلی نوجوانوں میں تعلیم کے حصول کا جذبہ بڑھے اور فاٹا کے ذہین نوجوانوں میں احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکے ۔گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان فاٹا کے ٹاپ پوزیشن ہولڈرز طلباء کے لئے نقد انعامات کی منظوری دیں اور لاکھوں طلباء کے دل جیتیں۔

مزید : کالم