سلامتی کا را ستہ

سلامتی کا را ستہ

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی متفقہ طور پر پاس کردہ قرار داد سعودی عرب اور یمن قبائل تنازعہ میں واحد سلامتی کا راستہ ہے۔سعودی عرب اور یمن قبائل کے مابین لڑائی کی آ گ کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ فریق بن کر لڑائی کو بڑھایا اور پھیلایا نہ جائے، بلکہ غیر جانبدار رہ کر مصالحت کرائی جائے۔ گولہ بارود فروخت کرنے اور مسلمان ملکوں کو کمزور دیکھنے کی دیرینہ آرزو رکھنے والی بڑی طاقتوں کی خواہش یقینی طور پر یہی ہوگی کہ جنگ بڑھے اور پھیلے۔ ان کا اسلحہ فروخت ہوتا رہے اور سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا سرمایہ ان کے ہاتھ لگے، لیکن پاکستان نہیں چاہتا کہ دو برادر مسلمان ملک باہمی لڑائی میں اپنے وسائل برباد کریں مسجدوں مدرسوں تعلیم گاہوں اور معیشت کے ضامن اداروں کو خاکستر کر دیا جائے۔ اس سے مسلمان ملکوں کی اجتماعی قوت میں کمی آئے گی۔ ممکن ہے جنگ میں یمن قبائل شکست و ریخت سے دوچار ہوں ،لیکن دلوں اور دماغوں میں دشمنی کے جراثیم گھر کر جائیں گے۔ ایسے جراثیم آئندہ بھی بات بات پر لڑائی اور دنگا فساد پر اکساتے رہیں گے۔ اس لئے دونوں فریقوں کو میز پر بٹھانا اور صلح کرانا اس کا سود مند ترین حل ہے۔

اس قضیہ میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے شاندار مصالحانہ کردار انجام دیا ہے۔ سعودی حکومت کے ساتھ ذاتی تعلقات اور پاکستان پر ان کے احسانات سے با لاتر ہو کر مسلم ممالک کی سلامتی کے مشن کو پروان چڑھانے کے لئے پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلایا اور چار روز کی بحث کے بعد متفقہ قرار داد منظور ہوئی جو موجودہ حالات میں سلامتی کا واحد ر استہ ہے۔ بعض خلیجی شخصیات کے جذباتی اور تند و تیز رد عمل کے باوجود سعودی حکومت کی مدبرانہ سوچ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان کا موقف درست اور دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔سعودی عرب مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز اور رشد و ہدایت کا منبع ہے۔ہر سال لاکھوں مسلمان حج کی سعادت اور روضہ رسولؐ کی زیارت سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا ایسا برادر ملک ہے جس نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی دستگیری کی ہے۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو جلاوطنی کے دوران سرور پیلیس اور تمام سہولتیں مہیا کیں۔ اس طرز عمل اور حسن سلوک کا تقاضا تھا کہ سعودی فرمانروا کی فرمائش پر پاک فوج کے دستے فوری طور پر سعودی اتحاد کے ساتھ یمن میں لڑائی کے لئے روانہ کر دیئے جاتے۔ وزیراعظم نے مسئلہ کو جذبات اور احسانات سے مغلوب ہو کر حل نہیں کیا، بلکہ پوری قوم کی نمائندہ پارلیمنٹ سے مشاورت سے متفقہ اور طاقتور حل تلاش کرنے کو ترجیح دی۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں چار روز کی بحث کے بعد متفقہ قرار داد منظور کی گئی، جس پر پاکستان کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا ایک متفقہ قرار داد منظور کی۔ اس طرح اجتماعی دانش نے تنازعہ کے حل کا محفوظ راستہ تجویز کیا۔ قرار داد میں پاکستان کی غیر جانبدار حیثیت بحال رہے گی البتہ اگر حرمین الشریفین کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان کے فوجی دستے فوری طور پر پیش رفت کریں گے۔ خدشہ تھا کہ اگر پاکستان فوری طور پر فوجی دستے یمن میں بھیج دیتا تو یہ لڑائی پھیل جاتی اور مسلمان ملکوں میں فساد بڑھ جاتا۔ وزیراعظم پاکستان اور پارلیمنٹ نے صلح جوئی کا جو راستہ تجویزِ کیا ہے اس میں خیر کے امکانات غالب ہیں۔

او آئی سی مسلمان ملکوں کے باہمی تنازعات ختم کرنے کے لئے بنی ہوئی ہے، لیکن مردہ ہو چکی ہے۔ مسلمان ملکوں پر بعض اوقات مصیبت کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، لیکن یہ تنظیم سوئی رہتی ہے۔ اس میں ہمت اور جرأت کا فقدان ہے۔ اس میں گرد و پیش کے حالات کو دیکھنے اور فوری فیصلہ کرنے کی شاید صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ اس تنظیم کو حیات نو دی جائے بصورت دیگر انہی مقاصد کے لئے سعودی فرمانروا کی سر براہی میں ایک سپریم کونسل بنائی جائے جس میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمدنواز شریف اور ترکی کے وزیراعظم شامل ہوں۔ کوشش ہونی چاہئے کہ ایران مسلمان ملکوں کی سلامتی کے مقاصد کی آئینہ دار سپریم کونسل میں شامل ہو جائے۔ سپریم کونسل فوری طور سعودی عرب اور یمن قبائل کے مابین لڑائی ختم کرائے۔ یمن کی شکست و ریخت کی تعمیر نو میں سعودی عرب اور خلیجی ملکوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔ اس کے بعد سپریم کونسل کو مستقل حیثیت دی جائے اور جہاں کہیں مسلمان ملکوں کے مابین اختلافات شدت اختیار کریں۔ انہیں ختم کرایا جائے۔ اس طرح اُمت کا تصور اجاگر ہو جائے گا۔ سعودی عرب ترکی پاکستان ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا جائے۔ سرمایہ کاری کا حجم بڑھایا جائے۔ مسلمان ملکوں میں بے روزگاری اور غربت ختم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے، تاکہ مسلمان ملک اپنی تجارتوں اور سرمایہ کاری کے لئے مغربی ملکوں کی دست نگری سے نکل سکیں۔

مزید : کالم