انتخابی اصلاحات:تا خیر کیوں ؟

انتخابی اصلاحات:تا خیر کیوں ؟
انتخابی اصلاحات:تا خیر کیوں ؟

  

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مسلسل دباؤ، دھرنوں اور تاریخی جدو جہد کی وجہ سے ہی ممکن ہوا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی وفاقی حکومت نے 2013میں ہونے والے عام انتخابات میں کی جانے والی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا۔ سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس جناب ناصر الملک نے کمیشن کی منظوری دے کر اپنی سربراہی میں کمیشن کا کام بھی شروع کر دیا۔ ان ہی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں موجودہ حکومتیں قائم ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان طویل عرصے سے انتخابات میں کی جانے والی دھاندلیوں کا بار بار الزام لگا رہے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد میں 126دن دھرنا بھی دیا تھا۔ ملک میں ایک طبقے کو انتخابات میں کوئی دھاندلی نظر نہیں آتی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام ، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور دیگر کئی رہنماؤں اور امیدواروں کو انتخابات میں اس حد تک دھاندلیاں مشاہدہ میں آئیں کہ انہوں نے اس پورے عمل کا نام ہی ’’ ڈبے بھرو مہم ‘‘ رکھ دیا۔ کئی انتخابی حلقوں میں تو ووٹوں کی گنتی کے وقت جو بیلٹ پیپر ڈبوں سے نکالے گئے وہ تو کسی بھی سلوٹ کے بغیر تھے یعنی بیلٹ پیپر کتاب میں سے پھاڑے گئے، مہر لگائی گئی اور تہہ کئے بغیر ڈبوں میں بھر دئے گئے۔ ایسا کسی خاص حلقے میں نہیں ہوا تھا بلکہ ایک سے زائد حلقوں میں کیا گیا تھا۔ پھر شانختی کارڈ بنانے والے ادارے نے ایک نہیں کئی حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کے بارے میں جو رائے دی ہے وہ بھی ان الزامات کو تقویت بخشتی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلیاں ہوئی تھیں۔ یہ تو سارا عمل پولنگ اسٹیشنوں پر کیا گیا تھا۔ شہروں اور دیہاتوں میں شہری اور دیہی ناخدا لوگوں کی رائے کا احترام ہی کب کرتے ہیں؟ لوگ ان نا خداؤں کے اتنے زیر اثر ہوتے ہیں کہ پولنگ اسٹیشن میں بھی وہ ان کے خوف کے سائے میں ہوتے ہیں۔ پاکستان میں تو ایک بھی انتخابات دھاندلیوں کے بغیر نہیں ہوئے ہیں۔ مرحوم نواب زادہ نصر اللہ خان کا وہ تاریخی بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے سن 1970کے انتخابی عمل پر دھاندلیوں کا الزام لگایا تھا۔ صاف، شفاف، غیر جا بندار ، کسی مداخلت کے بغیر انتخابات کا انعقاد ملک میں ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ سیاست کو وراثت سمجھنے والے لوگ صاف، شفاف، غیر جا بندار ، کسی مداخلت کے بغیر منعقد کردہ انتخابات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کا قیام ایسا ہی ہے کہ حکومت نے اپنی گراں ذمہ داری کا بوجھ کسی اور پر ڈال دیا۔ بہر حال کمیشن انتخابات کے سلسلے میں اب جو بھی نتائج اخذ کرے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران نواز شریف حکومت نے دھرنوں کے سیاسی اثرات کو محدود کرنے اور اپنی حکومت کو محفوظ کرنے کے لئے انتخابی اصلاحات کی تجاویز تیار کرنے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ کمیٹی کے سربراہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہیں۔ کمیٹی کے بعض اراکین اعتراف کرتے ہیں کہ کمیٹی آج تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر سکی ۔ الیکشن کمیشن اپنے تئیں اسے دئے گئے اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا ہے اسی لئے بار بار یہ مطالبہ بھی سامنے آتا ہے کہ کمیشن کو مکمل با اختیار کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے 2013 کے انتخابات کے بعد بھی حکومت کو ایسی تجاویز پیش کیں جن پر قانون سازی کی ضرورت ہے اور جو کمیشن کے خیال میں انتخابی عمل کو مزید شفاف کر سکتے ہیں۔ آخر بھارت جیسے وسیع ملک میں بھی تو کمیشن آزادانہ ماحول میں مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرتا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے اخبارات میں ایک اشتہار شائع کرایا گیا تھا جس میں شہریوں سے تجاویز طلب کی گئی تھیں۔

پارلیمانی کمیٹی کیوں نہیں سابق ججوں، سابق ریٹرننگ افسران، سابق پریزائڈ نگ افسران، رٹائرڈ صحافیوں، وکلاء، معمر سیاسی رہنماؤں پر مشمل علیحدہ علیحدہ ایسی ذیلی کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کر سکتی اور انہیں یہ ذمہ داری سپرد کیوں نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنی اپنی تجاویز مرتب کریں تا کہ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ صاف، شفاف، غیر جانبدار، کسی بھی مداخلت سے پاک کرانے کا پرکٹھن راستہ ہموار ہو سکے۔ انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں پڑوسی ممالک سے بھی تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تجاویز بھی طلب کی جائیں کہ پاکستان میں الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ کی اصلاح کیسے کی جائے۔ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسی قابلیت ہونا چاہئے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ کوئی بھی صاحب رکن منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ کا مقصد کس حد تک پورا کر سکیں گے۔ پارلیمنٹ کے کئی اراکین ایسے ہوں گے جو منتخب تو ہوجاتے ہیں لیکن کام دھیلے کا نہیں کرتے۔ ان کا صرف ایک ہی کام ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی مفادات کے لئے افسران اور وزراء تک پہنچ چاہئے ہوتی ہے جس کے لئے منتخب ایوانوں کی رکنیت سے بہتر کو ئی اور ذریعہ نہیں ہو سکتا ہے۔ جو لوگ عام انتخابات میں منتخب نہیں ہو پاتے وہ اپنی دولت کا سہارا لے کر ایوان بالا یعنی سینٹ کی رکنیت حاصل کر لیتے ہیں۔

بہت شور کیا جاتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے لیکن یہ دیکھنا بھی تو کسی کی ذمہ داری ہو کہ کیا امیدوار پولنگ بوتھ پر اپنا ایجنٹ نامزد کر سکا ہے یا نہیں۔ ہر امیدوار پر پابندی کیوں نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ہر پولنگ بوتھ پر اپنا ایجنٹ نامزد کرے۔ جو امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن پر پولنگ ایجنٹ نامزد نہیں کر سکتا ، اسے انتخابی عمل سے ہی باہر کیا جا نا چاہئے۔ انتخاب میں اکثر بیک وقت کئی امیدوار کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیوں نہیں پابندی لگائی جائے کہ وہ ہی امیدوار کامیاب قرار پائے جو رجسٹرڈ شدہ ووٹ کا 51 فیصد ووٹ حاصل کرے گا۔ اگر امیدوار 51 فیصد ووٹ حاصل نہیں کرتے ہیں تو اس حلقہ میں انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔ یہ کون سا نظام ہے کہ حلقے کے ووٹروں کی اکثریت ووٹ نہیں ڈالتی اور کم ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار بھی کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ کیوں نہیں ان تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا تی جو انتخابات میں رجسٹر شدہ کل ووٹوں کا 10 فیصد بھی حاصل نہیں کر پا تی ہیں۔

اصلاحات لانی ہیں تو بہت ساری کڑوی گولیاں تو کھانی ہی پڑیں گی۔ کوئی بھی شخص دو سے زائد بار وزیراعظم، وفاقی یا صوبائی وزیر منتخب اور مقرر کیوں ہو۔ دو بار سے زائد مدت کے لئے پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا سینٹ کا رکن منتخب ہونے والے افراد پر پابندی عائد ہونی چاہئے کہ وہ انتخابات نہیں لڑ سکیں گے۔ یہی طریقہ ہے جس کے تحت ملکی سیاست کو وارثتی سیاست سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ انتخابی حلقہ وراثت سے پاک کرایا جانا اس لئے بھی نہایت ضروری ہے کہ ملک کو حقیقی جمہوریت سے ہمکنار کیا جا سکے۔ ایک خاندان سے صرف ایک ہی شخص ایک وقت میں سینٹ، قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا رکن ہو نا چاہئے تاکہ ایک ہی وقت میں ایک ہی اسمبلی میں شوہر اور بیوی ، باپ، بیٹا، بہو، بیٹی، داماد، بھائی، ماموں، بھانجہ ، بھتیجا کی لعنت سے بچا جا سکے۔ اس رواج کو کبھی تو ختم ہونا ہی چاہئے۔ امیدوار کے صادق اور امین ہونے کے لئے یہ ہی کافی نہیں ہو کہ ریٹرنگ افسر ان سے کلمہ سنیں اور اہل قرار دیں۔ یہ گنجائش رکھی جائے کہ لوگ ریٹرنگ افسر کو اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر امیدوار کی اہلیت پر سوال اٹھا سکیں۔ یہ امیدوار کی ذمہ د اری قرار دی جائے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ زانی ، شرابی، جواری ، یا خائن نہیں ہے۔ وہ کسی مالی ادارے کا نادہندہ یا مقروض نہیں ہے۔ وہ اپنے علاقے میں جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں ، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث افراد کا سرپرست نہیں ہے۔ منتخب ایوانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نہ جانے بھیانک جرائم میں گردن گردن ملوث ہیں۔

الطاف گوہر اپنے وقت کے ایسے سول افسر تھے جنہیں انتظامی معالات کا وسیع تجربہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے روزنامہ نوائے وقت میں کالم تحریر کئے تھے جنہیں بعد میں کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ ’’لکھتے رہے جنوں کی حکایت ‘‘ کے پیش لفظ میں 10جون 1997 کو انہوں نے لکھا تھا ’’ پچاس برس سے قوم جاگیردارانہ نظام کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے، نواب، سردار، خان، اور وڈیرے عوام کی قسمت کے مالک بن چکے ہیں، نہ کوئی ریاستی ادارہ ان کی دسترس سے محفوظ ہے نہ عوام کے حقوق اور جمہوری اصول ان کی نظر میں کوئی وقعت رکھتے ہیں۔ قوم کو اس صوت حال سے اس وقت نجات حاصل ہو گی جب آپ اپنے آپ کو اس بیہیمانہ نظام سے کنارہ کش کر لیں گے‘‘۔

اس تماش گاہ میں یہ ایک دیرینہ طویل بحث ہے کہ کیا طریقہ کار اپنایا جائے کہ ملک میں انتخابات صاف، شفاف، غیر جا بندار ، کسی مداخلت کے بغیر قرار پائیں۔ ابھی توجوڈیشل کمیشن اپنا کام کر رہا ہے۔ کمیشن الیکشن کمیشن کی مدد سے یہ تعین تو کرے کہ انتخابات میں دھاندلی کتنے فیصد ہوئی تھی اور کن کن حلقوں میں ہوئی تھی۔ جب نادرا کی رپورٹیں تصدیق کر رہی ہیں کہ جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں تو پھر ان انتخابی نتائج کی روشنی میں قائم ہونے والی حکومتوں کی حیثیت پر بھی حرف آتا ہے۔ جعل سازی اور دھاندلیوں کے مرتکب نمائندوں کو نااہل قرار د ئے جانے کے ساتھ ساتھ کیوں نہیں انتخابی اصلاحات کے نفاذ کے بعد نئے سرے سے انتخابات پر غور کیا جائے۔ انتخابی اصلاحات کے بارے میں تجاویز تو بہت ساری ہیں جن پر عمل کرنے سے پاکستان میں انتخابی عمل شفاف ہو سکتا ہے اور جب انتخابات شفاف ہوں گے تو اسی صورت میں جمہویت کو بھی استحکام نصیب ہوگا۔

مزید : کالم