پھانسیاں کیسے بند کریں :ہمارے حالات خطرناک ہیں

پھانسیاں کیسے بند کریں :ہمارے حالات خطرناک ہیں
پھانسیاں کیسے بند کریں :ہمارے حالات خطرناک ہیں

  

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ترجمان ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اظہار تشویش کرتے ہوئے مطالبہ کیا۔یا حکم صادر فرمایا کہ پاکستان پھانسیوں پر پابند ی لگائے انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے 160سے زائد رکن ملکوں میں پھانسی کی سزا ختم ہو چکی ہے۔ 21ویں صدی میں اسکی گنجائش نہیں۔ زندہ رہنا بنیادی انسانی حق ہے۔ جواب میں پاکستان کے ترجمان نے عرض کیا کہ سزائے موت پر عمل درآمد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ پھانسیوں کے حوالے سے ہم عالمی برادری کو اپنا موقف بتا چکے ہیں۔ ہمارا آئین اسکی اجازت دیتا ہے۔ یہاں دہشت گرد پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے فرمان سے تو یوں لگتا ہے۔ کہ اقوام متحدہ کے 193رکن ملکوں میں 160سے زیادہ ممالک سزائے موت پر پابندی لگا چکے ہیں۔اکیسویں صدی میں پاکستان جیسے ہی چند بد قسمت ممالک ایسے رہ گئے ہیں۔ جنہیں یہ احساس نہیں ہے کہ زندہ رہنا بنیادی انسانی حق ہے۔ اور جہاں اب تک انسانوں کو پھانسی پر لٹکایا جا رہا ہے۔ سزائے موت کے حوالے سے کاش یہ عالمی تصویر اتنی ہی ''گلابی'' ہوتی۔ معروضی حالات اسکی تائید نہیں کرتے۔ سزائے موت بارے تازہ ترین عالمی نقشہ کچھ یوں ہے۔

اس وقت اقوام متحدہ کے رکن 115ممالک میں سزائے موت مکمل ختم ہو چکی ہے۔ ان ملکوں کی مجموعی آبادی صرف ایک ارب 37کروڑ ہے۔ 70کروڑ کی آبادی کے 17ممالک میں سزائے موت قانوناً رائج ہے۔ البتہ وہ سزائے موت کو ختم کرنے کے پراسیس سے گذر رہے ہیں۔ اور وہاں گزشتہ 10سال سے پھانسی پر عمل نہیں ہو رہا۔ برازیل۔ اسرائیل اور قازقستان سمیت 8ملک ایسے ہیں۔ جہاں قانوناًسزائے موت موجود ہے۔ لیکن عام جرائم کیلئے نہیں۔ صرف فوجی جنگی اور سپیشل جرائم کے مرتکب افراد کو پھانسی دی جاتی ہے۔ ان ممالک کی مجموعی آبادی 28کروڑ ہے۔ تا ہم اقوام متحدہ کے ہنوز 57ممالک میں قانوناً اور عملاً سزائے موت رائج ہے۔ ان ممالک میں چین۔ بھارت۔ امریکہ۔ جاپان۔ ایران۔ انڈونیشیا۔ بنگلہ دیش۔ مصر۔ کانگو اور پاکستان بھی شامل ہیں۔اس کرہ ارض پر انسانوں کی 7ارب 3کروڑ آبادی میں ان ممالک کی مجموعی آبادی 4ارب 67کروڑ ہے۔ کائنات میں انسان فطر ت کا شاہکا ر ہے۔ زندگی ایک انمول تحفہ ہے۔ بلاشبہ زندہ رہنا بنیادی انسانی حق ہے، مگر کیا قاتلوں، دہشت گردوں اور خطرناک مجرموں کو ہی یہ استحقاق حاصل ہے یا ان معصوموں کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ جنکی زندگی کا چراغ وہ گل کرتے ہیں۔ کیا ان کو جینے کا حق نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ سزائے موت کے خاتمے کیلئے متعلقہ ملک کے معروضی حالات کاسازگار ہونا ضروری ہے۔ محض حکم صادر کرنے سے کسی ملک سے سزائے موت ختم نہیں کرائی جاسکتی۔ انسانی جان کے تقدس اور انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے کرہ ارض کے مختلف خطوں اور ملکوں کے مابین زمین آسمان کا فرق ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ ایک ملک ہے۔ وفاق کی سطح پر سزائے موت قانوناً اور عملا رائج ہے۔ اسکی 52ریاستیں ہیں۔ اب تک 18ریاستوں میں سزائے موت ختم کی جاسکی ہے۔ 2میں سزائے موت ختم کرنے کیلئے پراسیس چل رہا ہے۔ لیکن واشنگٹن سمیت 32اہم ریاستیں ایسی ہیں۔ جہاں قانوناً اور عملاً سزائے موت رائج ہے۔ جن 18ریاستوں میں سزائے موت ختم ہے۔ انکی بھی دلچسپ پوزیشن ہے۔ تین ریاستیں ایسی ہیں۔ جن میں 19ویں صدی سے سزائے موت ختم چلی آرہی ہے۔ مین Maine (1887ء)،وزکون سن (1853ء)اور مشی گن (1846ء )سے ہی سزائے موت سے فری ہیں۔ جبکہ امریکہ کی نصف درجن اہم ریاستوں میں حال ہی میں یعنی 21ویں صدی میں سزائے موت ختم کرنے کی توفیق ہوئی ہے۔ ان میں نیویارک اور نیو جرسی 2007ء ، نیو میکسیکو 2009ء ، الّی نائز 2011ء ، کنکٹی کٹ 2012ء اور میری لینڈ 2013ء شامل ہیں۔ اگر محض اقوام متحدہ کے حکم صادر کرنے پر سزائے موت ختم ہو سکتی ہے۔ تو امریکہ کیوں نہ اپنی 32ریاستوں میں بھی سزائے موت کاخاتمہ کر کے انہیں مہذب بنا لے۔

اب انگلستان کی مثال لیجئے جہاں سزائے موت ختم ہے۔ بلکہ اب سارے یورپ میں ختم ہے۔ برطانیہ سمیت یورپی یونین دوسرے ملکوں کو بھی سزائے موت ختم کر نے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔بلکہ ایک طرح کا دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب برطانیہ میں کم و پیش ایک سو جرائم کی سزا موت تھی۔ اور پھانسی کھلے میدان میں سرعام لاکھوں لوگوں کے مجمع میں دی جاتی تھی۔ تا کہ لوگ عبرت پکڑیں۔ مگر لوگوں کی اخلاقی سطح اور مجرمانہ ذہنیت کی یہ کیفیت تھی کہ جیب تراشی کے مجرموں کو پھانسی دی جارہی ہے۔ اور مجمع میں بیسیوں لوگو ں کی جیبیں کٹ رہی ہیں۔ آج وہی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے اتنی بلند سطح پر براجمان ہے کہ سزائے موت ہی موقوف ہو چکی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ دنیا میں کیسے کیسے پُر امن خطے ہیں۔ نصف کروڑ آبادی کا ملک ناروے ہے۔یہ سن کر یقین نہیں آتا کہ وہاں 1911ء کے بعد 78سال تک کوئی قتل نہیں ہوا۔ 1989ء میں قتل کی جو واردات ہوئی وہ ایک پاکستانی تارک وطن نے دوسرے ہم وطن پاکستانی کو قتل کیا تھا۔ (اتفاق سے دونوں کا تعلق ضلع گجرات سے تھا)مجرم کو عمر قید کی سزا ہوئی۔ ناروے میں آخری پھانسی 1949ء میں ایک وزیر کو ہوئی۔ اس پر الزام تھاکہ جنگ عظیم دوم میں جب ہٹلر ناروے پر تسلط جما رہا تھا۔تو وزیر موصوف نے ملک سے غداری کرتے ہوئے ہٹلر سے تعاون کیا تھا۔

اب اسلامی ملکوں کا جائزہ لیتے ہیں۔پچاس کے قریب مسلما ن ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں۔ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں پھانسی کے علاوہ ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سنگ ساری کی سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔پاکستان ان اسلامی ملکوں میں شامل ہے۔ جہاں پھانسی تو ہے۔ مگر ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سنگ ساری کی سزائیں موقوف ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ جہاں حالات سازگار ہیں وہاں ایک درجن سے زائدمسلمان ملکوں میں بھی سزائے موت ختم ہے۔ ان میں ترکی۔ مراکش۔نائیجر۔ مالی۔ جبوتی۔ البانیہ۔ ترکمانستان۔ ازبکستان۔ کرغستان۔ آذربائیجان ۔ گنی بساؤاور سینی گال شامل ہیں۔جیسا کہ پاکستان کے ترجمان نے اپنے جواب میں کہا ہے۔ پاکستان میں نئی مصیبت تو یہ ہے کہ دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب تک 50ہزار سویلین اور 10ہزار کے قریب قانون نافذ کرنے والے شعبوں کے جوان اور افسروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔روایتی دہشت گردوں کے علاوہ ہمارے ہاں تو عام زندگی میں بھی ایسے ایسے گھناؤنے جرم ہوتے ہیں کہ پھانسیوں کی سزائیں بھی ناکافی ہو جاتی ہیں۔یہاں انسانی جان کی بے قدری، خون کی ارزانی اور شقاوت قلبی کی کوئی انتہا نہیں۔ ناروے کے برعکس یہاں تو قتلوں کی وارداتیں روزانہ کے 24گھنٹوں میں مسلسل جاری رہتی ہیں۔ اور سکور درجنوں۔ بیسیوں۔ پچاسوں کے علاوہ اکثر تھوک کے حساب سے سنچریوں میں ہوتا ہے۔

مجھے یاد آرہا ہے کہ 15سال قبل 16مارچ 2000ء کو لاہور کے ایک ایڈیشنل سیشن جج چوہدری اللہ بخش رانجھا نے 100معصوم بچوں کے قاتل درندوں جاوید اقبال اور ساجد کو سزائیں دیں تو 100اور 98بار سزائے موت دیگر جرائم میں سات سات سو سال قید بامشقت۔ جسموں کو زنجیروں میں باند ھ کر 100اور 98ٹکڑے تیزا ب میں جلانا اور یہ سارا منظر شہید بچوں کے عزیزوں کی موجودگی میں مینار پاکستان کے احاطہ میں ہو گا۔ ہمیں تسلیم ہے۔ سوبار تسلیم ہے کہ زندہ رہنا بنیادی انسانی حق ہے۔ ہم سزائے موت کے سخت خلاف ہیں۔ اور اس حق کے لئے ترستے ہیں۔ نہ جانے وہ مبارک دن کب آئے گا۔ جب ہمارے ہاں بھی حالات اسکے لئے سازگار ہوں گے۔ موقر ادارے اقوام متحدہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یورپی یونین ہمیں حکم دیکر شرمسار نہ کیا کریں۔ کیا فی الواقعہ و ہ ہمارے معروضی حالات سے اتنے ہی بے خبر ہیں۔مجھے مقامی این۔ جی۔ اوز اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی طرف سے سزائے موت کے خاتمے کے مطالبے پر حیرت ہی نہیں شاک ہوتا ہے کیا وہ بھی ملکی حالات نہیں دیکھ رہے یا انکی نظر کمزور ہے۔

مزید : کالم