پاک چین اقتصادی راہداری کا منفرد وممتاز منصوبہ(2)

پاک چین اقتصادی راہداری کا منفرد وممتاز منصوبہ(2)
پاک چین اقتصادی راہداری کا منفرد وممتاز منصوبہ(2)

  

پاکستان کو اپنی دفاعی ،تزو یراتی اور سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے اس کی تعمیر مرمت کا احساس اس وقت شدت اختیار کر گیا ،جب یہ دیکھا گیا کہ 1971 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہندوستان نے پاکستان کی واحد سمندری بندر گاہ کی ناکہ بندی اور کراچی سے گوادر کا 433 یا کم و بیش فاصلے کی وجہ سے یہ بندر گاہ مناسب تزویرانی متبادل ہو سکتی تھی، لہٰذا کراچی اور گوادر کو ملانے کے لئے 653 کلومیٹر طویل مکران کوسٹل ہائی وے بنائی گئی جو پسنی اور ارمارہ سے ہوتی ہوئی کراچی آتی ہے۔ 2004 ء میں اسکی تکمیل کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے گوادر اور رتو ڈیرو کے درمیان 820 کلومیٹر NA-85 تعمیر کی جو تربت ، کوشب ، آواران اور خضدار سے گزرتی ہے اور یوں شمالی علاقوں کی شاہراہوں سے رابطے کا ذریعہ ہے اور اس کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے تجارت ہوسکتی ہے ۔2007ء ہی میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گوادر میں چھ ہزار ایکڑ زمین گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈہ تعمیر کرنے کے لئے حاصل کی تاکہ فضائی رابطہ بھی میسر رہے۔ اس میں رکاوٹوں کا ذکر آج کل ذرائع ابلاغ کا پسندیدہ موضوع ہے بعض بھاری بھر کم علماء اور طویل القامت دانشوروں کے روپ میں طرح طرح کے اعتراض کر رہے ہیں اور بڑے بلند بانگ دعوے بھی کر رہے ہیں کہ ہم اسے کل جماعتی اجتماعAPC کے ذریعے ناقابل عمل منصوبہ بنا دیں گے اور بار خدا اب ان کی زبان پر اس ڈیم کا نام بھی بار بار آیا جس کا ذکر اُن کے لئے اکثر و بیشتر سوہان روح سے کم نہ تھا ۔ چین سے تعلقات دونوں ملکوں کے مابین وہ مسلم اور طے شدہ امر ہے ۔کہ دونوں ملکوں کی باہمی دوستی پر دونوں ممالک کے عوام کا ’’اتفاق رائے (CONSENSUS)ہے، مگر فروری 2015ء کے دوران حکومتی عہدے دار خاص کر احسن اقبال اس بات پر بضدرہے ۔ کہ پاک چین اقتصادی راہداری روٹ میں ایک انچ کی بھی تبدیلی نہیں کی جارہی اور خود جس جانکار نے اس مسئلے کو اٹھایا تھا اس نے خود اپنے کالم میں لکھا کہ جب وہ بھاری بھر کم برزجمہر سے ملے تو انہوں نے تائید و توثیق کی کہ خود چینیوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی، مگر ضد اور اصرار پنی جگہ قائم نظر آتا ہے۔وزیراعظم نواز شریف ، وزیراعظم بننے کے فوراً بعد جب چین کے دورے پر جولائی 2013ء میں گئے تو اس وقت دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں جو 19 یاداشتیں دو اور معاہدے طے پائے تھے ان میں پاکستان چین اقتصادی راہداری سے متعلق چار یاداشتیں۔

بعنوان:

*۔۔۔پاکستان چین کے اقتصادی راہداری کی تیسری مشترکہ کانفرنس کے منٹس (Minutes)کی منظوری کا معاہدہ ۔

*۔۔۔ طویل المدت خاکے کے مطابق تعمیر کا معاہدہ ۔

*۔۔۔پاکستان۔ چین کے اقتصادی راہداری کے ضمن میں صلاحیتوں اور استعداد کار میں اضافے کا معاہدہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ضمن میں توانائی کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں ۔

گزشتہ چند ہفتوں میں اس مجو زہ راہداری کا معاملہ خاصا سرگرم موضوع رہا ہے۔دسمبر 2014ء عوامی جمہوریہ چین کے قومی کمشن برائے ترقی و اصلاحات کے ایک وفد نے اس سلسلے میں پاکستان کا دورہ کیا اور دونوں ممالک نے صنعتی تعاون، ڈھانچہ جاتی تعمیرات ،سماجی ترقی اور امن اور تحفظ کے موضوعات پر اتفاق رائے اور اس مناسبت سے حکومت پاکستان نے پاکستان نیوی ، کوسٹل گارڈ اور کچھ نجی افراد اور اداروں سے اس کے لئے 586 ایکڑ زمین بھی خرید کر چینی کمپنی کو فراہم کر دی ہے تاکہ اس کے ڈھانچے کی تعمیر میں پیش آمدہ رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے ۔ اسی طرح مالی وسائل کی بر وقت فراہمی کے لئے نیشنل اکنامک کونسل ECNEC کی مجلس عاملہ نے اس کی لاگت بھی 22 سے 26 ارب تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے نیز حکومتی اطلاعات کے مطابق جو اشیاء سمندری یا فضائی سفر سے گوادر آئیں گی کسی قسم کے ٹیکس یا ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی ۔اس کے علاوہ بقول احسن اقبال NA 85 اور N5 بھی مکمل کی جارہی ہے 30 جنوری 2015ء کو اسلام آباد میںPICSS ’’Pakistan Institute Conflict and Secrrity Studies‘‘ کے زیر اہتمام متعدہ سیمینار میں اس راہداری کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا گیا اور اسے چین اور پاکستان کی دوستی کے ساتھ علاقائی ترقی کی ضامن بھی قرار دیا گیا لیکن عالمی سطح پر اسے جو پذیرائی ہوئی یا دلچسپی ظاہر کی گئی وہ اس امر سے واضح ہے کہ اس میں نیپال ، کیوبا ، ترکی ،عمان ، سپین ،ترکستان ،ملائشیا۔ یورپی یونین ، ورلڈ بینک ، روس ، کینیڈا ، جنوبی افریقہ ، اقوام متحدہ ، انڈونیشیاء، ایران ، افغانستان ،بحرین ،جرمنی ، ڈنمارک، جاپان اور ازبکستان سمیت کئی سفارتی نمائندوں نے شرکت کی ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ احسن اقبال نے پلاننگ ڈویژن میں پاکستان چین اقتصادی راہداری کا ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے ،جا بجا اس کی تشہر و وضاحت حتی کہ میڈیا ورکشاپ کے نام پر سیمینار کے انعقاد سمیت کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا کہ جہاں اس منصوبے کی وضاحت نہ کی ہو حتی کہ بھاری بھرکم علمائے کرام کے آستانے پر بھی کئی بار حاضری دے کر زبانی اور تحریری وضاحت بھی دے چُکے ہیں اور بجا طور پر مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور کی طرح جب یہ نعرہ لگایا گیا تھا ۔ کہ ’’قرض اتارو ۔ ملک سنوارو ‘‘ اب ان کا فرمان یا نعرہ ہے ۔

’’ گوادر بناؤ۔۔۔اور پاکستان کو ترقی دو‘‘

یہ معاہدہ بظاہر چالیس سال کے لئے گوادر کی تعمیر و توسیع اور اس کے انتظام و انصرام کا معاہدہ ہے، جس کے تحت سامان کی حمل و نقل کی کل آمدنی کا 9 فیصد گوادر پورٹ اتھارٹی ‘حکومت بلوچستان کو ملے گا اور گوادر فری زون خدمات اور کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کا 15فیصد میں بھی اِس کا حصہ ہو گا اس طرح جہاں مقامی انتظامیہ تقریباًاس کی کل آمدن کا ایک چوتھائی تک وصول کر سکے گی وہاں تعمیر و ترقی اور توسیع کا بیشتر کام چینی کمپنی انجام دے گی ۔اس وقت چین پاکستان تجارت کا حجم 15ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جو اس منصوبے کی تکمیل سے کئی گُنا بڑھنے کا امکان ہے ۔اس وقت چین میں جہاں دو لاکھ غیر ملکی طلبہ طلبا ء تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں10ہزار صرف پاکستانی ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے و فود کے تبادلے کی یہ صورت ہے کہ گذشتہ پانچ سال میں سابق صدر آصف علی زرداری نے چودہ بار چین کا دورہ کیا ہر سال تقریباًایک سو وفود باہمی دورے کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے باہمی دوروں کا پروگرام الگ سے روبہ عمل ہے ۔اور پانچ پانچ سو طلباء نوجوانوں کے وفود دونوں ممالک میں جا چکے ہیں ۔ انٹرنیشنل بیجنگ ریڈیو کے سامعین کلبوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ مختلف غیر سرکاری سکولوں میں چینی میں ڈپلومہ اور گریجویشن کے ساتھ کنفوشیس انسٹیٹیوٹ سے پیش کی جانے والی سہولتیں الگ سے ہیں اور لاتعداد باہمی یا داشتوں ، معاہدوں اور دیگر شعبوں میں باہمی شراکت پہلے سے موجود ہے لہٰذا جیسا کہ اُوپر کہا گیا ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ دونوں ممالک کے باہمی سود مند تعلقات کا سنہری باب ثابت ہو گا اور ہمیں اس کی تکمیل میں اپنے باہمی معمولی تحفظات خیر باد کہتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا ورنہ زمانہ قیامت کی چال چلنے کو تیار بیٹھا ہے :

پاک چین دوستی زندہ باد

چنکو پاک یو ای وان سوئے

(ختم شد)

مزید : کالم