بالآخرچین کے صدر تشریف لے آئے !

بالآخرچین کے صدر تشریف لے آئے !

چین کے صدر شی چن پنگ بالآخر پاکستان کے دو روزہ تاریخی دورے پراسلام آباد پہنچ گئے۔ پاکستان پہنچنے پر چین کے صدرشی چن پنگ کاویسا ہی پرتپاک استقبال کیا گیا جیساکسی بھی دیرینہ دوست کاطویل انتظار کے بعد گھر آمد پر کیا جانا چاہئے۔ جیسے ہی چینی صدر کا طیارہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوا پاک فضائیہ کے8 جے ایف 17 تھنڈرطیاروں نے اسے اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ نور خان ایئربیس چکلالہ پر صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف،تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور کابینہ کے اراکین نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا۔انہیں 21توپوں کی سلامی دی گئی اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد انہیں جے ایف 17 تھنڈرطیاروں کے دستے نے فلائی پاسٹ کے ذریعے سلامی بھی پیش کی۔چینی صدر کا ایسا شاندار استقبال دیکھ کر تو بھارتی تجزیہ نگار بھی گنگ رہ گئے اور تبصرہ کرنا ہی بھول گئے۔

مہمان صدر کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، ریڈ زون کی سیکیورٹی دو روز کے لئے پاک فوج کے 111بریگیڈ کے سپرد کردی گئی جبکہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے بھی 3500سے زائد اہلکار سیکیورٹی پر تعینات رہیں گے۔چینی صدر کے ہمراہ خاتون اول، سینئر وزراء، کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام بھی پاکستان کے دورے پر آئے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں چین کے بڑے سرمایہ کار اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔ گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر کی ملاقات بھی ہو ئی۔چین کے صدرشی چن پنگ کا کہنا تھاکہ پاکستان اور چین کی دوستی مشترکہ اثاثہ ہے، پاک چین دوستی کا فروغ مشترکہ مستقبل کا ایجنڈا ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے دونوں ملکوں کی دوستی کے رشتے مزید بڑھانے کے عزم کااظہار کیا ۔ معززمہمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے رواں سال کے پہلے غیر ملکی دورے کیلئے پاکستان کا انتخاب کیا ،پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پرمذاکرات گزشتہ روز جاری رہے۔ پاکستان نے چینی کمپنیوں کے ساتھ بیس ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط کئے جس سے تقریباًآٹھ ہزار تین سو میگا واٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان نئی تاریخ رقم ہوئی۔ان معاہدوں کے بعد اب ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف پر انحصار کم ہو جائے گا۔چین کے صدر نے وزیراعظم آفس میں بٹن دبا کرکئی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کے علاوہ مہمان صدر نے اسلام آباد میں چینی کلچرل سینٹر اورآئی سی بی سی کا افتتاح کیا اور لاہور میں اورنج میٹرو ٹرین کے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق چینی صدر کا دورہ سٹرٹیجک لحاظ سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے ، اس دورے کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششو ں کے علاوہ علاقائی سلامتی کے امور سمیت افغانستان میں قیامِ امن کیلئے ٹھوس اقدامات اور یمن کے تنازعے کے حل کیلئے ثالثی کے کردار پر بھی بات چیت ہو گی۔اہل پاکستان چین کے صدرشی چن پنگ کے اس دورے کے کافی عرصے سے منتظرتھے۔ یہ دورہ گزشتہ برس اکتوبر میں متوقع تھا، چین کی سیکیو رٹی ٹیم حالات کا جائزہ لینے اسلام آباد بھی پہنچی، غور و فکر کے بعد اس نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اسلام آباد میں دھرنا نشین تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی موجودگی میں چینی صدر کا پاکستان آنا مناسب نہیں ہے ۔اسی لئے انہوں نے اپنے پروگرا م کے مطابق بھارت اور سری لنکا کا دورہ تو کیا لیکن پاکستان کی جانب سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا۔اس کے بعد بھی صدر کے آنے کی خبریں گردش کرتی رہیں اور اب بالآخر وہ پاکستان تشریف لے ہی آئے ہیں۔میڈیا میں یہ خبرعام ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو چینی صدر کا دورہ خاصا گراں گزرا ہے حالانکہ اس میں ایسا برا ماننے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ دورہ تو ان کی گزشتہ برس ادھوری رہ جانے والی ’یاترا‘ ہی کا حصہ ہے۔ویسے بھی ہر ملک کے اپنے دو طرفہ تعلقات ہوتے ہیں اور ان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چین پاکستان کا اچھے برے وقت کا ساتھی ہے، دونوں کے سفارتی تعلقات چونسٹھ سال پرانے اور مستحکم ہیں۔چین نے پاکستان کی ہمیشہ ہر شعبے میں معاونت کی ہے،پاکستان میں موجود کئی پراجیکٹ دونوں ممالک کے ’اٹوٹ ‘ بندھن کے گواہ ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے چند ماہ پہلے چین کا دورہ کیا تھااور متعدد معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے تھے۔پاکستان کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے میں بھی چین کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔چین نے ہر معاملے میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے،اس نے بھارت کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کی حمایت نہیں کی،بھارت کو جوہری سپلائی گروپ کا حصہ بنانے پر بھی اسے تحفظات ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ چین میں اس نے دنیا کو واضح پیغام دیا تھا کہ چین ہر حال میں پاکستان ہی کے ساتھ ہے۔اس کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری بھی کوئی معمولی منصوبہ نہیں ہے، یہ کاشغرسے گوادر کوملانے کا وسیع منصوبہ ہے،ریل اورسڑک کے ذریعے آئل اور گیس کی ترسیل آسان بنائی جائے گی۔ حالیہ دورے میں پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق اربوں ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کا اعلان بھی ہوگا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ چینی صدر کا دورہ موجودہ حالات میں بہت خوش آئند اورخطے میں امن کا توازن بر قرار رکھنے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے،یہ بات بالکل صاف ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی لازوال ہے، دونوں ممالک انتہائی گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ بلاشبہ اس دورے سے اہل پاکستان کی کئی اہم جو ضرورتیں پوری ہوں گی اورپاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو گا۔

مزید : اداریہ