ٹی ایم اے اقبال ٹاؤن میں بے ضابطگیاں ‘ وزیراعلٰی نے رپورٹ طلب کر لی

ٹی ایم اے اقبال ٹاؤن میں بے ضابطگیاں ‘ وزیراعلٰی نے رپورٹ طلب کر لی

 لاہور(جاوید اقبال) اقبال ٹاؤن کی حدود میں بلڈنگ بائی لائز کی دھجیاں اڑانا معمول بن گئی ہیں جبکہ ٹاؤن میں جگہ جگہ جانور رکھ دیئے گئے ہیں تجاوزات آخر ی حدیں پار کر گئی ہیں جن سے ٹی ایم او سمیت دیگر افسران لاکھوں روپے ماہانہ ’’نذرانے‘‘ وصول کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ٹی ایم او کے خلاف گزشتہ دو سالوں سے انکوائریاں ٹھپ کرا دی گئی ہیں ٹاؤن انتظامیہ نے مصطفےٰ آباد کو بھینسوں کی ناجائز منڈی بنا دیا گیا ہے۔رائے ونڈ روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بلڈنگ بائی لاز کے برعکس کمرشل عمارتیں تعمیر کرا کر قومی خزانے کو نقشہ فیسیوں کی مد میں کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ہے یہ انکشافات ٹی ایم اے کی ایڈوائزری کمیٹی کے سینئر ممبر مہر اشفاق کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے دوران کئے جنہوں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور انہیں اقبال ٹاؤن میں ٹی ایم او علی حسن کی مبینہ زیرسرپرستی ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں تحریری رپورٹ پیش کی جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سے رپورٹ طلب کر لی ہے سینئر ممبر ایڈوائزری کمیٹی نے وزیر اعلیٰ کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹی ایم او اقبال ٹاؤن علی حسن جعفری کو کرپشن کی بنیاد پر دو سال قبل عہدے سے فارغ کر دیا گیا ۔بکرا منڈی فیس، ترقیاتی کاموں سپورٹس کے مقابلوں سمیت دیگر مدوں میں ٹی ایم او نے لوٹ مار کی جن کے خلاف 4انکوائریاں چل رہی ہیں مگر ٹی ایم او ’’پیسے‘‘اور ’’تعلقات‘‘ کا استعمال کر کے عدالت سے حکم امتناہی لے آئے اور دو سالوں سے دوبارہ تعینات ہوکرمبینہ طور پر لوٹ مار کر رہے ہیں، ٹی ایم او نے دو سالوں میں ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں ہزاروں ایسی کمرشل عمارتیں تعمیر کرائی ہیں جن میں سے اکثریت کے نقشہ جات گھریلو پاس کئے گئے اور موقع پر کمرشل تعمیرات کی گئیں ان میں سے ایک بھی کمرشل عمارت نقشہ کے مطابق نہیں ہے اس مد میں ٹی ایم او نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگوایا اور ذاتی جیبیں تعمیر کیں 2013ء میں سپورٹس مقابلوں کے لئے 13لاکھ کی خریداری کی گئی مگر موجودہ ٹی ایم او نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 2014ء میں 1کروڑ 32لاکھ کی خریداری کی اور اس میں کسی کو ایک انعام تک نہ دیا گیا دوسری طرف پورا ٹاؤن تجاوزات کی منڈی میں تبدیل کرا دیا گیا ہے ۔ مصطفےٰ آباد میں لاتعداد بھینسوں کو غیر قانونی طور پر رکھا گیا ہے دن بھر بھینسیں سڑکوں پر گشت کرتی نظر آتی ہیں اور بھینسیں بکریاں گرین بیلٹس کے پودے کھا چکی ہیں مہر اشفاق نے مزید کہا کہ علی حسن ٹی ایم او اقبال ٹاؤن گزشتہ ڈھائی سال سے زائد عرصہ سے اقبال ٹاؤن لاہور میں تعینات ہے او اس کے خلاف تین چار کرپشن کی انکوائریاں چل رہی ہیں جو کہ کروڑوں روپے کی کرپشن میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث ہے۔ مذکورہ انکوائریز کے باوجود بھی ٹی ایم او اقبال ٹاؤن لاہور آج تک بھی مذکورہ سیٹ پر براجمان ہے ۔ سائل کی تحقیق میں یہ بات آئی ہے کہ ٹی ایم او نے 2014ء سے پیشتر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور میں ناجائز تعمیرات بلا منظوری نقشہ سینکڑوں تعمیرات بھاری رشوت لیکر کروائی ہیں۔ جن میں بڑے بڑے پلازے بھی شامل ہیں۔ علی حسن نے خفیہ ٹیم بنا رکھی ہے جن کے ذریعے شادی ہالوں سے لاکھوں روپے ماہانہ رشوت وصول کرتا ہے۔ یہ ٹیم ممبر ٹی ایم او علی حسن کی ایما پر تمام کارروائیاں کرتے ہیں اگر ان کو گرفتار کر کے تفتیش کی جائے تو تمام حقائق سامنے آ سکتے ہیں ۔ جبکہ مالی سال 2013-14اور 2014-15کنٹی جنسی کی مد میں کروڑوں روپے کی بوگس پرچیزنگ میں کرپشن کی ہے اور پرچیزنگ کی مد میں زکریا بابر کے نام چیک ایشو کئے گئے جبکہ زکریا بابر محکمہ اقبال ٹاؤن میں الیکٹریشن کی پوسٹ پر کام کر رہا ہے جس کو ٹی ایم او نے غیر قانونی طورپر کیئر ٹیکر مقرر کیا ہوا ہے۔ زکریا بابر علی حسن ٹی ایم او کا کار خاص ہے۔اس حوالے سے ٹی ایم او اقبال ٹاؤن علی حسن سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ انکوائریاں میں نے ٹھپ نہیں کرائیں انٹی کرپشن اور حکم کے پاس چل رہی ہیں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے ممبر ایڈوائزری کمیٹی نے اگر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے شکایت کی ہے تو تحقیقات ہو جائیں گی نقشہ کے برعکس جو تعمیرات ہوتی ہیں تو ان سب کے ذمہ دار ٹی او پی ہونگے بھینسوں کی موجودگی کے ذمہ دار ٹی او آر ہیں انکوائری کراؤں گا میں نے کرپشن نہیں کی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1