محکمہ زراعت نے کم آبپاش علاقوں میں بیر کاشت کرنے کی ہدایت کر دی

محکمہ زراعت نے کم آبپاش علاقوں میں بیر کاشت کرنے کی ہدایت کر دی

فیصل آباد (بیورورپورٹ) محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ کم آبپاش والے علاقے جہاں دوسرے پھلدار درخت اگانا ممکن نہ ہو وہاں بیر کو آسانی سے کاشت کیا جاسکتاہے نیزبیر کی کاشت ریتلی اور شور زدہ زمینوں میں بھی کی جاسکتی ہے جس میں بھر پور غذائیت کے علاوہ حیاتین کی مقدار ترشاوہ پھلوں سے زیادہ ہوتی ہے اور غذائی اعتبار سے بیر میں حیاتین الف، ب اور ج کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جبکہ بیر خشک سالی کا اچھی طرح مقابلہ کرسکتاہے اس لئے ایسے علاقے جہاں بارش بہت کم ہوتی ہو وہاں بھی اس کو کامیابی سے کاشت کیا جاسکتاہے۔محکمہ زراعت فیصل آباد ڈویژن کے ترجمان نے بتایاکہ بیر کا پودا 43 سے50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو برداشت کرسکتاہے ۔ اور پودے کو خشک آب وہوا کی ضرورت ہوتی ہے جس کی سب سے بڑی خوبی اس کا خشکی کو برداشت کرنا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اس کی شاخ تراشی بہت اہم ہے کیونکہ اس کا پھل نئی شاخوں پر لگتاہے اس لیے اس کی نباتاتی افزائش بڑھانے اور نئے پودے کے تنے مضبوط کرنے کے لیے اس کی شاخ تراشی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب بیر کا پودا بڑا ہوجائے تو باغ میں دوسری فصلوں کی کاشت مشکل ہوجاتی ہے لیکن پہلے پانچ سالوں تک برسیم، سبزیاں اور دالیں اگائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ بیر پر اکتوبر ، نومبر میں پھول لگتے ہیں اور فروری مارچ میں پھل برداشت کے قابل ہوجاتاہے۔انہوں نے بتایاکہ بیر کے پودے کو سایہ دار جگہ پر نہیں لگانا چاہیے علاوہ ازیں بیر کے پودے پر تمام پھل ایک وقت میں نہیں لگتے اس لیے اس کو توڑنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہی ۔انہوں نے بتایاکہ بیر کی مختلف اقسام دہلی سفید، کریلا، صوفن وغیرہ ہر طرح کی زمین میں قابل کاشت ہیں۔

مزید : کامرس