بر آمدات میں 3.3 ،درآمدات میں1.1 فیصد کمی

بر آمدات میں 3.3 ،درآمدات میں1.1 فیصد کمی

 لاہور (کامرس رپورٹر) سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 3.3فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 1.1فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔بینک کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم18ارب74کروڑ 60لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم31ارب 22کروڑ 60لاکھ ڈالر تھا ۔رواں مالی سال خدمات کی برآمدات سے4ارب64کروڑ 70لاکھ ڈالر حاصل ہوئے جبکہ خدمات کی درآمدات پر 6ارب 2کروڑ80لاکھ ڈالر خرچ ہوئے ۔بینک کی رپورٹ کے مطابق ملکی برآمدات میں کمی کے باوجود عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہونے سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ46فیصد کم ہو گیا۔رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب45کروڑ60لاکھ ڈالر جبکہ گزشتہ مالی سال جولائی سے مارچ تک کے خسارے کا حجم 2ارب67کروڑ20لاکھ ڈالر تھا۔اعدادو شمار کے مطابق مارچ کے دوران پاکستان کے درآمدی بل میں گزشتہ سال کی نسبت 5.6فیصد کمی رہی جس کے باعث مارچ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارے کے بجائے 16کروڑ30لاکھ ڈالر سرپلس رہے نیز فروری کے دوران بھی کرنٹ اکاؤنٹ 87کروڑ 20لاکھ ڈالر سرپلس تھے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی)کا حجم 215ارب33کروڑ80لاکھ ڈالر جبکہ گزشتہ مالی سال یہی حجم185ارب18کروڑ90لاکھ ڈالر تھا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران (جولائی سے مارچ)کے اختتام تک ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7فیصد رہا جو گزشتہ مالی سال کے اس عرصے میں5.1فیصد تھا۔اسی طرح تقریبا 8ماہ کے دوران اشیاء اور خدمات کی درآمد و برآمد میں مجموعی طور پر 14ارب13کروڑ40لاکھ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا‘گزشتہ سال اس عرصے کے دوران درآمدات میں پہلے کے مقابلے میں 2.2فیصد اور درآمدات میں 3.4فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مزید : کامرس