چینی صدر کا دورہ ۔۔ اور بدلتی ترجیحات

چینی صدر کا دورہ ۔۔ اور بدلتی ترجیحات
چینی صدر کا دورہ ۔۔ اور بدلتی ترجیحات

  

 چینی صدر کا دورہ شیڈول کے مطابق چل رہا ہے، خدا کا شکر ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ چینی صدر کے دورہ کے فوری بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف سعودی عرب جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی خبر ہے کہ پاک ایران تعلقات بھی سب سے کم تر سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ایران نے پاکستان کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنی شروع کر دی ہیں۔ پاکستانی مصنوعات پر پابندیاں لگانی شروع کردی ہیں۔ یہ تو ہو نا ہی تھا۔ یہ بھی خبر ہے کہ چین پاک ایران گیس پائپ لائن میں چین کو بھی شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ چین کی خواہش ہے کہ پاک ایرا ن گیس پائپ لائن بعد ازاں چین تک لائی جائے۔ اس ضمن میں چین پہلے ہی کرغیزستان سے گیس پائپ لائن چین لیکر جا چکا ہے۔اسی طرح چین براستہ پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن بھی چین تک لیکر جا نا چاہتا ہے۔ اس حوالہ سے چین کا موقف ہے کہ انرجی کے وسائل کے حصو ل کے لئے مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کو علم ہے کہ اس کی انرجی ضروریات کو امریکہ کسی بھی وقت عرب ممالک کے ذریعے روک سکتا ہے۔ اسی لئے چین متبادل روٹس اور آپشنز پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ لیکن فی الحال پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات ایسے ماحول میں نہیں ہیں کہ ایسے معاہدہ ہو سکیں۔ لیکن اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چین نے ایران کے ساتھ تو بات کر لی ہے۔ لیکن ابھی پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات ایسے ماحول میں نہیں ہیں کہ اس پر پیش رفت ہو سکے۔ چین اس منصوبہ پر تمام سرمایہ کاری کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ اس حوالہ سے ایران پر پابندیاں ختم ہو نے کا انتظار ہے۔ تا ہم اگر یمن کا بحران سنگین ہو تا گیا تو یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ لیکن چین اس منصوبہ پر عمل کے حق میں ہے۔ اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ چین آگے چل کرپاک ایران تعلقات کو واپس معمول پر لانے کے لئے کردار ادا کرے گا ۔ کیونکہ اس میں چین کا مفاد ہے۔ اسی طرح چین اور جا پان کے تعلقات بھی اچھے نہیں ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا یقیناًجا پان اور پاکستان کے تعلقات پر بھی اثر ہو گا۔ اس سے قبل بھی جا پان اور پاکستان کے تعلقات شمالی کوریا اور پاکستان کے درمیان ایٹمی تعاون کے ایشو پر بھی خراب ہو چکے ہیں۔ امریکہ بھی چین کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو یقیناًغور سے دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ امریکہ نے خود بھار ت سے تعلقات بڑھانے اور پاکستان کو نظر انداذ کرنے کی پالیسی بنائی۔ اور آج جو بھی ہو رہا ہے وہ اسی کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ چین پوری دنیا میں پٹرولیم درامد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے بھی ایک بڑا ملک ہے۔ بات سمجھنے کی ہے کہ چین پاکستان کو کوئی خیرات یا ایڈ نہیں دے رہا۔ چین کو اپنی درآمدات اور برآمدات کے لئے گرم پانیوں تک رسائی کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے چین کے پاس محدود آپشن تھے اور ان میں گوادر بہترین تھا۔ اور پاکستان امریکہ کے دباؤ میں سنگاپور کی ایک کمپنی کو گوادر دے کر نقصان اٹھا چکا تھا۔ بلوچ قوم پرستوں کو یورپ، برطانیہ میں ملنی والی پناہیں اور بھارت کی ان کی کھلم کھلامدد دراصل واضع اعلان تھا کہ گوادر کو نہیں بننے دیا جائے گا۔ لیکن ایسے میں پاکستان کی حکومت کے پاس یہی آپشن تھی کہ گوادر چین کو دے دیا جا تا۔ یقیناًچین ہماری پہلی آپشن نہیں تھا۔ ہم نے پہلے امریکہ کو چانس دیا تھا۔ آج بھی برطانیہ عمران فاروق کے قاتل ہم سے لینے کے لئے اس لئے تیار نہیں کیونکہ اس کے بدلے پاکستان وہ بلوچ قوم پرست سردار مانگ رہا ہے جو برطانیہ میں پناہ لیکر بیٹھے ہیں اور بلوچستان میں عسکری کارروائیا ں کر رہے ہیں۔ چین اور جا پان کے درمیان جزیروں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے چین کو گرم پانیوں تک رسائی پر سوچنے پر مجبور کیا ۔ تا کہ اس کے پاس آمد و رفت کے متبادل ذرائع رہیں۔ اور پاکستان کی لاٹری لگ گئی۔ اسی طرح افغانستان میں بھی چین کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ یقیناًاس سے بھارت کی افغانستان میں مداخلت کم ہو گی۔ چین کی گوادر میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری یقیناًبھارت اور بالخصوص را کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ اب ان کی کارروائیاں براہ راست چین کے معاشی مفادات پر حملہ ہوگا۔ اسی لئے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے چینی صدر کی آمد سے د و روز قبل ہی سانحہ تربت کے بعد ہمسایہ ممالک کی ایجنسیوں کو براہ راست متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں سے باز رہیں۔ چینی صدر کے موجودہ دورہ کو روکنے کی بھی بہت کوششیں ہوئیں ۔ لیکن اس میں چینی سپورٹ قابل قدر ہے۔ یقیناًبھارت بھی آج خوش نہیں ہے۔ ایک مستحکم پاکستان یقیناًبھارت کے مفاد میں نہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف اور چینی صدر کی معاہدوں کی دستخط کی تقریب کے موقع پر ہونے والی مختصر گفتگو میں بھارت کے لئے صرف ایک ہی پیغام تھا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے لئے چین اور پاکستان کی سوچ یکساں ہے۔ اور اس ضمن میں پاکستان اور چین مشترکہ اقدامات کریں گے۔ ا سطرح یہ اعلان کیا گیا بھارت کو سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے کی مخالفت پر پاکستان اور چین کا موقف یکساں ہیں۔ تا ہم امریکہ اس ضمن میں بھارت کی حمائت کا اعلان کر چکا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اب جبکہ چینی صدر کے دورہ کے بعد سعودی عرب جائیں گے تو وہ یقیناًایک بہتر پوزیشن میں ہو نگے۔

مزید : کالم