حکومت نے سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو دمادم مست قلند ہو گا ‘ مزدور تنظیمیں

حکومت نے سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو دمادم مست قلند ہو گا ...

 لاہور(لیاقت کھرل) واپڈا کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سمیت 23سے زائد سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا توملک میں بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار واپڈا ہائیڈرو پیغام یونین ، مزدور تنظیموں اور ایپکاکے عہدیداروں نے "پاکستان" سے موبائل فورم میں کیا ہے ۔ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین کے سیکریٹری جنرل خورشید احمد خان نے کہا کہ حکومت اداروں کو پرائیویٹ کرنے کی بجائے اصلاحاتی پیکیج لائے ،واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری سے جہاں بجلی مہنگی ہو گی وہاں توانائی بحران بھی بڑھے گا ۔اس موقع پر واپڈا پیغام یونین کے مرکزی صدر ایس ڈی ثاقب نے کہا کہ واپڈا کی ڈسٹری بیوشن کی نجکاری کے فیصلہ کو واپس نہ لیا گیا تو پارلیمینٹ ہاؤس سمیت اہم اداروں کی بجلی بند کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔واپڈا پیغام یونین کے مرکزی رہنما ملک محمد یوسف نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا ،نجکاری سے ملک میں بے روز گاری اور ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی لہٰذاحکومت ہوش کے ناخن لے۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن کی صدر روبینہ جمیل اور مزدور رہنما یوسف بلوچ نے کہا کہ حکومت اداروں کی نجکاری کے فیصلہ کو واپس لے وگرنہ ملک بھر کی مزدور تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے پارلیمینٹ ہاؤس کا گھیراو کیا جائے گا ۔ ایپکا رہنما وں حاجی محمد ارشاد اورلالہ محمد اسلم نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کا حکومتی فیصلہ غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش ہے ۔حکومت کے اس اقدام سے ناصرف ادارے تباہ ہو جائیں گے بلکہ ان اداروں سے حکومتی رٹ بھی ختم ہو کر رہ جائے گی۔مزدور تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کمزور اداروں کو اصل حالت میں بحال کرنے کیلئے اصلاحاتی پیکیج اورپروگرام متعارف کروائے تاکہ کمزور ادارے ترقی کی راہ پر چل پڑیں۔

مزید : علاقائی