1965ء کی جنگ میں چین کا پاکستان کے حق میں قابل تحسین اقدام

1965ء کی جنگ میں چین کا پاکستان کے حق میں قابل تحسین اقدام

لاہور (نیوز ڈیسک) پاک چین دوستی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ آج سے 50 سال قبل جب 1965ء میں پاکستان کو بھارت کے ساتھ جنگ لڑنی پڑی تب بھی چین نے ایک سچے دوست کا ثبوت دیا اور پاکستان کو ایک بہت بڑی پیشکش کی۔معروف صحافی مجیب الرحمن شامی نے اپنے پروگرام ’نقطہ نظر‘ میں بتایا کہ 1965ء کی جنگ میں پاکستانی وفد چین کے دورے پر روانہ ہوا تاکہ جنگ میں امداد لی جاسکے۔ اس وقت کے پاکستانی سفیر نے جنگی سازوسامان کی لمبی فہرست بنالی۔ پاکستانی وفد میں کسی نے کہا کہ اتنی لمبی فہرست کیوں بنائی گئی ہے تو سفیر نے جواب دیا کہ شاید چینی حکام تمام فہرست منظور نہیں کریں گے اور کچھ چیزیں نکال دیں گے لہذا لمبی فہرست بنائی گئی ہے۔ پاکستانی وفد چینی وزیراعظم چواین لائی سے ملاقات کرنے کے لئے پہنچا تو چینی وزیراعظم نے لمبی فہرست بغیر کوئی بات کہے منظور کرلی جس پر پاکستانی وفد بہت حیران ہوا۔ چینی وزیراعظم نے وفد سے پوچھا کہ آپ نے یہ سامان کیا کرنا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ یہ 15 دن کی جنگ کے لئے لیا جارہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسی جنگ کا کیا کرنا ہے جو 15دن کے لئے لڑی جائے۔ چینی وزیراعظم نے اس موقع پر تاریخی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سازو سامان کا کوئی دستاویزی ریکارڈ نہیں رکھا جائے گا اور چین یہ سامان برادرانہ طور پر پاکستان کو دے گا۔ وزیر اعظم چواین لائی نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین ماؤ زے تنگ کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کو بہت عزیز رکھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ہماری آنے والی نسلیں پاکستانیوں کو یہ کہیں کہ آپ لوگ ہم سے امداد لیتے رہے ہیں

مزید : صفحہ اول