پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے کیا؟

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے کیا؟

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پاکستان میں جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں گہرے سمندری پانیوں والی گوادر کی بندرگاہ کو چین کے خود مختار مغربی علاقے سنکیانگ سے جوڑا جائے گا۔ تین ہزار کلومیٹر طویل اس منصوبے کے تحت مستقبل میں گوادر اور سنکیانگ کے درمیان نئی شاہراہوں اور ریل رابطوں کی تعمیر کے علاوہ گیس اور تیل کی پائپ لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ ابتدا میں اس منصوبے پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ 46 بلین ڈالر کے برابر لگایا گیا ہے اور یہ پروجیکٹ کئی مرحلوں میں 2030 تک مکمل ہو گا۔ اس منصوبے کے لیے زیادہ تر رقوم چینی سرمایہ کاری کی صورت میں مہیا کی جائیں گی لیکن ان مالی وسائل میں وہ نرم قرضے بھی شامل ہوں گے، جو بیجنگ حکومت اسلام آباد کو فراہم کرے گی۔ اس عظیم تر اقتصادی ترقیاتی منصوبے کیلئے پاکستان سڑکوں کی تعمیر، بجلی کی پیداوار کے منصوبوں اور چینی سرمایہ کاری خطوں کے لیے زمین مہیا کرے گا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد حکومت اس منصوبے کیلئے مالی وسائل بھی فراہم کرے گی، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان رقوم کی مالیت کتنی ہو گی اس اکنامک کوریڈور کے کئی سالہ منصوبے پر عمل درآمد کے دوران پاکستان اپنے ہاں کام کرنے والے چینی کارکنوں اور ماہرین کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فرائض انجام دینے والے اپنے خصوصی دستوں کی تعداد بھی بڑھا کر قریب 10 ہزار کر دے گا۔ ترقیاتی امور کے پاکستانی وزیر احسن اقبال کے مطابق اس پروجیکٹ کے تحت قریب 36 بلین ڈالر کے برابر رقوم بجلی کی پیداوار کے متعدد منصوبوں پر خرچ کی جائیں گی کیونکہ پاکستان کو کئی برسوں سے اپنے ہاں بجلی کی پیداوار میں کمی اور طلب میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی طرف سے بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گوادر کی بندرگاہ کو جدید تر بھی بنایا جائے گا، جس کے بعد نہ صرف فاصلے کم ہو جائیں گے بلکہ یورپ کیساتھ تجارت پر اٹھنے والی لاگت بھی واضح طور پر کم ہو جائیگی منصوبے کے تحت پاکستانی حکومت کا ارادہ ہے کہ اس کوریڈور کیساتھ ساتھ کئی ایسے صنعتی پارک اور کاروباری ترقیاتی خطے بھی قائم کیے جائینگے جن سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے بلکہ وہاں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی مزید پرکشش بنایا جائیگا۔

مزید : صفحہ اول